حدیث نمبر: 1384
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ " .

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ طیبہ (پاک) ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”یہ میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتی ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1384
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1884 | صحيح البخاري: 4589 | سنن ترمذي: 3028

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4589 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4589. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت کی تفسیر میں فرمایا: ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو۔‘‘ کچھ منافقین جو بظاہر نبی ﷺ کے ساتھ تھے جنگ اُحد میں (آپ کو چھوڑ کر) مدینہ طیبہ واپس آ گئے تو ان کے متعلق مسلمانوں میں دو گروہ بن گئے: ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے بھی لڑائی کریں گے جبکہ دوسرا گروہ ان سے لڑنے پر آمادہ نہ تھا تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: (مسلمانو) تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مدینہ، طیبہ ہے۔ یہ ناپاکی اور خباثت کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ، چاندی کو میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔‘‘ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4589]
حدیث حاشیہ:

ان منافقین نے واپس جا کر اپنی منافقت کا ثبوت مہیا کردیا ہے، اب اگر تم چاہو کہ ہمیں ان سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے شاید وہ راہ راست پر آجائیں تو یہ بات تمہارے بس میں نہیں۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے منافقین واجب القتل ہیں کیونکہ ان کے عزائم یہ ہیں کہ تمھیں بھی اپنے جیسا بنا کر چھوڑیں۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ منافقین کی ایک قسم ایسی بھی تھی جو مدینے کے ارد گرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرورکرتے تھے مگر عملی طور پر وہ اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھےان کےلیے یہ میعار مقررکیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کرکے تمہارے پاس مدینہ آجائیں اور تمہارے ساتھ شامل ہوجائیں تو اس صورت میں تم انھیں سچا بھی خیال کرو اور ان سے ہمدردی بھی کرو اور اگر وہ گھر بار چھوڑنے کی قربانی نہ دیں تو انھیں قتل کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرو لیکن اس حکم قتل سے دو قسم کے منافق مستثنیٰ ہیں۔

۔
جو کسی ایسی قوم میں چلے جائیں جن سے معاہدہ امن ہوچکا ہے ان کا تعاقب نہ کیا جائے۔

۔
وہ منافقین جو غیر جانبدار رہناچاہتے ہوں تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے یا ان کے ساتھ مل کر تم سے لڑنا نہ چاہتے ہوں۔
ان دو قسم کے لوگوں سے جنگ نہ کی جائے۔

امام بخاری ؒ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان سے منافقین مدینہ ہی مراد ہیں۔
ایک تو آپ نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی حدیث پیش کی ہے، دوسرے مدینہ طیبہ کے متعلق صراحت کی ہے کہ وہ بھٹی کی طرح ہے جو چاندی کا میل کچیل دورکردیتی ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4589 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1884 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1884. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ اُحد کے لیے مدینہ طیبہ سے نکلے اس دوران آپ کے بعض ساتھی واپس چلے گئے تو کچھ کہنے لگے: ہم انھیں قتل کردیں گے اور اس کے برعکس چند لوگوں نے کہا: ہم انھیں قتل نہیں کریں گے۔ اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی: ’’تمہارا کیا حال ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو۔‘‘ ان حالات میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’مدینہ طیبہ(منافق) آدمیوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طرح آگ لوہے سے زنگار دور کرتی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1884]
حدیث حاشیہ:
(1)
مدینہ طیبہ کا وصف مذکور ان لوگوں کے لیے ہے جو اسلام کی خواہش رکھتے ہوئے مسلمان ہوئے، پھر ان کے دل میں خرابی پیدا ہوئی۔
ایسے لوگوں کو مدینہ طیبہ اپنے اندر پناہ نہیں دیتا، بصورت دیگر مدینہ طیبہ میں منافقین رہتے تھے، وہیں مرے اور دفن ہوئے۔
مدینہ طیبہ نے انہیں اپنے سے دور نہیں کیا کیونکہ مدینہ طیبہ ان کی اصل قیام گاہ تھی۔
وہ اسلام کی حیثیت سے وہاں نہیں رہتے تھے نہ انہیں مدینہ طیبہ سے محبت ہی تھی۔
ان کا وہاں رہنا صرف اس لیے تھا کہ وہ ان کا اصلی وطن اور وہی ذریعۂ معاش تھا۔
(عمدةالقاري: 598/7) (2)
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ طیبہ کا یہ وصف رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کے ساتھ خاص ہو کہ آپ کے دور میں مدینہ طیبہ سے نفرت کرتے ہوئے وہی نکلتا تھا جس کے دل میں ایمان کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا تعلق دجال اکبر کی آمد کے ساتھ مخصوص ہو کیونکہ اس کی آمد پر مدینہ طیبہ سے جھٹکوں کے ذریعے سے تمام ان لوگوں کو نکال دیا جائے گا جو دل کے روحانی مریض ہوں گے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1884 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3028 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن یزید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ (ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے) لوٹ آئے ۱؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ۱؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو (إن شاء اللہ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی (میل و زنگ) کو دور کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3028]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جہاد میں شریک نہ ہوئے۔

2؎:
 ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو‘‘ (النساء: 88)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3028 سے ماخوذ ہے۔