صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ وَالصَّلاَةِ فِيهَا وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا: باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ ، قَالَ عبد : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ ، حَتَّى خَرَجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ ، وَقَالَ : هَذِهِ الْقِبْلَةُ " ، قُلْتُ لَهُ : مَا نَوَاحِيهَا ، أَفِي زَوَايَاهَا ، قَالَ : " بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ " .ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا ہے اس (بیت اللہ) میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا انہوں نے جواب دیا وہ اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز ادا نہیں کی۔ یہاں تک کہ باہر آگئے جب آپ تشریف لائے تو قبلہ کے سامنے کی طرف دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ میں نے ان سے پوچھا: اس کے اطراف سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے کونوں میں؟ انہوں نے کہا: بلکہ بیت اللہ کی ہر جہت میں۔