صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
بَابُ اسْتِحُبَابِ الذِّكْرِ إِذَا رَكِبَ دَابَّتَهُ مُتَوَجِّهَا لَسَفَرِ حَجُّ أَوْ غَرْرِهِ وَبَيَانِ الْأَفْضَلِ مِنْ ذٰلِكَ الذِّكْرِ باب: مسافر کو حج وغیرہ کے موقع پر سواری پر سوار ہو کر ذکر و ازکار کرنا مستحب ہے، اور اس ذکر میں سے سب سے افضل ذکر کا بیان۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، عَلَّمَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا ، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُون ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا ، وَاطْوِ عَنْا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ، وَإِذَا رَجَعَ ، قَالَ : " هُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .علی ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں سکھایا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر باہر روانہ ہونے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے، تین دفعہ «اَللهُ اَكْبَر» کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے، «سبْحانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ.» ”پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہماری سواری کے لیے اپنی اس مخلوق کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ہے اور ہمارے قابو میں کر دیا۔ اور خود ہم میں اس کی طاقت نہ تھی، کہ ہم اپنی ذاتی تدبیر و طاقت سے اس طرح قابو یافتہ ہو جاتے، اس نے اپنے فضل و کرم سے ایسا کر دیا۔ اور ہم (بالآخر) اپنے اس مالک کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکوکاری اور پرہیز گاری کی درخواست کرتے ہیں اور ان اعمال کی جو تیری رضا کا باعث ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان کر دے، اور اس کی طوالت کو (اپنی قدرت و رحمت سے) مختصر کر دے، (لپیٹ دے) اے اللہ! تو ہی ہمارا سفر میں رفیق اور ساتھی ہے اور گھر والوں میں نگران اور دیکھ بھال کرنے والا ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سفر کی مشقت اور زحمت سے اور اس بات سے کہ میں کوئی رنج دہ بات دیکھو ں اور سفر سے واپسی پر اہل و عیال یا مال و جائیداد میں کوئی بری بات پاؤں۔“ اور جب سفر سے واپس آتے، تب بھی یہی دعا کرتے، اور آخر میں ان کلمات کا اضافہ کرتے، «هُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم سفر سے واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی حمد و ستائش کرنے والے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
وَعثَا: مشقت وشدت، كَآبَةٌ: رنج دہ اور پریشانی کا باعث بات۔
(2)
اَلْمُنْقَلَبُ: واپس لوٹنا۔
فوائد ومسائل: اس دعا کا ایک ایک کلمہ اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے، اس لیے یہ ایک انتہائی بلیغ اور جامع دعا ہے۔
اس دور اور زمانہ کی بہترین اور اعلیٰ سواری اونٹ تھا جو صحرائی جہاز کہلاتا تھا اس لیے اس پر سوار کو اپنی بلندی اور برتری کا احساس یا گھمنڈ پیدا ہو سکتا تھا، اس طرح دیکھنے والوں کے دلوں میں اس کی عظمت اور برائی کا خیال پیدا ہو سکتا، جس طرح آج کل ہوائی جہاز اور بہترین گاڑیوں پر سوارہونے والوں کا حال ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اَللہُ اَکْبَر کہہ کر اس پر تین ضربیں لگائیں اور بتا دیا عظمت و کبریائی صرف اللہ کے لیے ہے، اگلے جملہ میں اس حقیقت کا اعتراف اور اظہار فرمایا کہ اس سواری کو ہمارے لیے مسخر کردینا اور ہم کو اس کے استعمال کی قدرت دینا بھی اللہ کا فضل و کرم ہے، ہمارا اس میں کوئی کمال نہیں اس کے احسان و کرم کے بغیر کہیں بھی ہر قسم کی سواری بے قابو ہو سکتی ہے اور انسان کی تباہی اور موت کا باعث بن سکتی ہے، اس کے بعد فرمایا جس طرح ہم آج اس سفر پر روانہ ہو رہے ہیں اسی طرح ایک دن اس دنیا سے رخت سفر باندھ کر ہم اپنے آقا اور رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں جو اس زندگی کا حاصل اور مقصود و مطلوب ہے، اس لیے ہمیں اس کی فکرو اہتمام اور تیاری سے کسی وقت غافل نہیں ہونا چاہیے، اس لیے آپ صلی اللہ علی وسلم نے اس کے بعد یہ دعا فرمائی اے اللہ!اس سفر میں مجھے نیکی اور پرہیز گاری کی اور ان اعمال کی توفیق عنایت فرما جو تیری رضا اور خوشنودی کے حصول کا باعث ہوں اس کے بعد سفر میں سہولت و آسانی اور اس کے جلد پورا ہونے کی دعا فرمائی اس کے بعد یہ عرض کیا کہ سفر میں میرا اعتماد و بھروسہ تیری ہی رفاقت و مدد پر ہے اور گھر بار اہل وعیال اور مال ومتاع جس کو میں چھوڑکر جا رہا ہوں ان کا نگران و نگہبان بھی تو ہی ہے، پھر آخر میں سفر کی مشقت و زحمت سے یا دوران سفر یا واپسی پر کسی تکلیف دہ حادثہ سے پناہ مانگی ہے، اور سفر سے واپسی پر بھی یہی دعا فرمائی اور آخر میں ان کلمات کا اضافہ فرمایا کہ ہم واپس ہو رہے، اپنے قصوروں اور لغزشوں سے توبہ کرتے ہیں اور ہم اپنے آقا و مولیٰ کی ہی عبادات اور حمدو ثنا کرتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے تو اپنی سواری پر چڑھتے اور تین بار «اللہ اکبر» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ۱؎ اس کے بعد آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك في سفري هذا من البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا المسير واطو عنا بعد الأرض اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا» " اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا طالب ہوں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے تو راضی ہو،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3447]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا طالب ہوں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے تو راضی ہو، اے اللہ تو اس سفر کو آسان کر دے، زمین کی دوری کو لپیٹ کر ہمارے لیے کم کر دے، اے اللہ تو سفر کا ساتھی ہے، اور گھر میں (گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے) میرا نائب وقائم مقام ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ ہمارے سفر میں رہ، اور گھر والوں میں ہماری قائم مقامی فرما۔
2؎:
ہم لوٹنے والے ہیں اپنے گھروالوں میں إِنْ شَاءَ اللہ، توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد بیان کرنے والے ہیں۔
علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «{ سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } اللهم إني أسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال» " پاک ہے وہ اللہ جس نے اس (سواری) کو ہمارے تابع کر دیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2599]
1۔
توحید یہی ہے کہ انسان کسی بھی موقع پر اپنے رب تعالیٰ کو بھولنے نہ پائے۔
اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت اسی میں ہے۔
کہ ہر ہر عمل میں آپ ﷺ کی اقتداء کی جائے۔
2۔
حدیث کا جملہ (فوضعت الصلوة علیٰ ذلك) اور نماز بھی اسی قاعدے پر ہے۔
ضعیف ہے۔
(علامہ البانی)