صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا: باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ ، وَخَلِيلُكَ ، وَنَبِيُّكَ ، وَإِنِّي عَبْدُكَ ، وَنَبِيُّكَ ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ ، بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ " ، قَالَ : ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ ، فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر پہلا پھل (نیا پھل) دیکھتے (تو اس کو لا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قبول فرما کر یوں دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ، وَخَلِيلُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ، بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ» ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مدینہ میں برکت پیدا کر، اور ہمارے پھلوں اور پیداوار میں برکت فرما، اور ہمارے صاع میں برکت رکھ اور ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے خاص بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، اور انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لیے تجھ سے ویسی ہی دعا کرتا ہوں، جیسی انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی، اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید،‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ نیا پھل اسے دے دیتے۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِأَوَّلِ الثَّمَرِ ، فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَفِي ثِمَارِنَا ، وَفِي مُدِّنَا ، وَفِي صَاعَنْا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ ، ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنَ الْوِلْدَانِ " .عبدالعزیز بن محمد مدنی نے ہمیں سہیل بن ابی صالح سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب (کسی موسم کا) پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آپ فرماتے: ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت پر برکت فرما۔“ پھر آپ وہ پھل اپنے پاس موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نظیر اس دعا کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے یہی دعا مزید اضافے کے ساتھ کی۔
اس دعا کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کا رزق اور پھل مکہ کی طرح مدینہ میں پہنچ رہا ہے اور جن ایمان والے بندوں کو مکہ سے محبت ہے ان سب کو مدینہ سے بھی محبت وپیار ہے۔
اور اس محبوبیت میں مدینہ کا حصہ مکہ سے بڑھ کر ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا میں ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا بندہ، اس کا خلیل اور اس کا نبی کہا ہےلیکن اپنے آپ کو صرف بندہ اور نبی کہا، خلیل ہونے کا تذکرہ نہیں کیا، یہ تواضع اور کسر نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہے۔
اورپھر آپ نیا اوردرخت کا پہلا پھل (نئے پھل)
اور کمسن بچے کی مناسبت سے یہ سبق دینے کے لیے اس کوعنایت فرماتے کہ ایسے موقعوں پر چھوٹے معصوم بچوں کو مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ وہ تھوڑی چیز لے کر خوش ہو جاتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (توڑ کر) لاتے، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تو فرماتے «اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله» ” اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3454]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مُد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے، میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے، اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی، بلکہ اس سے دوگنی (برکت دے)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی ” اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3329]
فوائد و مسائل:
(1)
باغ کا پہلا پھل کسی بزرگ شخصیت کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے۔
اس میں اس شخصیت کی بزرگی کا اعتراف بھی ہے اور اس سے محبت کااظہار بھی۔
(2)
بڑوں کو چھوٹوں کے حق میں ہر مناسب موقع پر دعائے خیر کرنی چاہیے۔
(3)
بچوں کو کھانے پینے کی چیز دینے سے بچوں کے دل میں بزرگوں کی محبت پیدا ہوتی ہے۔