صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرٍ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ: باب: جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹے تو کیا دعائیں پڑھے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ، وَأَبُو طَلْحَةَ ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ،حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم یعنی میں اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آ رہے تھے، اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں، حتی کہ جب ہم مدینہ کی سرزمین کی پشت پر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ کہنے شروع کر دئیے: ”لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی الفاظ بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔
وحدثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
غزوۂ خیبر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بطور خدمت گار شریک ہوئے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔
حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اونٹنی کے پھسل جانے کے بعد تمام خدمات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سر انجام دیں، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ اس وقت ان کی عمر صرف دس برس تھی اور کم سن بچے تھے بلکہ یہ تمام خدمات ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے انجام دی تھیں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3086)
بولا۔
جس کو آپ نے ناپسند نہیں فرمایا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
مدینہ منورہ خیریت سے واپسی پر آپ نے آئبون تائبون الخ کے الفاظ استعمال فرمائے۔
اب بھی سفر سے وطن بخیریت واپسی پر ان الفاظ کا ورد کرنا مسنون ہے۔
خاص طور پر حاجی لوگ جب وطن پہنچیں تو یہ دعا پڑھتے ہوئے اپنے شہر یا بستی میں داخل ہوں۔
(1)
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے!‘‘ اگر ایسا کہنا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے منع فرما دیتے۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر کوئی اپنے سے بڑے صاحب علم و فضل کو عزت افزائی کے لیے کہے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثواب بھی دے گا کیونکہ یہ اس توقیر و احترام سے ہے جس کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حال ہے؟ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابھی تک تم نے اپنی بدویت کو نہیں چھوڑا۔
‘‘ (شعب الإیمان للبیهقي: 459/6، رقم: 8892)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اور صحیح روایات کے مقابلے میں پیش نہیں کی جا سکتی۔
اگر صحیح بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو اس طرح کے کلمات نہیں کہنے چاہئیں بلکہ اس کے لیے انس و نرمی اور دعائے شفا کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 698/10)