حدیث نمبر: 1432
حدثنا حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " بِئْسَ الطَّعَامُ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الْأَغْنِيَاءُ ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ ، فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہا کرتے تھے۔ اس دعوت ولیمہ کا کھانا بہت برا کھانا ہے جس کے لیے دولت مندوں کو بلایا جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے اس دعوت میں شرکت نہ کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ ، فَضَحِكَ فقَالَ : لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا ، فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ ، فقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : شَرُّ الطَّعَامِ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ،

سفیان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: اے ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے کہ برا کھانا، امیروں کا کھانا ہے؟ تو انہوں نے ہنس کر کہا، حدیث اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے، سفیان کہتے ہیں، میرے والد امیر تھے، اس لیے جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں گھبرا گیا (مجھے پریشانی لاحق ہوئی) اس لیے میں نے اس کے بارے میں زہری سے دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے عبدالرحمٰن اعرج کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سنائی کہ بدترین کھانا، ولیمہ کا کھانا ہے اور اوپر والی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث سنائی۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وعَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ ،

معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور اعرج سے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے، (آگے) امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے۔

وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، نَحْوَ ذَلِكَ .

امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔

وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا ، وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .

زیاد بن سعد نے کہا: میں نے ثابت (بن عیاض) اعرج سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدترین کھانا (ایسے) ولیمے کا کھانا ہے کہ جو اس میں آتا ہے اسے اس سے روکا جاتا ہے اور جو اس (میں شمولیت) سے انکار کرتا ہے اسے بلایا جاتا ہے۔ اور جس شخص نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1432
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہا کرتے تھے۔ اس دعوت ولیمہ کا کھانا بہت برا کھانا ہے جس کے لیے دولت مندوں کو بلایا جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے اس دعوت میں شرکت نہ کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3521]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: دعوت ولیمہ ہو یا عام دعوت اس کو امیروں کے لیے مخصوص کرنا یا بہترین اور اعلیٰ کھانوں کے لیے ان کو ترجیح دینا اور فقراء و مساکین کو نظر انداز کرنا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی کے مطابق آج کل ہو رہا ہے، یہ دعوت ولیمہ کے مقصد کے منافی ہے۔
دعوت میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کا حق ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1432 سے ماخوذ ہے۔