صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا: باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ " .ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہا کرتے تھے: اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی ہوئی دیکھوں، تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔“
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ إِسْحَاقَ : أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا ، وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًى " .معمر نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ان دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہرنیوں کو پاؤں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کا علاقہ محفوظ چراگاہ قرار دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے بھی صاف ظاہر ہوا کہ مدینہ حرم ہے۔
تعجب ہے ان حضرات پر جو مدینہ کے حرم ہونے کا انکار کرتے ہیں جب کہ حرم مدینہ کے متعلق صراحت کے ساتھ کتنی ہی احادیث نبویہ موجود ہیں۔
(1)
یہ روایت کئی ایک الفاظ سے مروی ہے، مثلا: لا بيتها، حرتيها، جبليها، مأزقيها۔
ان مختلف الفاظ کے پیش نظر احناف نے اس حدیث کو مضطرب قرار دیا ہے اور مدینہ کے حرم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ ان الفاظ میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ مدینہ طیبہ کے پہاڑ عموما سیاہ ہیں، اس لیے حرۃ کے معنی بھی سیاہ پتھر ہیں۔
لابة اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سیاہ پتھر پڑے ہوئے ہوں۔
اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لیے دعا فرمائی، میں نے مدینہ طیبہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ مکرمہ کو حرم کہا تھا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2129) (2)
اس میں شکار کرنے پر کوئی تاوان اور فدیہ نہیں، البتہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا: ’’جسے تم مدینہ طیبہ میں شکار کرتے دیکھو تو تمہارے لیے اس سے چھینا ہوا مال حلال ہے۔
‘‘ (مسندأحمد: 170/1)
احناف کہتے ہیں کہ مدینے کا حرم فی الحقیقت حرم نہیں اور نہ وہاں شکار کرنا ہی حرام ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ حرم مدینہ میں کسی قسم کا شکار نہ کیا جائے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3317(1362)
(1)
لابة سیاہ کنکریوں کی جگہ کو کہتے ہیں۔
اسے حره بھی کہا جاتا ہے۔
مدینہ کے مشرق اور مغرب میں یہ مقام واقع ہے۔
ایک کو حرہ شرقیہ اور دوسرے کو حرہ غربیہ کہتے ہیں۔
(2)
بنو حارثہ، قبیلۂ اوس کی ایک شاخ اور ایک چھوٹا خاندان ہے۔
دور جاہلیت میں یہ لوگ بنو الاشہل کے ساتھ رہتے تھے۔
جب ان میں جنگ ہوئی تو بنو حارثہ شکست کھا کر خیبر کی طرف چلے گئے اور وہاں سکونت اختیار کر لی، پھر صلح کرنے کے بعد واپس وہاں آ گئے۔
پہلی دفعہ عدم توجہ کی وجہ سے فرمایا کہ تم حرم سے باہر ہو، پھر غوروخوض اور سوچ و بچار کرنے کے بعد فرمایا کہ تم حرم ہی میں ہو۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ کے آس پاس علاقے کو حرم قرار دیا ہے۔
امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے یہی مقصود ہے۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3921]
وضاحت:
1؎:
یہ دونوں پتھریلی زمینیں (حرہ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ! ابراہیم تیرے خلیل (گہرے دوست) اور تیرے نبی ہیں، اور تو نے مکہ کو بزبان ابراہیم حرام ٹھہرایا ہے، اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، اور میں مدینہ کو اس کی دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیان کی جگہ کو حرام ٹھہراتا ہوں “ ۱؎۔ ابومروان کہتے ہیں: «لابتيها» کے معنی مدینہ کے دونوں طرف کی کالی پتھریلی زمینیں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3113]
فوائد و مسائل:
(1)
لابة يا حره سے مراد زمین کا ایک ایسا قطعہ ہےجس میں سیاہ رنگ کے پتھر پائے جاتے ہیں۔
(2)
مدینہ شریف کے مشرق اور مغرب میں اس قسم کے دو قطعات پائے جاتے ہیں جو مشرقی حرہ اور مغربی حرہ کے نام سے معروف ہیں۔
مشرقی حرہ کا نام حرہ واقم اور مغربی حرہ کا نام حرہ وبرہ ہے۔ (حاشيه صحيح مسلم از محمد فواد الباقي، الحج، باب فضل المدينه۔
۔
۔
۔
وبيان حدود حرمها)
مشرق ومغرب میں یہ حرم مدینہ کی حد ہیں۔
احد کے شمال میں جبل ثور اور مدینہ کے جنوب میں جبل عیر حرم مدینہ کی حد ہیں جبکہ احد پہاڑ حرم میں شامل ہے۔
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”ما بين لابتيها حرام.“»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیان (مدینہ کا علاقہ) حرام (حرم) ہے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 638]
تفقه:
➊ مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ طیبہ بھی حرم ہے جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [نظم المتناثر من الحديث المواتر للكتاني ص 212 ح 244]
اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ درج ذیل صحابہ کرام نے بھی روایت کیا ہے: ● سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ [صحيح بخاري: 1867، و صحيح مسلم: 6613]
● سیدنا علی رضی اللہ عنہ [صحيح بخاري: 1870، و صحيح مسلم: 1370]
● سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ [صحيح بخاري: 2129 و صحيح مسلم: 1360]
● سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ [صحيح مسلم: 1361]
● سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ [صحيح مسلم: 1362]
● سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ [صحيح مسلم: 1363] وغیرہم
◄ ان احادیث صحیحہ متواترہ کے مقابلے میں بعض الناس خود ساختہ شبہات کی بنأ پر کہتے ہیں کہ «لا حرم للمدينة عندنا» ہمارے نزدیک مدینہ حرم نہیں ہے۔ ديكهئے: [ردالمحتار 278/2، الدر المختار 184/1]
➋ مدینہ میں شکار کرنا اور بے ضرر درخت اور پودے کاٹنا حرام ہے سوائے اذخر گھاس کے جس کی اجازت دی گئی ہے۔
➌ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔
➍ قرآن کی طرح حدیث بھی حجت ہے اور حدیث وحی خفی ہے۔