حدیث نمبر: 1329
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ، هُوَ وَأُسَامَةُ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " جَعَلَ عَمُودَيْنِ ، عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا ، عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى " .

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت اسامہ، بلال، عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنھم کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور اس کا دروازہ بند کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ وقت اندر ٹھہرے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، جب باہر نکلے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا عمل کیا؟ اس نے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون اپنے بائیں اور ایک دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے کیے، اس وقت بیت اللہ کے چھ ہی ستون تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔

حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ ، فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَبَادَرْتُ النَّاسَ ، فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا ، وَبِلَالٌ عَلَى إِثْرِهِ ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ : " هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ ، أَيْنَ ؟ قَالَ : " بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ " ، قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ،

ہمیں حماد نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ بیت اللہ کے صحن میں اترے اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ چابی لے کر حاضر ہوئے اور دروازہ کھولا کہا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے آپ نے دروازے کے بارے میں حکم دیا تو اسے بند کر دیا گیا وہ سب خاصی دیر وہاں ٹھہرے پھر انہوں (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) نے دروازہ کھولا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے سب لوگوں سے سبقت کی اور باہر نکلتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں میں نے پوچھا کہاں؟ انہوں نے کہا: دو ستونوں کے درمیان جو آپ کے سامنے تھے (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔

وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ ، فقَالَ : " ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ " ، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ ، فقَالَ : وَاللَّهِ لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي ، قَالَ : فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .

سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر (سوار ہو کر) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور کہا: مجھے (بیت اللہ کی) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انہیں چابی دینے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا یا تو تم یہ چابی مجھے دو گی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جائے گی، کہا تو اس نے وہ چابی انہیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چابی انہی کو دے دی تو انہوں (ہی) نے دروازہ کھولا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی۔

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، وَمَعَهُ أُسَامَةُ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ طَوِيلًا ، ثُمَّ فُتِحَ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَقُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فقَالَ : " بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ " ، فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے اپنے پیچھے خاصی دیر دروازہ بند کیے رکھا پھر (دروازہ) کھولا گیا تو میں پہلا شخص تھا جو (دروازے سے) داخل ہوا میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کیا) ادا کی؟ انہوں نے کہا: آگے کے دو ستونوں کے درمیان جو آپ کے سامنے تھے (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں ادا کیں۔

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ ، قَالَ : فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ ، فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ ، فَقُلْتُ : " أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : هَا هُنَا " ، قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى .

عبداللہ عون نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہو چکے تھے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے دروازہ بند کیا۔ کہا وہ اس میں کافی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے میں سیڑھی چڑھا اور بیت اللہ میں داخل ہوا میں نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا اس جگہ کہا میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔

وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا ابْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَسَأَلْتُهُ : هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، " صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .

لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ انہوں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا جب انہوں نے دروازہ کھولا تو میں سب سے پہلا شخص تھا جو (کعبہ میں) داخل ہوا میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں آپ نے دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ ، ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَأَخْبَرَنِي بِلَالٌ ، أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .

یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی (کہا) مجھے سالم بن عبداللہ نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے خبر دی انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ اور کوئی داخل نہیں ہوا پھر ان کے پیچھے دروازہ بند کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ یا حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1329
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»