حدیث نمبر: 1332
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ ؟ قَالَ : لَا .

ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرے کے دوران میں بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1332
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
اسماعیل بن خالد بیان کرتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ میں، بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے، انہوں نے کہا، نہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3239]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عمرۃ القضاۃ 7ھ میں بیت اللہ پر مشرکین مکہ کا تسلط تھا اور کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل نہیں ہوئے، فتح مکہ کے وقت جب قریش کا غلبہ ختم ہو گیا، اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے، اور دعا و نماز سے لطف اندوز ہوئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1332 سے ماخوذ ہے۔