حدیث نمبر: 1414
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، وَغَيْرِهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ ، فَلَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ " .

عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، کسی مومن کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے، حتیٰ کہ وہ (خود اسے) چھوڑ دے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1414
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن، مومن کا بھائی ہے، اس لیے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے، اور اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، حتی کہ وہ اسے چھوڑ دے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3464]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بیوع سے متعلقہ احکام کی وضاحت آ گے کتاب البیوع میں آئے گی، اور اس بات پر جمہور کا اتفاق ہے، کہ جب پیغام بھیجنے والے کا پیغام منظور کر لیا جائے، تو پھر اس کے بعد پیغام بھیجنا اور نکاح کرنا ناجائز ہے، اگر نکاح کر لے گا گناہ گار ہو گا، لیکن نکاح صحیح ہو گا اور امام داؤد رحمۃ اللہ علیہ ظاہر ی کے نزدیک یہ نکاح فسخ کر دیا جائے گا، اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تعلقات سے قبل پتہ چل جائے گا تو نکاح فسخ ہو گا بعد میں پتہ چلے تو فسخ نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1414 سے ماخوذ ہے۔