صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ: باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو عاصم الحنفي وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي ، كَانَتْ لِأَبِي ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي ، أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَكَ يَمِينُهُ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِك ؟ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ : " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا ، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " .علقمہ بن وائل رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں: کہ ایک حضر موت کا آدمی اور ایک کندہ کا آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضرمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ میری، میرے باپ کی طرف سے زمین پر قبضہ کر بیٹھا ہے۔“ تو کندی نے کہا: یہ زمین میری ہے، میرے قبضہ میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس میں کچھ حق نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: ”کیا تیرے پاس گواہ ہے؟“ اس نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے قسم لے سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ آدمی بدکار ہے، اسے کوئی پروا نہیں کس قسم کی قسم اٹھاتا ہے، کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے اس کے سوا کچھ نہیں لے سکتے۔“ وہ قسم اٹھانے لگا، تو جب قسم کے لیے مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اللہ کی قسم! اگر اس نے ظلماً اس کا مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی، تو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ ، قَالَ : بَيِّنَتُكَ ؟ قَالَ : لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ ، قَالَ : يَمِينُهُ ؟ قَالَ : إِذًا يَذْهَبُ بِهَا ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، قَالَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ .زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ابوولید سے حدیث سنائی (زہیر نے «عن أبی الولید» کے بجائے «حدثنا هشام بن عبدالملك» ہمیں ہشام بن عبدالملک نے حدیث سنائی، کہا) ہشام بن عبدالملک نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے (اپنے والد) حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ کے پاس دو آدمی (ایک قطعہ) زمین پر جھگڑتے آئے، دونوں میں ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے دور جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا تھا، وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا۔ آپ نے فرمایا: ”(سب سے پہلے) تمہارا ثبوت (شہادت)؟“ اس نے کہا: میرے پاس ثبوت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(تب فیصلہ) اس کی قسم (پر ہو گا)“ اس نے کہا: تب تو وہ زمین لے جائے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے علاوہ کچھ نہیں۔“ حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظلم کرتے ہوئے کوئی زمین چھینی، وہ اس حالت میں اللہ سے ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اسحاق نے اپنی روایت میں (دوسرے فریق کا نام) ربیعہ بن عیدان (باء کے بجائے یاء کے ساتھ) بتایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: ” کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ “ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے “ (جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3245]
1۔
کسی مقدمہ کے طرفین جس میں کسی صالح کے متعلق گمان ہو کہ سچ کہنا ہوگا۔
اورکسی فاسق کے متعلق یہ وہم ہو کہ یہ جھوٹا ہوگا۔
قاضی کے رو برو برابر ہوتے ہیں۔
ان کا فیصلہ شرعی اصولوں کے تحت ہی ہوگا۔
کہ مدعی گواہ پیش کرے۔
یا مدعا علیہ قسم کھائے۔
(خطابی)2۔
کسی تنازع (جھگڑے) میں طرفین کا ایک دوسرے کو جھوٹ خیانت یا ظلم وغیرہ سے مہتم کرنا ایسی باتیں ہوتی ہیں۔
کہ ان کے متعلق کوئی دعویٰ قبول نہیں کیا جاسکتا۔
(خطابی)3۔
مدعا علیہ کسی بھی دین وملت سے تعلق رکھتا ہو اس سے قسم لی جائے گی جو تسلیم ہوگی۔
4۔
جھوٹی قسم کا عتاب انتہائی شدید ہے۔