صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ: باب: بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کا جواز۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ " .وکیع نے ہمیں مساور وراق سے خبر دی، انہوں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے والد (عمرو بن حریث بن عمرو مخزومی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ تھا۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا : حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ، وَفِي رِوَايَةِ الْحُلْوَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ " ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ : عَلَى الْمِنْبَرِ .حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، گویا کہ میں اپنی آنکھوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (سر پر) سیاہ عمامہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں، ابوبکر کی روایت میں منبر کا ذکر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور آپ نے کالا عمامہ باندھا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم: 1359، دارالسلام: 3311]
تنبیہ: سفید عمامہ بھی جائز ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سر پر سفید عمامہ باندھا تھا۔ دیکھئے: [المستدرك ج4 ص 540 ح 8623، اتحاف المهرة 8/590ح 10015، وهو حديث حسن لذاته اور ص598]
نمبر 33:
ٹوپی پہننا بھی جائز ہے۔
دیکھئے: التاریخ الکبیر للبخاری [1/ 428] «عن ابي موسيٰ الاشعري رضى الله عنه موقوفاً عليه وسنده صحيح»
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17
اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4077]
پگڑی کا استعمال مستحب ہے، زمانہ قدیم سے شرفاء پگڑی باندھتے آئے ہیں حتی کہ روایات میں آتا ہے کہ فرشتوں کو بھی پگڑی باندھتے دیکھا گیا تھا۔
اس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں نیز سیاہ رنگ کے لباس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن ایام محرم میں اور کسی مصیبت کے وقت میں سیاہ رنگ کا لباس پہننے سے احتراز کرنا ضروری ہے، کیونکہ سیاہ رنگ اور سیاہ لباس کو سوگ کے اظہارکی علامت بنا لیا گیا ہے، جیسا کہ بعض لوگ عشرہ محرم میں ایسا کرتے ہیں جب کہ اظہار سوگ کے اس طریقے کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1104]
فوائد و مسائل:
(1)
خطبے کے لئے منبر پرکھڑے ہونا مسنون ہے۔
(2)
سیاہ رنگ کا کپڑا پہننا جائز ہے۔
لیکن ہمارے ملک میں ایک فرقہ ماتم اور شعار کے طور پر سیاہ لباس پہنتا ہے ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے مکمل سیاہ لباس سے اجتناب بہتر ہے۔
خصوصاً محرم کے مہینے میں تاہم صرف سیاہ پگڑی پہننے سے مشابہت نہیں ہوتی۔
اس لئے یہ جائز ہے۔
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5345]
اس حدیث سے سیاہ لباس کا جواز ثابت ہوتا ہے، بعض لوگوں کا بعض خاص رنگوں کو اپنا شعار بنا لینا درست نہیں ہے، مثلاً کسی کا سبز رنگ کسی کا کالا رنگ کسی کا سرخ رنگ کا خاص کر نا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رنگ میسر آ جا تا تھا، اس کو پہن لیتے تھے، ایسا رنگ پہنا درست نہیں ہے جو عورتوں سے مشابہت رکھتا ہو۔