حدیث نمبر: 1366
وحدثناه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حدثنا عَاصِمٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا : فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " ، قَالَ : فقَالَ ابْنُ أَنَسٍ : أَوْ آوَى مُحْدِثًا .

عاصم  بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (عیر سے ثور تک) تو جس نے اس میں کوئی جرم کیا، پھر مجھ سے کہا، یہ بڑی شدید وعید ہے کہ "جس نے اس میں کوئی جرم کیا، تو اس پر لعنت ہے، اللہ کی، فرشتوں کی، اور تمام لوگوں کی، اللہ اس سے قیامت کے دن کوئی توبہ و فدیہ یا فرض اور نفل قبول نہیں کرے گا۔" ابن انس نے یہ اضافہ کیا اور جس نے مجرم کو پناہ دی، (اس کے لیے بھی یہی وعید ہے۔)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، هِيَ حَرَامٌ ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .

ہمیں عاصم احول نے خبر دی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہ حرم ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1366
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1867 | صحيح مسلم: 1366

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1867 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1867. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’مدینہ فلاں مقام سے فلاں مقام تک حرم ہے۔ لہذا یہاں کادرخت نہ کاٹا جائے اور نہ اس میں کسی بدعت کاارتکاب کیاجائے۔ جس نے یہاں کوئی بدعت پیدا کی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1867]
حدیث حاشیہ: حرم مدینہ کا بھی وہی حکم ہے جو مکہ کے حرم کا ہے صرف جزا لازم نہیں آتی۔
امام مالک اور امام شافعی اور احمد اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
شعبہ اور حماد کی روایت میں اتنا اور زیادہ ہے یا کسی بدعتی کو جگہ دے دے۔
معاذ اللہ بدعت ایسی بری بلا ہے کہ آدمی بدعتی کو جگہ دےنے سے ملعون ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1867 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1867 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1867. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’مدینہ فلاں مقام سے فلاں مقام تک حرم ہے۔ لہذا یہاں کادرخت نہ کاٹا جائے اور نہ اس میں کسی بدعت کاارتکاب کیاجائے۔ جس نے یہاں کوئی بدعت پیدا کی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1867]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت کے مطابق راوئ حدیث حضرت عاصم نے حضرت انس ؓ سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ کو حرم قرار دیا ہے؟ تو انہوں نے جواب میں یہ حدیث بیان فرمائی۔
(صحیح البخاري، الاعتصام، حدیث: 7306) (2)
حرم مدینہ کی تعیین بھی روایات میں موجود ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ جبل عائر سے فلاں جگہ تک حرم ہے۔
(صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1870)
صحیح مسلم میں ہے کہ جبل عیر سے جبل ثور تک حدود حرم ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3327(1370)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ کے ارد گرد بارہ میل تک سرکاری حرم قرار دیا ہے۔
فرماتے ہیں: اگر مجھے اس علاقے میں ہرن چرتا نظر آئے تو میں اسے خوفزدہ نہیں کروں گا۔
(صحیح مسلم، حدیث: 3333(1272) (3)
واضح رہے کہ ایک جبل ثور مکہ مکرمہ میں معروف ہے۔
اس کے علاوہ مدینہ طیبہ میں ایک چوڑی پہاڑی کا نام ثور ہے جو جبل اُحد کے پچھلی جانب ہے جسے مدینہ طیبہ کے باشندے جانتے ہیں۔
(فتح الباري: 107/4) (4)
ایک روایت میں ہے کہ یہ لعنت زدگی ہر اس شخص کے لیے ہے جو بدعت کا ارتکاب کرے یا کسی بدعتی کو اپنے ہاں پناہ دے۔
معلوم ہوا کہ بدعت ایک ایسا سنگین جرم ہے کہ آدمی اس کے مرتکب کو پناہ دینے پر بھی ملعون ہو جاتا ہے، نیز مدینہ طیبہ میں اس کی گندگی مزید بڑھ جاتی ہے۔
(فتح الباري: 109/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1867 سے ماخوذ ہے۔