صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ: باب: عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کا بیان۔
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " ،یحییٰ بن یحییٰ القطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی (کہا) مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت تین (دن رات) کا سفر نہ کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔“
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : فَوْقَ ثَلَاثٍ ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ أَبِيهِ : ثَلَاثَةً إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ .امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابوبکر کی روایت میں ہے، تین دن سے زائد، اور ابن نمیر کی روایت ہے، تین دن کے لیے اس کے ساتھ محرم ہونا چاہیے۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " .ضحاک نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ وہ تین راتوں کا سفر کرے مگر اس طرح کہ ساتھ محرم ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
یہاں تین دن کی قید کا مطلب ہے کہ اس مدت پر لفظ کا اطلاق کیا گیا اور ایک دن اوررات کو بھی سفر کہا گیا ہے تقریبا اڑتالیس میل پر اکثر اتفاق ہے کما مر۔
جس مسافت میں نماز قصر پڑھنا مباح ہے اس کی مقدار میں بہت اختلاف ہے۔
اہل ظاہر کے نزدیک کسی قسم کی مقدار سفر مقرر نہیں۔
ان کے ہاں ہر قسم کے سفر میں نماز قصر کرنا جائز ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ۔
اہل کوفہ کے نزدیک تین دن اور تین رات کی مسافت پر نماز قصر کر کے پڑھنی چاہیے۔
لیکن آئندہ حدیث ابو ہریرہ میں ہے کہ اہل ایمان خاتون کو ایک دن اور ایک رات کا سفر محرم کے بغیر کرنا جائز نہیں۔
سائلین کے اختلاف کی بنا پر احادیث کا اختلاف ہے، مفہوم عدد کا اس میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔
ایک روایت میں ان محرم رشتوں کی تفصیل بھی ہے کہ کوئی عورت اپنے باپ، بھائی، خاوند، بیٹے یا کسی دوسرے محرم کے بغیر تین دن اور تین رات کا سفر نہ کرے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(فتح الباري: 733/2، وصحیح مسلم، الحج، حدیث: 3270(1340)
واضح رہے کہ مذکورہ روایت تحدید مسافت کے لیے بیان نہیں ہوئی، بلکہ اس مقصد کے لیے اسے بیان کیا گیا ہے کہ کوئی عورت اتنی مسافت اکیلی طے نہ کرے، نیز اس نہی کا تعلق وقت سے ہے، یعنی اگر کوئی عورت ایک گھنٹے کی مسافت ایک دن میں طے کرتی ہے تو اس سے حکم امتناعی متعلق ہو گا، لیکن اگر مسافر نصف یوم کی مسافت کو دو دن میں طے کرتا ہے تو اسے قصر کرنے کی اجازت نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک حکم کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: " عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1727]