صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
بَابُ : اَلْمَدِينَهُ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُسمَّي طَابَةُ وَّ طَيْبَهٌ باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1385
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ : طَابَةَ " .حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام ’’طابہ‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3357]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: طَابَہ اور طَیبَہ کا معنی پاکیزہ اور خوشگوار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کو اسم بامسمیٰ کر دیا، مدینہ میں روحوں کے لیے جو خوشگواری جو سکون وطمانیت اور پاکیزگی ہے وہ اسی کا خاصہ اور امتیاز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کو اسم بامسمیٰ کر دیا، مدینہ میں روحوں کے لیے جو خوشگواری جو سکون وطمانیت اور پاکیزگی ہے وہ اسی کا خاصہ اور امتیاز ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1385 سے ماخوذ ہے۔