حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا : حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ ، يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .

عبداللہ بن عبدالرحمان بن یحس نے مجھے ابوعبداللہ قراظ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہ دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا: کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس شہر (یعنی مدینہ) والوں کی برائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا : حدثنا حَجَّاجٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ ، كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ : بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ : شَرًّا ،

محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا، ہم سے حجاج نے حدیث بیان کی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی، انہوں (حجاج اور عبدالرزاق) نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انہوں نے (ابوعبداللہ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) میں سے تھے، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”برائی کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء (برائی) کی جگہ شر (نقصان) کا لفظ بیان کیا۔

حدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

امام صاحب، اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1386
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1386 | سنن ابن ماجه: 3114

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3114 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مدینہ کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3114]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح مکی حرم کا احترام فرض ہےاسی طرح مدنی حرم کا احترام بھی فرض ہے۔

(3)
حرم کی بے حرمتی کرنے والے پر دنیا میں ہی عذاب آجائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3114 سے ماخوذ ہے۔