صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لأْوَائِهَا: باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ : أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فقَالَ لَهُ : إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ ، فقَالَ النَّاسُ : وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ ، مَا أَدْرِي كَيْفَ ، قَالَ : " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا ، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا " ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " ارْتَحِلُوا " ، فَارْتَحَلْنَا ، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ ، الشَّكُّ مِنْ : حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ .مہری رحمۃ اللہ علیہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ مدینہ میں گزران کی مشکل اور شدت سے دوچار ہونا پڑا تو وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے عرض کیا کہ میرے بال بچے بہت ہیں، اور ہم مشقت و تنگی میں مبتلا ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں، اپنے اہل و عیال کو کسی سرسبز و شاداب علاقہ میں منتقل کر لوں، تو ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ایسے نہ کر، مدینہ کو ہی لازم پکڑ، کیونکہ ہم نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، میرا خیال ہے، انہوں نے کہا، حتی کہ ہم عسفان پہنچ گئے، تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند راتیں قیام فرمایا، تو لوگوں نے کہا، ہم یہاں بے مقصد یا بے کار ٹھہرے ہوئے ہیں اور پیچھے ہمارے بال بچوں کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہے، ہم ان کے بارے میں بے خوف نہیں ہیں اور یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہاری طرف سے یہ کیا بات پہنچی ہے؟ (راوی کا قول ہے، میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا الفاظ فرمائے) اس ذات کی قسم، جس کی میں قسم اٹھاتا ہوں، یا جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں پختہ ارادہ کر چکا ہوں، یا اگر تم چاہو (راوی کا قول ہے، میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے کیا کہا) میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم دوں اور جب تک مدینہ نہ پہنچ جاؤں، اس کی کوئی گرہ نہ کھولوں‘‘ (یعنی مدینہ تک مسلسل سفر کروں) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کی حرمت کا اعلان کیا، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں طرف کے دروں (پہاڑوں) کے درمیان کا علاقہ واجب الاحترام ہے، اس میں خون ریزی نہ کی جائے اور نہ اس میں کسی کے خلاف ہتھیار اٹھایا جائے، اور کسی درخت کے پتے جانوروں کی ضرورت کے سوا نہ جھاڑے جائیں، اے اللہ! ہمارے شہر میں برکت دے، اے اللہ! ہمارے مد میں برکت ڈال، ہمارے صاع میں برکت ڈال، اے اللہ ہمارے مد میں برکت ڈال، اے اللہ ہمارے صاع میں برکت ڈال، اے اللہ! ہمارے شہر مدینہ میں برکت نازل فرما، برکت کے ساتھ دو برکتیں اور نازل فرما، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس کی قسم! مدینہ کی کوئی گھاٹی یا درہ نہیں ہے، جس پر تمہاری واپسی تک دو فرشتے پہرہ نہ دے رہے ہوں‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فرمایا: ”کوچ کرو۔‘‘ تو ہم چل پڑے، اور ہم مدینہ کی طرف بڑھے، پس اس ذات کی قسم! جس کی ہم قسم اٹھاتے ہیں، یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو شک ہے کیا لفظ کہا، ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر ابھی پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا، اس سے پہلے انہیں کسی چیز نے (حملہ پر) برانگیختہ نہیں کیا۔
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ " ،مہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، ”اے اللہ! ہمارے لیے، ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں عطا فرما،‘‘ (یعنی مکہ کی ایک برکت کے مقابلہ میں مدینہ میں دگنی برکت پیدا کر۔)
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .شیبان اور حرب، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ : أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا ، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا ، فقَالَ لَهُ : وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا " .مہری کے مولیٰ ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ میں جنگ حرہ کے زمانہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مدینہ سے کہیں اور چلے جانے کا مشورہ لیا، اور ان سے وہاں کی مہنگائی (گرانی) اور اپنے بال بچوں کی کثرت کی شکایت کی، اور ان سے عرض کیا، میں مدینہ کی بھوک اور تکالیف پر صبر نہیں کر سکتا، تو انہوں نے اسے جواب دیا، تجھ پر افسوس، میں تمہیں یہ مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”کوئی انسان یہاں کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے نہیں مرتا، مگر میں اس کی قیامت کے دن، بشرطیکہ وہ مسلمان ہو، سفارش کروں گا، یا شہادت دوں گا۔‘‘
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ " ، قَالَ : ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ .سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انہیں اپنے والد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔“ کہا: پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے، اور ابوبکر نے کہا: ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے، پھر اسے آزاد کر دیتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رِيْف ج اَرْيَافْ: سرسبزوشاداب علاقہ،۔
(2)
خُلُوْف: ان کی حفاظت ونگہداشت کرنے والا ان کے پاس کوئی نہیں ہے۔
(3)
مَأزَمْ: پہاڑ درہ یا پہاڑی، شعب، گھاٹی، درہ۔
(4)
شِعَبٌ: پہاڑی راستہ۔
فوائد ومسائل: نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی غیر حاضری میں مدینہ منورہ کی حفاظت ونگرانی فرشتے کررہے تھے، اس لیے کسی کو مدینہ پرحملہ کرنے کی جراءت نہ ہوئی، حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی آمد سے پہلے کوئی ظاہری مانع یا رکاوٹ موجود نہ تھی۔
لیکن ان کی آمد کے ساتھ ہی مدینہ پر حملہ ہو گیا، جب ظاہر طور پر حفاظت ونگہداشت کرنے والے آ چکے تھے تو فرشتوں کی حفاظت ختم ہو گئی اور حملہ ہو گیا۔