صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ. باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، اور وہ مسجد نبوی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ؟ قَالَ : قَالَ أَبِي : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ؟ قَالَ : فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ ، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ ، ثُمَّ قَالَ : " هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ .حمید خراط سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری میرے ہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا: آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارے میں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، کس طرح ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی ایک اہلیہ محترمہ کے گھر میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! دونوں مسجدوں میں سے کون سی (مسجد) ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ کہا: آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں زمین پر مارا پھر فرمایا: ”وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔“ مدینہ کی مسجد کے بارے میں (ابوسلمہ نے) کہا: تو میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد سے سنا، وہ اسی طرح بیان کر رہے تھے۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ ، فِي الْإِسْنَادِ .حمید (طویل) نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی۔ اور انہوں نے سند میں عبدالرحمٰن بن ابوسعید کا ذکر نہیں کیا (براہ راست حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی)۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ میری یہ مسجد ہے (یعنی مسجد نبوی)۔" [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 698]
سے مراد مسجد قباء ہے کیونکہ یہ شان نزول کے زیادہ موافق ہے مگر اس حدیث کی رو سے اس سے مراد مسجد نبوی ہے۔ دراصل دونوں مسجدیں ان الفاظ کا مصداق ہیں کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے اور ظاہر ہے دونوں کی بنیاد لازماً تقویٰ پر ہے مگر چونکہ مسجد نبوی کی باقی تعمیر بھی آپ نے فرمائی اور آپ کی باقی زندگی اسی مسجد میں گزری، اسی مسجد کو آپ کے شب و روز سے برکتیں حاصل ہوئیں، لہٰذا یہ مسجد ہی زیادہ مستحق ہے کہ اسے اس کا مصداق قرار دیا جائے، البتہ مسجد قباء کو بھی ہفتے کے بعد کچھ دیر کے لیے آپ کی زیارت اور قدم بوسی نصیب ہوتی تھی، لہٰذا اس میں بھی خیر کثیر ہے۔ تبھی تو وہاں بھی نمازیوں کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے، اگرچہ مسجد نبوی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ۱؎ (کہ وہ کون سی ہے؟) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: " وہ میری یہی مسجد (مسجد نبوی) ہے " ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3099]
وضاحت:
1؎:
یہ ارشادباری ﴿لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ﴾ (التوبة: 108) کی طرف اشارہ ہے۔
2؎:
اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے یا مسجد قباء اس حدیث میں ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے، جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، اورآیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، تو اس حدیث میں فرمان رسول ﷺ ’’وہ یہی مسجد نبوی ہے‘‘ کا کیا جواب ہے؟ جواب یہ ہے کہ آپﷺ کے جواب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ میری اس مسجد کی بھی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد پڑی ہے، علماء کی توجیہات کا یہی خلاصہ ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہو گئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۱؎ تو خدری نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجد قباء ہے، چنانچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: " وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں (یعنی مسجد قباء میں) بھی بہت خیر و برکت ہے " ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 323]
1؎:
یعنی سورہ توبہ میں ارشاد الٰہی ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ﴾ سے کون سی مسجد مراد ہے؟۔
2؎:
یہ حدیث صرف اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى﴾ سے مراد مسجد نبوی ہی ہے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مسجد نبوی کی بھی تقوی پر ہی بنیاد ہے، یہ مطلب لوگوں نے اس لیے لیا ہے کہ قرآن میں سیاق و سباق سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ارشاد ربانی مسجد قباء کے بارے میں ہے۔