صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا: باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ ، قَالَ : " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ " .حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسہ کے بارے میں سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو خالص ایمان ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبدللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے وسوسہ کے بارے میں سوال ہوا آپ نے فرمایا: ’’یہ تو خالص ایمان ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:342]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
وسوسہ کا سبب یا وجہ ایمان ہے، کیونکہ شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے جس کے گمراہ کرنے سے وہ نا امید ہوتا ہے۔
اورجو لوگ کافر وفاسق ہیں اور اس کے قابو میں ہیں ان کے دل میں اسے وسوسہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے، اس لیے وسوسہ ایمان کی علامت ہے، بشرطیکہ انسان اس کو ناگوار خیال کرے۔
وسوسہ کا سبب یا وجہ ایمان ہے، کیونکہ شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے جس کے گمراہ کرنے سے وہ نا امید ہوتا ہے۔
اورجو لوگ کافر وفاسق ہیں اور اس کے قابو میں ہیں ان کے دل میں اسے وسوسہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے، اس لیے وسوسہ ایمان کی علامت ہے، بشرطیکہ انسان اس کو ناگوار خیال کرے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 133 سے ماخوذ ہے۔