صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ وَفَضْلِ الصَّلاَةِ فِيهِ وَزِيَارَتِهِ: باب: مسجد قباء کی فضیلت اور اس میں نماز پڑھنے کی اور اس کی زیارت کرنے کی فضیلت۔
حدثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَزُورُ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء کی زیارت کے لیے سوار ہو کر اور پیدل چل کر جایا کرتے تھے۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا ، فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ .امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں تشریف لے جاتے، سوار اور پیدل، اور اس میں دو رکعتیں پڑھتے، ابوبکر اپنی روایت میں بیان کرتے ہیں، ابن نمیر نے کہا، اس میں دو رکعتیں پڑھتے۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا " ،ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لاتے تھے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعَنِ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ الثّقَفِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ .خالد بن حارث نے ہمیں ابن عجلان سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ قطان کی حدیث کے مانند روایت کی۔
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی کہ عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لاتے تھے۔
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .ہمیں اسماعیل بن جعفر نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لاتے تھے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً كُلَّ سَبْتٍ ، وَكَانَ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ " .مجھے زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر ہفتے کے روز قباء آتے تھے، وہ کہا کرتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ہر ہفتے کے روز یہاں تشریف لاتے تھے۔
وحدثناه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً يَعْنِي كُلَّ سَبْتٍ كَانَ يَأْتِيهِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا " ، قَالَ ابْنُ دِينَارٍ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قباء، ہر ہفتہ تشریف لاتے، کبھی سوار ہو کر اور کبھی پیدل چل کر، ابن دینار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : كُلَّ سَبْتٍ .سفیان ثوری نے ابن دینار سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، مگر ہر ہفتے کے روز کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
قباء، مدینہ طیبہ کے نزدیک وہ بستی ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوقت ہجرت کچھ دن ٹھہرے تھے۔
اس بستی کی مسجد بھی ایک تاریخی جگہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذاتِ خود کبھی پیدل اور کبھی سوار ہوکر وہاں تشریف لے جاتے۔
یہ قدرومنزلت مدینہ طیبہ کے مقامات کے علاوہ کسی اور جگہ کو نصیب نہیں ہوئی۔
واللہ أعلم۔
اللہ ہر مسلمان کو نصیب فرمائے۔
آمین۔
یہی وہ تاریخی مسجد ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے ﴿لَمَسجِد اُسِّسَ عَلَی التَّقوٰی مِن اَوَّلِ یَومٍ اَحَقُّ اَن تَقُومَ فِیہِ فِیہِ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھَّرُوا وَاللّٰہُ یُحِبُّ المُطَّھَّرِینَ﴾ (التوبة: 108)
یعنی یقیناً اس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے۔
اس میں تیرا نماز کے لیے کھڑا ہونا انسب ہے۔
کیونکہ اس میں ایسے نیک دل لوگ ہیں جو پاکیزگی چاہتے ہیں۔
اور اللہ تعالی پاکی چاہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مسجد قباء ان مساجد سے ہے جن کی طرف پیدل اور سوار ہو کر جانے میں چنداں حرج نہیں اور ایسا کرنا رخت سفر باندھنے سے متعلق حکم امتناعی میں داخل نہیں۔
جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی تو اہل قباء اور باشندگان عوالی نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد نبوی میں آئے تھے، اس بنا پر جمعہ کے دن مسجد قباء نمازیوں سے خالی رہتی تھی۔
اس کی تلافی کے لیے رسول اللہ ﷺ ہفتے کے دن مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ جمعے کے دن مشاغل کا ہجوم ہوتا تھا اور ہفتے کے روز فرصت کے لمحات میسر آنے پر آپ مسجد قباء کا رخ فرماتے تاکہ اہل قباء کی خبر گیری کی جائے اور جمعہ کے لیے مدینہ منورہ نہ جا سکنے والوں کا حال دریافت کیا جائے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے طور پر بعض اعمال صالح کی ادائیگی کے لیے کسی دن کو متعین کیا جا سکتا ہے اور پھر اس پر مداومت کرنا بھی جائز ہے۔
(فتح الباري: 90/3)
اس لیے آنحضرت ﷺ نے ہر دو عمل کر کے دکھلائے۔
پھر بھی پیدل جانے میں زیادہ ثواب یقینی ہے۔
مسجد قباء میں حاضری مسجد نبوی ہی کی زیارت کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔
لہٰذا اسے حدیث لا تشد الرحال کے تحت نہیں لایا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
احادیث میں مسجد قباء آنے اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے، چنانچہ حضرت سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے گھر سے نکلے اور مسجد قباء جا کر نماز پڑھے تو اسے عمرہ ادا کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
‘‘ (سنن النسائي، المساجد، حدیث: 700)
ایک روایت میں ہے کہ جو شخص گھر سے وضو کر کے مسجد قباء آئے اور اس میں نماز ادا کرے تو اسے عمرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
(سنن ابن ماجة، إقامةالصلوات، حدیث: 1412)
عمر بن شبہ نے تاریخ مدینہ منورہ میں صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا مجھے بیت المقدس دو دفعہ جانے سے زیادہ محبوب ہے۔
اگر لوگ مسجد قباء کی فضیلت پر مطلع ہو جائیں تو دور دراز سے چل کر وہاں پہنچیں۔
(فتح الباري: 90/3)
لیکن مسجد نبوی کی تعمیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس حصہ لیا تھا اور وہیں ہمیشہ نمازیں ادا فرماتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ﴿أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى﴾ فرمایا، اورآغاز تعمیر کے اعتبار سے مسجد قباء اولین مسجد ہے اس لیے جمہور اس کو بھی اس کا مصداق قرار دیتے ہیں۔
مسجد قباء مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں دو تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
جس میں عمروبن عوف کا خاندان مقیم تھا، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے انھیں کے ہاں آ کر ٹھہرے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ، وہاں مسجد میں تشریف لے جاتے، تاکہ ان لوگوں کے حالات سے آ گاہ ہو سکیں، اور جو لوگ جمعہ پڑھنے مسجد نبوی میں کسی عذر کی بنا پر نہیں آ سکے تھے، ان سے مل لیں، اور بقول علامہ عینی، جمعہ کے دن چونکہ جمعہ کے وقت، مسجد قباء میں نماز نہیں ہوتی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور نماز سے اس کا بھی تدارک ہو جاتا، اور اس طرح یہود کی بھی مخالفت ہو جاتی تھی، جو ہفتہ کے دن میں کام کے لیے نہیں نکلتے تھے۔
اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے طور پر کسی نیک کام کے لیے دن مقرر کر سکتا ہے، لیکن اس کو دین وشریعت قرار دے کر دوسروں کو اس کی تلقین وتبلیغ نہیں کر سکتا، اور نہ ہی اس میں تقدیم وتاخیر کوجرم وگناہ قرار دے سکتا ہے اپنی سہولت وآسانی کے لیے اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار (دونوں طرح سے) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں " اور دو رکعت پڑھتے تھے " (کا اضافہ ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2040]
مدینہ منورہ کی مشروع ومسنون زیارات میں سے اہم ترین زیارت مسجد قباء کی ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی تو یہ ہے۔
کہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب عمرے کا سا ثواب ہے۔
(سنن ابن ماجة، إقامة الصلاة، حدیث: 1411)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء (کبھی) سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل جاتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 699]
«. . . 279- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأتي قباء ماشيا وراكبا. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل کر اور سوار ہو کر (دونوں حالتوں میں) قبا کو جایا کرتے تھے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 191]
تفقہ:
➊ پیدل یا سوار ہو کر مسجد قبا جانا اور دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے۔
➋ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے دن قبا جاتے تھے اور ابن عمر (رضی اللہ عنہما) بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [صحيح مسلم: 521/1399، دارالسلام: 3396]
➌ گھر سے وضو کر کے / مسجد قبا میں نماز پڑھنا عمرے کے (ثواب کے) برابر ہے۔ دیکھئے [سنن الترمذي 324 وسنده حسن وقال الترمذي: حسن غريب، وسنن ابن ماجه 1412]