حدیث نمبر: 1405
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا : خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا يَعْنِي : مُتْعَةَ النِّسَاءِ " .

شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حسن بن محمد سے سنا، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع (فائدہ اٹھانے)، یعنی عورتوں سے (نکاح) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حدثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حدثنا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ " .

روح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے حسن بن محمد سے، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے (اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی۔

وحدثنا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاء : قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا ، فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ ، فقَالَ : " نَعَمِ اسْتَمْتَعَنْا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ " .

عطاء نے کہا: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ ، وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ ہم کھجور اور آ ٹے کی ایک مٹھی کے عوض چند دن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار میں متعہ کر لیا کرتے تھے، پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے عمرو بن حریث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ پر منع کر دیا۔

حدثنا حدثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عَنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ ، اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ ، فقَالَ جَابِرٌ : فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا .

ابونضرہ سے روایت ہے، کہا: میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا (ملاقاتی) آیا اور کہنے لگا: حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے دونوں متعتوں (حج تمتع اور نکاح متعہ) کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہ دونوں کام کیے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا، پھر ہم نے دوبارہ ان کا رخ نہیں کیا۔

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حدثنا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا " .

حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس والے سال (فتح مکہ کے سال) عورتوں سے متعہ کرنے کی تین دن کے لیے اجازت دی تھی، پھر اس سے منع فر دیا تھا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1405
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5118 | صحيح مسلم: 1405

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5118 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ قیامت تک متعتہ النکاح حرام ہے`
«. . . عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَا: كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا . . .»
". . . جابر بن عبداللہ انصاری اور سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح کر سکتے ہو . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ: 5118]
فوائد و مسائل:
یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے: [صحیح مسلم:1405 یا 3413]
[مسند احمد:51، 47/4]
[مصنف عبدالرزاق:498/17، ح:14033]
[السنن الکبریٰ للنسائی:5539]
[شرح معانی الآثار للطحاوی:24/3] وغیرہ
متعہ کی اجازت منسوخ ہے اور اب قیامت تک متعتہ النکاح حرام ہے۔
تنبيه:
اس حدیث کو عمرو بن دینار تابعی سے امام شعبہ، روح بن القاسم اور ابن جریج نے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [المسند الجامع:101/4،ح:2511]
اس حدیث کے بہت سے شواہد [صحیح مسلم:3418] وغیرہ میں موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس توفيق الباري في تطبيق القرآن و صحيح بخاري، حدیث/صفحہ نمبر: 36 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5118 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5118. سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہیں نکاح متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لہذا تم نکاح متعہ کر سکتے ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5118]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے نکاح متعہ کے متعلق نہی کا عنوان قائم کیا ہے جبکہ اس حدیث میں اس کی اجازت کا ذکر ہے؟ دراصل صحیح مسلم میں ہے، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا، (صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 3418 (1405)
اگرچہ ایک روایت میں ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں اس سے منع فرمایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتناعی حکم کے پیش نظر اس سے منع کیا تھا جیسا کہ حدیث میں ہے: حضرت عمر رضي اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک نکاح متعہ کی اجازت دی تھی، پھر اس سے منع کر دیا تھا۔
(سنن ابن ماجة، النکاح، حدیث: 1963)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف تشریف فرما ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نکاح متعہ کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیهقي: 206/7، و فتح الباري: 216/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5118 سے ماخوذ ہے۔