صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا: باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1362
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا ، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا " .حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں، نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کے جانوروں کا شکار کیا جائے۔“