صحيح مسلم
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل
باب اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ: باب: بیوہ کا نکاح میں اجازت دینا زبان سے ہے اور باکرہ کا سکوت سے۔
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حدثنا مَالِكٌ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، قَالَ : نَعَمْ .سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے نافع بن جبیر کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر نہ رہا ہو وہ اپنے ولی کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کے (نکاح کے) بارے میں اجازت لی جائے اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے“؟ تو امام مالک نے جواب دیا: ہاں۔
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُخْبِرُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا " ،قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں سفیان نے زیاد بن سعد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی، انہوں نے نافع بن جبیر کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دیتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کی مرضی پوچھی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔“
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ، وَرُبَّمَا قَالَ : وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا .امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے مذکورہ بالا روایت میں کہ ”شوہر دیدہ اپنے ولی کے اعتبار سے اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے، اور اس کی اجازت، اس کی خاموشی ہے۔‘‘ اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سکوت ہی اس کا اقرار ہے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیوہ عورت اپنے ولی (سر پرست) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری (لڑکی) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت (اس سے پوچھے جانے پر) اس کا خاموش رہنا ہے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3262]
(2) ”کنواری لڑکی“ اگر چہ عورت کے لیے ولی کی رضا مندی شرط ہے مگر عورت کی اپنی رضا مندی بھی ضروری ہے۔ ولی کی رضا مندی اس کہ لیے عورت جذبات میں آکر ایسی جگہ نہ کر بیٹھے جس میں اولیاء کو عار لاحق ہوتی ہو اور عورت کی رضا مندی اس لیے کہ اس نے ساری زندگی گزارنی ہے۔
(3) ”خاموش رہنا“ چونکہ کنواری لڑکی زیاہ شرمیلی ہوتی ہے، ضروری نہیں وہ زبان سے اظہار کرے، لہٰذا اس کا خاموش رہنا بھی جبکہ اس کے سامنے تفصیل کردی جائے، رضا مندی شمار ہوگی، مگر یہ خاموشی خوف اور ناراضی والی نہ ہو۔
(4) اگر کنواری لڑکی زبان سے انکار کردے تو وہاں اس کا نکاح نہیں کیا جائے گا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیوہ (غیر کنواری) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور «یتیمہ» کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ (و اجازت) لی جائے گی، اور (جواباً) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3265]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ «ثیبہ» (شوہر دیدہ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1108]
وضاحت:
1؎:
لفظ ’’أحق‘‘ مشارکت کا متقاضی ہے، گویا غیرکنواری عورت اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدارہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدارہے یہ اوربات ہے کہ ولی کی نسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبرنہیں کیا جا سکتا جب کہ خود اس کی وجہ سے ولی پر جبرکیا جاسکتا ہے، چنانچہ ولی اگرشادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکرہے تو بواسطہ قاضی (حاکم) اس کا نکاح ہوگا، اس توضیح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ حدیث ’’لانكاح إلا بولي‘‘ کے منافی نہیں ہے۔
2؎:
اوراگرمنظورنہ ہوتوکھل کربتادینا چاہئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ والدین اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2100]
بیوہ جہاں کا عندیہ دے، ولی کے لئے وہیں نکاح کرنا زیادہ مستحسن ہے بشرطیکہ کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1870]
فوائد و مسائل:
(1)
یہاں (أَیًِم)
سے مراد وہ عورت ہے جس کا پہلے نکاح ہوا تھا، پھر خاوند سے جدائی ہو گئی خواہ خاوند کی وفات کی وجہ سے ہو یا طلاق کی وجہ سے یعنی اس لفظ سے بیوہ اور طلاق یافتہ دونوں مراد ہیں۔
دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔
(2)
نکاح میں لڑکی کی رضامندی بھی ملحوظ رکھی جائے اور سرپرست کی اجازت بھی ضروری ہے۔
(3)
کنواری لڑکی اگر شرم و حیا کی وجہ سے بول کر رضامندی ظاہر نہ کرسکے تو اس کی خاموشی کو رضامندی تصور کر لیا جائے گا، بشرطیکہ دوسرے قرائن سے محسوس نہ ہو کہ یہ خاموشی ناراضی کی وجہ سے ہے۔
(4)
بیوہ یا مطلقہ کی اجازت واضح طور پر کلام کے ذریعے سے ہونا ضروری ہے اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا کافی نہیں۔
(5)
بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کو چاہیے کہ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ کسی مناسب جگہ نکاح کر لے۔
اس کے سرپرست کو بھی چاہیے کہ دوسرا نکاح کرنے میں اس سے تعاون کرے۔
بے نکاح بیٹھ رہنا درست نہیں الا یہ کہ عمر اتنی زیادہ ہو گئی ہو کہ دوسرا نکاح کرنا مشکل ہو ....یا کوئی اور رکاوٹ ہو۔
«. . . 381- مالك عن عبد الله بن الفضل عن نافع بن جبير بن مطعم عن عبد الله ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الأيم أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأذن فى نفسها، وإذنها صماتها.“ . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت کنواری نہ ہو تو وہ اپنے ولی کی نسبت زیادہ بااختیار ہے اور کنواری لڑکی سے (شادی کی) اجازت مانگی جاتی ہے اور اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 351]
[وأخرجه مسلم 1421، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ جس عورت کا خاوند مر جائے یا وہ طلاق شدہ ہو تو نکاح کے وقت اس کی زبانی اجازت ضروری ہے، اس کا صرف خاموش رہنا کافی نہیں ہے۔
➋ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے۔
● سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی عورت اپنے ولی صاحب رائے رشتہ دار یا سلطان کے بغیر نکاح نہ کرے [السنن الكبريٰ للبيهقي 111/7، وسنده قوي، روايته سعيد بن المسيب عن عمر رضي الله عنه قوي و باقي السند صحيح]
● سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جوعورت ولی کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 111/7، وقال: ”هذا اسناده صحيح“، وسند حسن، روايته سفيان الثوري عن سلامته بن كهيل قويته و باقي السند صحيح]
● رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «أيما امرأة تزوجت بغير إذن وليها فنكاحها باطل۔۔۔» جو عورت بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ [منتقيٰ ابن الجارود 235 حديث: 700 وسنده حسن، المستدرك للحاكم 168/2 ح 2707]
◄ اس حدیث میں سلیمان بن موسیٰ راوی جمہور کے نزدیک ثقہ صدوق ہیں لہٰذا حسن الحدیث ہیں۔ دیکھئے میری کتاب نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام (ص 23-25)
➌ بعض اوقات خاموشی بھی بیان ہوتا ہے إلا یہ کہ کوئی قرینہ اس کی تخصیص کر دے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ والدین اپنی بیٹی کی جس شخص سے شادی کروانا چاہیں، پہلے وہ اپنی بیٹی سے مشورہ کریں گے، بیٹی کی بغیر مشورہ کے شادی کرنا درست نہیں ہے، کنواری کی رضامندی اس کا خاموش رہنا ہے، جبکہ شادی شدہ بول کر اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گی۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم (یعنی بالغ لڑکی) سے اس کے نکاح کے متعلق پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر زبردستی اس کا نکاح کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [سنن ابي داؤد: 2093 سنن الترمذي يه حديث صحيح هے]
اس حدیث کا ہرگز یہ مفہوم نہیں ہے کہ شادی شدہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے اپنے ولی کے بغیر شادی کرواتی پھرے، بلکہ ولی کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں ہے، خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ۔