صحيح مسلم
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلاَنِهِ: باب: نکاح شغار کا بطلان۔
حدیث نمبر: 1416
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْر ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ " ، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ : وَالشِّغَارُ : أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ ، وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي ، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ ، وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے، ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، شغار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو یوں کہے، تم اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دو اور میں اپنی بیٹی کی شادی تجھ سے کر دوں گا، یا اپنی بہن کی شادی مجھ سے کر دو، میں اپنی بہن کی شادی تجھ سے کر دیتا ہوں۔
وحدثناه أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ ابْنِ نُمَيْرٍ .عبدہ نے عبیداللہ (بن عمر) سے اسی سند کے ساتھ یہ (حدیث) بیان کی، اور انہوں نے ابن نمیر کا اضافہ ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3340 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شغار کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے عبیداللہ (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں: شغار یہ تھا کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرتا تھا کہ دوسرا اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کر دے (بغیر کسی مہر کے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3340]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے عبیداللہ (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں: شغار یہ تھا کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرتا تھا کہ دوسرا اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کر دے (بغیر کسی مہر کے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3340]
اردو حاشہ: "اپنی بہن کا" یہ تو مثال ہے ورنہ کسی کے بھی نکاح کی شرط ہو‘ بیٹی ہو یا بہن‘ بھتیجی ہو یا بھانجی وغیرہ‘ کوئی فرق نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3340 سے ماخوذ ہے۔