صحيح مسلم
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل
باب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ " .یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے محمد بن علی (ابن حنفیہ) کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور حسن سے، ان دونوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا۔
وحدثناه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حدثنا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ لِفُلَانٍ : إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ .ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں جویریہ (بن اسماء بن عبید ضبعی) نے امام مالک رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: انہوں (محمد بن علی) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فلاں (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے کہہ رہے تھے: تم حیرت میں پڑے ہوئے (حقیقت سے بے خبر) شخص ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا۔ آگے یحییٰ بن یحییٰ کی امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيٍّ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن علی (ابن حنفیہ) کے دونوں بیٹوں حسن اور عبداللہ سے، ان دونوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن (نکاح) متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا تھا۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فقَالَ : مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ " .عبیداللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے محمد بن علی کے دونوں بیٹوں حسن اور عبداللہ سے، ان دونوں نے اپنے والد (محمد ابن حنفیہ) سے، اور انہوں نے (اپنے والد) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں (فتویٰ دینے میں) نرمی سے کام لیتے ہیں، انہوں نے کہا: ابن عباس! ٹھہریے! بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن اس سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا تھا۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، ابني محمد بن علي بن أبي طالب ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ " .یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے محمد بن علی بن ابی طالب کے بیٹوں حسن اور عبداللہ سے (اور) ان دونوں نے اپنے والد (محمد بن علی ابن حنفیہ) سے روایت کی، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ " .حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرمایا اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے بھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ .سفیان، عبیداللہ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور یونس کی حدیث میں ہے: اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے (منع فرما دیا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعض لوگ اس بارے میں علامہ ابن حزم کو بھی متہم کرتے ہیں حالانکہ حافظ صاحب نے صاف لکھا ہے وقد اعترف ابن حزم مع ذالك بتحریمھا لثبوت قوله صلی اللہ علیه و سلم أنھا حرام إلیٰ یوم القیامة قال فآمنا بھذا القول و اللہ أعلم (فتح الباری پارہ: 21 ص: 63)
یعنی اس کے باوجود علامہ ابن حزم نے متعہ کی حرمت کا اقرار کیا ہے کیونکہ یہ صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قیامت تک کے لیے حرام قرار دیا ہے پس اسی فرمان نبوی پر ہمارا ایمان ہے۔
(1)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر ہمیں حکم دیا کہ ہم گھریلو گدھوں کا گوشت پھینک دیں، کچا بھی اور پکا ہوا بھی۔
پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کے کھانے کا حکم نہیں دیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4226) (2)
اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ گھریلو گدھوں کا گوشت کسی صورت میں جائز نہیں۔
(1)
پہلے نکاح متعہ حلال اور مباح تھا جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں، اس لیے ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم خود کو خصی کیوں نہ کرلیں؟ لیکن آپ نے ہمیں اس اقدام سے باز رکھا، پھر ہمیں اس امر کی رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے (یا کسی بھی چیز)
کے عوض نکاح کر لیں، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔
‘‘ (المائدة: 5/87)
بہرحال نکاح متعہ پہلے مجبوری کے پیش نظر حلال تھا، اس کے بعد اسے ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4615)
روافض متعہ کے قائل ہیں جو سراسر باطل خیال ہے۔
اسلام جیسے با اصول مذہب میں متعہ جیسے نا جائز فعل کی کوئی گنجائش قطعا ً نہیں ہے۔
بعض روایتوں کے مطابق حجۃ الوداع میں متعہ حرام ہوا اور قیامت تک اس کی حرمت قائم رہی۔
حضرت عمر ؓ نے بر سر منبر اس کی حرمت بیان کی اور دوسرے صحابہ ؓ نے سکوت کیا تو اس کی حرمت پر اجماع ثابت ہو گیا۔
1۔
کسی عورت سے ایک مقررہ مدت تک نکاح کرلینے کو متعہ کہتے ہیں۔
پہلے یہ نکاح جائز تھا، پھر اس سے قیامت تک کے لیے روک دیاگیا جیسا کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، نیز حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ اوطاس کے موقع پر تین روز کے لیے نکاح متعہ کی اجازت دی پھر اس سے منع کردیا۔
2۔
حضرت سبرہ بن معبد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے تمھیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، اب اسے اللہ تعالیٰ نے روز قیامت تک حرام کردیا ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 55/4)
رخصت کے بعد چھ مختلف مقامات پر نکاح متعہ کا منسوخ ہوجانا مروی ہے۔
وہ مقام حسب ذیل ہیں: 1۔
خیبر۔
2۔
عمرۃ القضاء۔
3۔
فتح مکہ۔
4۔
سال اوطاس۔
5۔
غزوہ تبوک۔
6۔
حجۃ الوداع۔
2۔
علامہ نووی ؒ لکھتے ہیں کہ متعہ دومرتبہ حرام ہوا، اور دو مرتبہ ہی جائز ہوا، چنانچہ یہ غزوہ خیبر سے پہلے حلال تھا، پھر اسے غزوہ خیبر کے موقع پر حرام کردیا گیا، پھر اسے فتح مکہ کے موقع پر مباح کردیا گیا، عام اوطاس بھی اسے ہی کہتے ہیں۔
اس کے بعد ہمیشہ کے لیے حرام کردی گیا (مسند أحمد: 405/3)
3۔
متعہ کی حدیث پر مسلمانوں کا اجماع ہے البتہ بعض شیعہ اس کی حلت کے قائل وفاعل ہیں۔
واللہ اعلم۔
اباحت (2)
مکروہ تنزیہی (3)
حرمت، صحیح احادیث کی رو سے حرمت کا قول صحیح ہے اور بقول علامہ ابن عبدالبر مالکی، آج مسلمانوں میں اس کی حرمت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، (المغنی ج 13، ص 318)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف یہ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا، اور فتح مکہ کے وقت عارضی اجازت ایک استثنائی رخصت تھی، اور کوئی استثنائی صورت دلیل وحجت نہیں بن سکتی، اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استدلالی نظریہ درست نہیں ہے انہیں اس سے باز آنا چاہیے، اس لیے عرض کیا تم راہ راست سے سرگرداں اور بھٹکے ہوئے ہو۔
2۔
جاہلیت کے دور میں نکاح متعہ کی دو صورتیں تھیں ایک میں کم اجرت یا مزدوری پر چند دنوں کے لیے محض مرد اور عورت کی رضا مندی سے بغیر والدین کی اجازت اور گواہو ں کے متعہ کیا جاتا تھا، جس کو نکاح متعہ کا نام دیا جاتا ہے، اس میں متعہ کرنے والا گھر بسانے کی اور حمل کی صورت میں نتیجہ حمل کو قبول کرنے کی نیت نہیں کرتا تھا، اور نہ عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوتا تھا، اس میں طلاق، ظہار، ایلا، لعان، وراثت وغیرہ نکاح کے احکام جاری نہیں ہوتے تھے، اور دوسری صورت نکاح موقت کی تھی جس میں والدین کی رضا مندی سے طویل عرصہ کے لیے مہر مقرر کر کے گھر بسانے کے لیے نکاح کیا جاتا تھا اس میں گواہ بھی ہوتے تھے اور طلاق بھی، آئمہ اربعہ اور جمہور امت کے نزدیک دونوں صورتیں ناجائز اور حرام ہیں، لیکن امام زفر کے نزدیک نکاح موقت جائز ہے، وقت مقررہ پر طلاق دینے کی شرط ناجائز ہے، اور یہ نکاح ابدی ہو گا، وقت مقررہ کا لعدم ہو گا۔
اصل بات یہ ہے کہ شریعت نے نکاح کچھ اغراض ومقاصد کے لیے مقرر کیا ہے، محض جنسی ہوس پوری کرنا اور پانی اور پانی کا اخراج مطلوب نہیں ہے، کیونکہ فطرتی اور طبعی طور پر مرد اور عورت حصول اولاد کے لیے ایک دوسرے کے لیے کشش کا باعث ہیں اور اس کے لیے گھر بسانے پر آمادہ رہتے ہیں، جس میں سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی میں ایک دوسرے کے لیے محبت و مودت اور رحمت و شفقت رکھی ہے اور اور عورت کو مرد کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے اگر انسان کی فطرت مسخ نہ ہو جائے تو مرد اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کی بیوی ہرجائی ہو، اورنہ کوئی عورت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے میاں کے دل میں کسی اور کے لیے جگہ ہو اور ہر جگہ منہ مارتا پھرے، اس لیے وہ سوکن کو بھی ٹھنڈے پیٹ قبول نہیں کرتی، شریعت اسلامیہ نے کچھ عرصہ تک کے لیے وقتی ظروف واحوال اور لوگوں کے رسوم و رواج کو ملحوظ رکھتے ہوئے جاہلیت کے طریقہ پر قدغن عائد نہیں کی، اگرچہ اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی، اس لیے صرف جنگی سفروں میں اس کو گوارا کیا لیکن جب حالات بہتر ہو گئے مسلمانوں کی حکومت مستحکم ہو گئی اور وہ سیاسی طور پر ایک قوت غالبہ بن گئے تو اس پر کلہاڑا چلا دیا اور جنگ خیبر کے وقت اس کو منع قرار دے دیا پھر فتح مکہ کے موقعہ پر انتہائی شدید ضرورت کی بنا پر صرف تین دن کے لیے اس میں استثنائی صورت پیدا کی گئی اور اس کے بعد اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منع قرار دے دیا گیا اب چونکہ کسی نئے رسول یا نبی کی آمد کا امکان نہیں رہا اس لیے استثنائی صورت کی گنجائش نہیں رہی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقعہ پر تو قیامت تک کے لیے حرمت کی بات نہیں کی تھی لیکن فتح مکہ کے موقعہ پر قیامت تک کے لیے حرمت کا اعلان فرمایا، اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر جہاں ہر علاقہ اور ہر جگہ کے مسلمان کثیر تعداد میں موجود تھے اس کا دوبارہ اعلان فرمایا، نکاح متعہ میں مقصود صرف چند دن کے لیے پانی کا اخراج ہے جبکہ دین و شریعت کی روسے عورت حرث ہے یعنی کھیتی ہے جس سے پیداوار مقصود ہوتی ہے۔
محض بیج ڈال کر اس کو ضائع کرنا مطلوب نہیں ہوتا اسی لیے دبر میں تعلقات قائم کرنا جائز نہیں ہے اگر پانی کا بہاؤ ہی مقصد ہوتا یا ضرورت و مجبوری ہوتی تو کم ازکم حیض کے دنوں میں اس کی گنجائش رکھ لی جاتی اس لیے متعہ کی حرمت میں عقل و نقل اور فطرت انسانی کی روسے کوئی شک و شبہ نہیں، ہاں نکاح موقت میں اگر حقیقی نکاح کی تمام شروط موجود ہوں، یعنی طلاق، ایلاء لعان، ظہار، عدت، وراثت، نان و نفقہ اور اولاد کی ذمہ داری کی قبولیت صرف یہ ناجائز شرط ہو کہ میں اتنے عرصہ کے بعد تمھیں طلاق دے دوں گا۔
تو پھر اس شرط کو بالکل ٹھہرا کراس کو نکاح صحیح قرار دینے کی گنجائش حنفی مسلک میں موجود ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے اگر شرط اتنی طویل مدت کی رکھی گئی جتنی مدت عام طور پر انسان زندہ نہیں رہ سکتا تو پھر یہ نکاح صحیح ہے (فتح الملہم ج3ص739)
مگر متعہ کی حرمت کی صریح احادیث کی موجودگی میں اس نکاح کو صحیح قرار دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ۱؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1121]
وضاحت:
1؎:
عورتوں سے مخصوص مدّت کے لیے نکاح کرنے کونکاح متعہ کہتے ہیں، پھرعلی رضی اللہ عنہ نے خیبرکے موقع سے گھریلو گدھوں کی حرمت کے ساتھ متعہ کی حرمت کاذکرکیا ہے یہاں مقصد متعہ کی حرمت کی تاریخ نہیں بلکہ ان دوحرام چیزوں کا تذکرہ ہے متعہ کی اجازت واقعہ اوطاس میں دی گئی تھی۔
حرام ہوگیا، اوراب اس کی حرمت قیامت تک کے لیے ہے، ائمہ اسلام اورعلماء سلف کا یہی مذہب ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1794]
وضاحت: 1؎: ایک خاص وقت تک کے لیے کسی عورت سے نکاح کرنا، پھر مدت پوری ہوجانے پر دونوں کا جدا ہوجانا اسے متعہ کہتے ہیں۔
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3368]
علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن نکاح متعہ ۱؎ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4339]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1961]
فوائد و مسائل:
(1)
’’نکاح متعہ‘‘ ایسے عارضی نکاح کو کہتے ہیں جس میں مرد اور عورت ایک خاص مدت تک میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا قبول کرتے ہیں یہ مدت ختم ہوتے ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
اس قسم کا نکاح پہلے جائز تھا، پھر منع کر دیا گیا۔
اب یہ حرام ہے۔
(2)
عصمت فروشی کا کاروبار حرام ہے اگرچہ اسے بظاہر ’’نکاح متعہ‘‘ کے نام سے جائز قرار دینے کی کوشش کی جائے۔
(3)
شرعی نکاح مرد اور عورت کے درمیان زندگی بھر اکٹھے رہنے کا معاہدہ ہوتا ہے۔
’’نکاح حلالہ‘‘ میں چونکہ ہمیشہ اکٹھے رہنا مقصود نہیں ہوتا اس لیے یہ بھی حرام ہے۔
(4)
پالتو گدھا حرام ہے۔
اسی سے ملتا جلتا ایک جانور جنگل میں ہوتا ہے جسے اہل عرب ’’حمار وحشی‘‘ (جنگلی گدھا)
کہتے ہیں وہ حلال ہے۔
ہمارے یہاں سے نیل گائے کہا جاتا ہے۔
«. . . عن على بن ابى طالب رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر وعن اكل لحوم الحمر الإنسية . . .»
”. . . سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر والے دن عورتوں کے متعہ اور گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 401]
[و اخرجه البخاري 4216، 5523، و مسلم 1407/29، من حديث مالك به]
تفقہ:
➊ متعۃ النکاح کسی عورت سے لطف اندوزی کے لئے عارضی ازدواجی تعلق کو کہتے ہیں۔ ابتدائے اسلام میں (اضطراری حالت میں مردار کی طرح) یہ جائز تھا اور بعد میں ہمیشہ کے لئے منع کر دیا گیا۔ سیدنا سبرہ بن معبد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یا ایھا الناس! انی قد کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء وان اللہ قد حرم ذلك الى يوم القيامة»
”اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور (اب) اسے اللہ نے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔۔۔“ [صحيح مسلم: 1406/21 [3422]]
➋ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے فرمایا: «ما رايت قوماً أشبه بالنصارى من السبئية» ”میں نے سبائیوں سے زیادہ نصاریٰ سے مشابہ کوئی قوم نہیں دیکھی۔“
اس اثر کے راوی أحمد بن یونس رحمہ اللہ نے فرمایا: «هم الرافضة» ”سبائیوں سے مراد رافضی ہیں۔“ [الشريعة للاجري ص 955 ح 2028 و سنده صحيح]
➌ بعض علماء اس حدیث اور دیگر احادیث صحیحہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے گدھوں کو حرام نہیں سمجھتے تھے لہٰذا ان علماء کا ایسا سمجھنا احادیث صحیحہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
➍ اگرچہ گدھوں کا حرام ہونا قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے لیکن احادیث صحیحہ سے صاف ثابت ہے کہ گدھے حرام ہیں۔ یہ احادیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ درجہ ذیل صحابہ سے بھی مرفوعاً ثابت ہیں: جابر بن عبدالله [صحيح بخاري: 4219 و صحيح مسلم: 1941/36]
براء بن عازب [صحيح بخاري: 4224، 5525، 5526 و صحيح مسلم: 1938/28] [5012]]
عبد الله بن ابي اوفيٰ [صحيح بخاري: 3155، 5525، 5526 وصحيح مسلم: 1937/26 [5010]]
انس بن مالك [صحيح بخاري: 2991 و صحيح مسلم: 1940]
ابوثعلبه الخشني [صحيح بخاري: 5527 و صحيح مسلم: 1936/23 [5007]]
عبدالله بن عمر [صحيح بخاري: 5521 و صحيح مسلم: 24/561 بعد ح1936 [5008]]
سلمه بن الاكوع [صحيح بخاري: 2477 وصحيح مسلم: 33/1802 بعد ح 1939 [5018]]
عبد الله بن عباس [صحيح بخاري: 4227 و صحيح مسلم: 1939]
الحكم بن عمرو الغفاري [مسند الحميدي بتحقيقي: 861 و سنده صحيح، نسخة الاعظمي: 859]
مقدام بن معدي كرب الكندي [سنن ابي داؤد: 4604 وسنده صحيح، و مسند أحمد 131/4]
عبد الله بن عمرو بن العاص [سنن ابي داود: 3811 وسنده حسن] رضي الله عنهم اجمعين
یہ حدیث متواتر ہے۔ ديكهئے: [نظم المتناثر للكتاني ص162 ح163]
➎ خاص دلیل عام دلیل پر مقدم ہوتی ہے۔
➏ احادیث صحیحہ قرآن مجید کا بیان، تشریح اور تفسیر ہیں۔
➐ اگر احادیث صحیحہ و فہم سلف صالحین کو رد کر کے صرف لغت، اشعار اور منکرین حدیث کی تحریفات کو سامنے رکھ کر قرآن مجید کی ”تفسیر“ کی جائے تو سوائے گمراہی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
➑ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی اسی طرح واجب ہے جیسے الله تعالیٰ کا حکم واجب العمل ہے۔
➒ بہت سے لوگ دلائل صحیحہ معلوم ہونے کے باوجود دنیا میں اپنی مرضی کرتے رہتے ہیں۔
➓ سیدنا علی رضی اللہ عنہ متعۃ النکاح کی حرمت کے راوی اور قائل ہیں لہٰذا ان سے محبت کا دعوی کرنے والوں کو ان کی اتباع کرنی چاہئے۔