صحيح مسلم
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ: باب: بھتیجی اور اس کی پھوپھی یا خالہ اور اس کی بھانجی کا جمع کرنا نکاح میں حرام ہے۔
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعایٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوی اور اس کی پھوپھی کو، اور بیوی اور اس کی خالہ کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ : الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کے بارے میں منع فرمایا کہ ان کو (نکاح میں باہم) جمع کیا جائے: عورت اور اس کی پھوپھی (یا) عورت اور اس کی خالہ۔
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ مَدَنِيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُنْكَحُ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ الْأَخِ ، وَلَا ابْنَةُ الْأُخْتِ عَلَى الْخَالَةِ " .عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بھائی کی بیٹی پر پھوپھی کو نہ بیاہا جائے اور نہ خالہ کے ہوتے ہوئے بھانجی سے نکاح کیا جائے۔“ (اصل مقصود یہی ہے کہ یہ اکٹھی ایک شخص کے نکاح میں نہ آئیں)۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا ، وَعَمَّةَ أَبِيهَا ، بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے قبیصہ بن ذؤیب کعبی نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو (اپنے نکاح میں ایک ساتھ) جمع کرے۔ ابن شہاب نے کہا: ہم اس (منکوحہ عورت) کے والد کی خالہ اور والد کی پھوپھی کو بھی اسی حیثیت میں دیکھتے ہیں۔
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " ،ہشام نے ہمیں یحییٰ سے حدیث بیان کی کہ انہوں (یحییٰ) نے ان (ہشام) کی طرف ابوسلمہ سے (اپنی) روایت کردہ حدیث لکھ کر بھیجی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے۔“
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .شیبان نے یحییٰ سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .ہشام نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر (اپنے) نکاح کا پیغام نہ دے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو (اپنے لیے) انڈیل لے۔ اسے (پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر) نکاح کر لینا چاہیے، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے۔“
وحَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ خَالَتِهَا ، أَوْ أَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَازِقُهَا " .داود بن ابی ہند نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت کے ساتھ، اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے (نکاح میں) ہوتے ہوئے، نکاح کیا جائے اور اس سے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کی پلیٹ میں ہے، وہ (اسے اپنے لیے) انڈیل لے۔ بلاشبہ اللہ عزوجل (خود) اس کو رزق دینے والا ہے۔
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، وَابْنِ نَافِعٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " ،شعبہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو (ایک مرد کے نکاح میں) جمع کیا جائے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حدثنا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .ورقاء نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی (پہلے سے) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی (پہلے سے) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ (پہلے سے) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ۱؎۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1126]
وضاحت:
1؎:
یعنی خالہ پھوپھی نکاح میں ہوتو اس کی بھانجی یا بھتیجی سے اور بھانجی یا بھتیجی نکاح میں ہوتواس کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح نہ کیاجائے، ہاں اگرایک مرجائے یا اس کو طلاق دیدے تودوسری سے شادی کرسکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2065]
ایک وقت میں پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی (یا ان کے برعکس) کو جمع کرنا حرام ہے اور یہ حرمت موقت (عارضی) ہے، ابدی نہیں۔
مختلف اوقات میں بعد ازطلاق یا وفات نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں اور آخری جملہ میں بڑی عورت سے مراد یا تو عمر میں بڑی ہے جو کہ عرفًا ماں، خالہ اور پھوپھی وغیرہ کا احترام پاتی ہے جبکہ چھوٹی لڑکی بیٹی کی طرح سمجھی جاتی ہے۔
یعنی ان سے نکاح نہیں ہو سکتا۔
یا رتبے کا فرق مراد ہے، پھوپھی اور خالہ بڑی ہوتی ہیں جب کہ بھتیجی اور بھانجی بالعموم چھوٹی ہوتی ہیں۔
اس صورت میں یہ پہلی بات کی بہ انداز دیگر تاکید ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3298]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3293]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (نکاح میں) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3290]
«. . . 352- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوی اور اس کی پھوپھی کو (ایک نکاح میں) جمع نہ کیا جائے اور بیوی اور اس کی خالہ کو (ایک نکا ح میں) جمع نہ کیا جائے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 354]
[وأخرجه البخاري 5109، ومسلم 33/1408، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ جس طرح بیک وقت ایک نکاح میں دو بہنوں کو اکٹھا رکھنا حرام ہے اسی طرح بیک وقت بھانجی اور اس کی خالہ یا بھتیجی اور اس کی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔
➋ حدیث قرآن کی شرح، بیان اور تفسیر ہے۔
➌ خاص عام پر مقدم ہوتا ہے۔
➍ دین اسلام میں عام انسانوں کے لئے خیر خواہی اور امن کا پیغام ہے۔
➎ یہ کہنا کہ ہر مسئلے کا ثبوت قرآن مجید سے پیش کرو، باطل اور مردود ہے۔
اس حدیث میں بیع کے بعض مسائل کا ذکر ہے: ① بولی میں قیمت زیادہ کرنے کی دو صورتیں ہیں، پہلی صورت یہ ہے کہ جب اس میں دھوکا نہ ہو تب جائز ہے، اور دوسری صورت یہ ہے کہ اگر اس میں دھوکا مقصود ہو تب ناجائز ہے۔
② بیع پر بیع اور منگنی پرمنگنی کر نا منع ہے، اگر ایک کے ساتھ بیع یا منگنی پکی ہو جائے تو بلا وجہ اس کو تو ڑ نا درست نہیں ہے، اسی طرح اگر بات پکی ہو جائے تو دوسرے کا بیع کرنا اور دوسرے کا منگنی کا پیغام بھیجنا بھی درست نہیں ہے۔
③ شہری دیہاتی سے صرف اس صورت میں بیع کر سکتا ہے جس میں دھوکا نہ ہو، اگر دھوکا ہو تو نا جائز ہے۔
④ آباد گھر کو بے آباد کرنا اور حسد کی آڑ میں اپنی مسلمان بہن کو اجاڑ نے کی غرض سے اس کو طلاق دلوانا درست نہیں ہے، یہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ خواتین اکثر جہنم میں جائیں گی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دین کے خلاف کام کرنے میں نڈر ہوتی ہیں، اور شیطان کی آلہ کار بنتی ہیں، بس اللہ تعالیٰ خواتین کو دین اسلام کا پابند بنائے، آمین۔
بعض لوگ جانور کو فروخت کرنے سے پہلے اس کا دودھ روک لیتے ہیں اور اس سے گا ہک کو دھوکا دینا مقصود ہوتا ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔ اگر اس صورت میں کوئی جانور فروخت ہو جائے تو خریدنے والے کو اختیار ہے کہ اگر رکھنا چاہے تو رکھ لے، اور اگر وہ واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے لیکن جانور کو واپس کرنے کے ساتھ ایک صاع (اڑھائی کلو) کھجور بھی ساتھ دے۔ یہی مسئلہ حق ہے، اور رہے ہمارے بعض بھائی کہ انہوں نے ایک جانور واپس کرنے کے ساتھ ایک صاع کھجور دینے سے صرف تقلید کی بنیاد پر انکار کیا ہے، تو ان کی شیخ الاسلام علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’اعلام الموقعین“ میں خوب خبر لی ہے۔