حدیث نمبر: 1320
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَر أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً ، فقَالَ : " ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک آدمی کے پاس پہنچے، جبکہ وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا، اس کو اٹھا کر، کھڑا کر کے (بایاں) پیر باندھ کر نحر کرو یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1320
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1713 | سنن ابي داود: 1768

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1713 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1713. حضرت زیاد بن جبیر سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کو دیکھا جبکہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو اپنے قربانی کے اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، انھوں نے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھو (پھر نحر کرو)۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی سنت ہے۔ جب شعبہ نے یونس سے اس روایت کو بیان کیا تو ’’مجھے زیاد نے خبر دی‘‘ کے الفاظ نقل کیے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1713]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ اونٹ کو کھڑا کرکے نحر کرنا ہی افضل ہے اور حنفیہ نے کھڑا اور بیٹھا دونوں طرح نحر کرنا برابر رکھا ہے اور اس حدیث سے ان کا رد ہوتا ہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو ابن عمر ؓ اس شخص پر انکار نہ کرتے، اس شخص کا نام معلوم نہیں ہوا۔
(وحیدی)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: و فیه أن قول الصحابي من السنة کذا مرفوع عند الشیخین لاحتجاجهما بهذا الحدیث في صحیحین۔
(فتح)
یعنی اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی صحابی کا کسی کام کے لیے یہ کہنا کہ یہ سنت ہے یہ شیخین کے نزدیک مرفوع حدیث کے حکم میں ہے اس لیے کہ شیخین نے اس سے حجت پکڑی ہے اپنی صحیح ترین کتابوں بخاری و مسلم میں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1713 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1713 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1713. حضرت زیاد بن جبیر سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کو دیکھا جبکہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو اپنے قربانی کے اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، انھوں نے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھو (پھر نحر کرو)۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی سنت ہے۔ جب شعبہ نے یونس سے اس روایت کو بیان کیا تو ’’مجھے زیاد نے خبر دی‘‘ کے الفاظ نقل کیے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1713]
حدیث حاشیہ:
(1)
سنن ابوداود میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جب قربانی کا اونٹ ذبح کرتے تو اس کا بایاں پاؤں باندھ دیتے اور اسے کھڑا کر کے نحر کرتے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1767)
حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ نحر کرتے وقت اس کا ایک پاؤں باندھ دیتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر اسے کھڑا کر کے نحر کرنا فضیلت کا باعث ہے اگرچہ بٹھا کر نحر کرنا بھی جائز ہے، البتہ احناف کے نزدیک اونٹ کو کھڑا کر کے یا بٹھا کر نحر کرنے میں برابر کی فضیلت ہے۔
(2)
شعبہ کی روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں متصل سند سے بیان کیا ہے جس کے الفاظ روایت مذکورہ سے ملتے جلتے ہیں۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب صحابی مِنَ السُنة کے الفاظ استعمال کرے تو وہ روایت مرفوع حدیث کا درجہ رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 699/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1713 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1768 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اونٹ کیسے نحر کئے جائیں؟`
یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں میں منیٰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے (بایاں پیر) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1768]
1768. اردو حاشیہ: فرامین رسول ﷺ اورآپ کےافعال کی اتباع کامل ہی کا نام دین ہے۔ صحابہ کرام کی سیرتیں یہی بتاتی ہیں۔وہ ہمیشہ اس کے داعی رہے اور قیامت تک کے لیے یہی اٹل اصول ہے۔ صریح نصوص کےہوتے ہوئے رائے خیال رجحان اور فتویٰ کا کیا مقام!؟
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1768 سے ماخوذ ہے۔