صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ بِلاَ زِيَادَةٍ: باب: حج اور عمرہ کی فراغت کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنے کا جواز، لیکن یہ قیام تین دن سے زیادہ نہ ہو۔
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ فقَالَ السَّائِبُ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لِلْمُهَاجِرِ إِقَامَةُ ثَلَاثٍ بَعْدَ الصَّدَرِ بِمَكَّةَ " ، كَأَنَّهُ يَقُولُ : لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا .سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حمید (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا کہہ رہے تھے: کیا آپ نے مکہ میں قیام کرنے کے بارے میں (رسول اللہ کا) کوئی فرمان سنا ہے؟ سائب نے جواب دیا: میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(مکہ سے) ہجرت کر جانے والے کے لیے (منیٰ سے) لوٹنے کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرنا جائز ہے۔“
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ لِجُلَسَائِهِ : مَا سَمِعْتُمْ فِي سُكْنَى مَكَّةَ ؟ فقَالَ : السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، أَوَ قَالَ : الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقِيمُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا " .عبدالرحمٰن بن حمید بیان کرتے ہیں، کہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ نے اپنے ہم نشینوں یا مجلس میں موجود لوگوں سے پوچھا، کیا تم نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے بارے میں کچھ سنا ہے، تو سائب بن یزید نے کہا، میں نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر، مناسک حج ادا کرنے کے بعد، تین دن تک مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔‘‘
وحدثنا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، فقَالَ السَّائِبُ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثَلَاثُ لَيَالٍ يَمْكُثُهُنَّ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الصَّدَرِ " .صالح نے عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت کی کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے سنا، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سوال کر رہے تھے تو سائب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”مہاجر (منیٰ سے) لوٹنے کے بعد تین راتیں مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔“
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَكْثُ الْمُهَاجِرِ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثٌ " ،حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مناسک حج سے فراغت کے بعد، مکہ میں، مہاجر، تین دن تک قیام کر سکتا ہے۔‘‘
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .ضحاک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی۔
تشریح، فوائد و مسائل
حج پر آنے کے لئے فتح مکہ سے قبل ان کے لئے یہ وقتی حکم تھا کہ وہ حج کے بعد مکہ شریف میں تین روز قیام کر کے مدینہ واپس ہو جائیں۔
فتح مکہ کے بعد یہ سوال ختم ہو گیا تفصیل کے لئے فتح الباری دیکھئے۔
1۔
حضرت علاء ایک جلیل القدر اور مستجاب الدعوات صحابی تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں بحرین کا حاکم بنایا۔
ان کا نام عبد اللہ بن عماد ہے بنو امیہ کے حلیف تھے حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں فوت ہوئے۔
صحیح بخاری میں ان سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
(فتح الباري: 333/7)
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسافر اگر کسی مقام پر تین دن تک پڑاؤں کرتا ہے تواس پر احکام سفر جاری رہیں گے۔
تین دن سے زائد پڑاؤ پر اقامت کے احکام لاگو ہوں گے۔
3۔
واضح رہے کہ مہاجرین کے لیے یہ وقتی حکم تھا کہ وہ حج کی ادائیگی کے بعد مکے میں تین روز تک قیام کریں اس کے بعد وہ مدینہ طیبہ واپس ہو جائیں فتح مکہ کے بعد یہ پابندی ختم ہو گئی۔
واللہ اعلم۔
علاء بن حضرمی رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکے میں تین دن ٹھہر سکتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 949]
(یہ مدینے کے مہاجرین مکہ کے لیے خاص تھا)
عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا: کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2022]
1۔
تکمیل حج کے بعد مہاجرین مدینہ کے لئے بالخصوص پابندی تھی کہ جس شہر کو انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے چھوڑ دیا ہے وہاں کسی طرح اقامت نہ کریں تاکہ ہجرت کے اجروثواب میں کمی نہ ہو۔
2۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اسی حدیث سے قیاس فرماتے ہیں۔
کہ مسافر اگر کہیں تین دن سے زیادہ اقامت کی نیت کرلے تو وہاں کا مقیم سمجھا جائے گا۔
اس لئے اسے نماز پوری پڑھنی چاہیے۔
(کتاب الام للشافعی رحمۃ اللہ علیہ) گویا اس فرمان نبوی ﷺسے مدت سفر کی تعین پر بھی استدلال کیا گیا ہے۔
جس کی تایئد نبی کریمﷺکےعمل سے بھی ہوتی ہے۔
(تفصیل کےلئے دیکھئے۔
مسنون نماز ازحافظ صلاح الدین یوسف)
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد (مکہ میں) تین دن تک ٹھر سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1455]
عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1073]
فائدہ: اس سے استنباط کیاگیا ہے۔
کہ تین دن سے زیادہ کسی مقام پر ٹھرنا وہاں رہائش کے حکم میں ہے۔
مہاجرین کو دوبارہ مکہ میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی۔
تا کہ ان کی ہجرت کا ثواب قائم رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تین دن ٹھرنے کی اجازت دی۔
اس کامطلب ہے کہ تین دن ٹھرنا مقیم ہونے کے حکم میں نہیں۔
چنانچہ کوئی مسافر کسی مقام پر تین دن ٹھرے تو نماز قصرادا کرے۔
اور بعض کے نزدیک یہ مدت چار دن ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
مسافر اگر کسی مقام پر تین دن تھہرتا ہے تو اس پر سفر کے احکام جاری ہوں گے، تین دن سے زائدا قامت پرمقیم کے احکام لا گو ہوں گے۔ مہاجرین کے لیے تین دن کی وقتی اور عارضی پابندی تھی جو فتح مکہ کے بعد پابندی ختم ہوگئی۔