صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب الاِشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ: باب: قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کا جواز، اور ہر ایک (اونٹ اور گائے) میں سات افراد کی شراکت کا جواز۔
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا مَالِكٌ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے سال اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا اور گائے کو بھی سات کی طرف سے ذبح کیا۔
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حدثنا زُهَيْرٌ ، حدثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ ، وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ " .ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گا ئے میں شریک ہو جا ئیں ہم میں سے ساتھ آدمی ایک قربانی میں شر یک ہوں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .ہمیں عزرہ بن ثابت نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک گا ئے (ذبح کی)۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ " ، فقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ : أَيُشْتَرَكُ فِي الْبَدَنَةِ مَا يُشْتَرَكُ فِي الْجَزُورِ ؟ قَالَ : مَا هِيَ إِلَّا مِنَ الْبُدْنِ وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ ، قَالَ : نَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً اشْتَرَكْنَا كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ .یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی (کہا) مجھے ابوزبیر نے خبرد ی کہ انہوں نے جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرے میں سات آدمی ایک قربانی میں شریک ہوئے تو ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پو چھا کیا احرام کے وقت سے ساتھ لائے گئے قربانی کے جانوروں میں بھی اس طرح شراکت کی جا سکتی ہے جیسے بعد میں خریدے گئے جا نوروں میں شراکت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ بھی ساتھ لائے گئے قربانی کے جانوروں ہی کی طرح ہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے انہوں نے کہا: ہم نے اس دن ستر اونٹ نحر کیے ہم سات سات آدمی (قربانی کے ایک) اونٹ میں شر یک ہوئے تھے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَأَمَرَنَا إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْهَدِيَّةِ " ، وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ حَجِّهِمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .ہمیں محمد بن بکر نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبردی (کہا) ہمیں ابوزبیر نے بتا یا کہ انہوں نے جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال سنا رہے تھے انہوں نے اس حدیث میں کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ہمیں حکم دیا کہ جب ہم احرا م کھولیں تو قر بانی کریں اور ہم میں سے چند (سات) آدمی ایک قر بانی میں شر یک ہو جا ئیں اور یہ (حکم اس وقت دیا) جب آپ نے ہمیں اپنے حج کے احرا م کھولنے کا حکم دیا، یہ بات بھی اس حدیث میں ہے۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا " .عطاء نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے مہینوں میں) عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھا تے (حج تمتع کرتے) تو ہم (یو م النحر اور بقیہ ایام تشر یق میں) سات افراد کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کرتے اس (ایک) میں شریک ہو جا تے۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہ ہے جو قربانی کے وقت خریدا جائے لیکن قربانی میں دونوں کا حکم ایک ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر (ذبح) کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 904]
1؎:
جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حج و عمرہ کے ’’ھدی‘‘ کے بارے میں ہے، جس کے اندر ابن عباس رضی اللہ عنہا کی اگلی حدیث قربانی کے بارے میں ہے (اور اس کی تائید صحیحین میں مروی رافع بن خدیج کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مالِ غنیمت میں ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں، یعنی: ایک اونٹ برابر دس بکریوں کے ہے) شوکانی نے ان دونوں حدیثوں میں یہی تطبیق دی ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر (ذبح) کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1502]
وضاحت:
1؎:
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے لیے دیکھئے: حدیث رقم (1501)
ان کی حدیث کا تعلق قربانی سے ہے، جب کہ جابر کی حدیث کا تعلق حج و عمرہ کے ہدی سے ہے۔
بھینس کو فارسی میں گاومیش کہا جاتا ہے، اس کا معرب جاموس ہے۔ یہ سوڈان اور مصر میں پائی جاتی تھی۔ اہل لغت کا اتفاق ہے کہ بھینس گائے کی جنس ہے۔
بھینس کی قربانی پر اجماع ہے۔
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا بھینس کی سات قربانیاں ہو سکتی ہیں؟ فرمایا: «لَا أُعْرِفُ خِلَافَ هَذَا .»
مجھے اس مسئلہ میں اختلاف معلوم نہیں۔ [مسائل الإمام أحمد واسحاق بن راهويه برواية الكوسج: 369/2]
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں: «أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ حُكْمَ الْجَوَامِيسِ حُكْمُ الْبَقَرِ .»
اہل علم کا اجماع ہے کہ بھینسوں کا حکم گائیوں والا ہے۔ [الإجماع، ص 45]
❀ علامه ابن قدامہ رحمہ اللہ (220ھ) فرماتے ہیں: «لا خِلَافَ فِي هَذَا نَعْلَمُهُ .»
ہم اس میں کچھ اختلاف نہیں جانتے۔ [2444/2: المغني]
❀ حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ (228 ھ) فرماتے ہیں: «أَجْمَعُوا أَنَّ الْجَوَامِيسَ بِمَنْزِلَةِ الْبَقَرِ، وَأَنَّ اسْمَ الْبَقَرِ وَاقِعُ عَلَيْهَا .»
اہل علم کا اجماع ہے کہ بھینسیں حکم میں گائے کی طرح ہیں، اس پر گائے کا نام صادق آتا ہے۔ [الإقناع فى مسائل الإجماع: 205/1]
بھینس بھی گائے کی جنس ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں: «الْجَوَامِيسُ بِمَنْزِلَةِ الْبَقَرِ حَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ فِيهِ الْإِجْمَاعَ .»
بھینسیں گائے کی طرح ہے، ابن منذر رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ [مجموع الفتاوى: 37/25]
❀ فقہ حنفی کی معتبر ترین کتاب میں ہے: «البقرُ وَالْجَوَامِيسُ جِنْسُ وَاحِدٌ .»
گائے اور بھینس ایک ہی جنس سے ہیں۔ [فتاوي عالمگيري 120/3]
❀ نیز لکھا ہے: «لَا يَقَعُ اسْمُ الْبَقَرِ عَلَى الْجَامُوسِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ جِنْسِ الْبَقَرِ هُكَذَا فِي الْبَدَائِع .»
بھینس پر بقر کا لفظ نہیں بولا جاتا ہے، اگرچہ بھینس بھی بقر کی جنس میں سے ہے، بدائع الصنائع میں اس طرح درج ہے۔" [فتاوي عالمگيري: 577/3]
❀ علامه ابن بزاز کردری حنفی رحمہ اللہ (827ھ) فرماتے ہیں: «الْجَامُوسُ يَجُوزُ فِيهَا .»
بھینس کی قربانی جائز ہے۔" [الفتاوى البزازية: 289/6]
❀ مشہور لغوی، علامہ ازہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «أَجْنَاسُ الْبَقَرِ مِنْهَا الْجَوَامِيسُ .»
گائے کی مختلف اجناس ہیں، ایک ان میں سے بھینس بھی ہے۔" [الزاهر فى غريب ألفاظ الشافعي، ص 101]
❀ علامہ وہبہ زحیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَا خِلَافَ فِي أَنَّ الْجَوَامِيسَ وَالْبَقَرَ سَوَاءٌ لِاتِّحَادِ الْجِنْسِيَّةِ، إِذْ هُوَ نَوْعٌ مِّنْهُ .»
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ گائیں اور بھینسیں (حکم میں) برابر ہیں، کیونکہ ان کی جنس ایک ہے، بھینس گائے کی ایک قسم ہے۔" [الفقه الإسلامي: 1926/3]
❀ لغوی امام، علامہ ابونصر جوہری رحمہ اللہ: (393ھ) فرماتے ہیں: «الْجِنْسُ الضَّرْبُ مِنَ الشَّيْءِ، وَهُوَ أَعَمُّ مِنَ النَّوْعِ .»
جنس کسی چیز کی قسم کو کہتے ہیں، اس میں نوع کی بہ نسبت عموم پایا جاتا ہے۔" [الصحاح تاج اللغة: 915/3]
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) نقل کرتے ہیں: «الْبَقَرُ جِنْسُ، وَأَنْوَاعُهُ: الْجَامُوسُ .......»
بقر جنس ہے اور اس کی انواع میں ایک بھینس بھی ہے۔" [البناية شرح الهداية: 324/3]
بھینس کی قربانی کے متعلق مفتی پاکستان محدث دوراں استاذ محترم حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ کا فتویٰ
سوال: کیا جاموس (بھینسا) بھی قربانی کے لیے جائز ہے؟ (24 اپریل92ء)
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قرآن مجید نے قربانی کے لیے «بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ» کومتعین کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لِيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ﴾ [سورة الأنعام 34]
’’تاکہ جو مویشی چار پائے اللہ نے ان کو دیے ہیں (اُن کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر اللہ کا نام لیں۔ ‘‘
«بَهِيْمَة الْاَنْعَامِ» سے مراد اُونٹ، گائے، بکری، دنبہ، چھترہ وغیرہ ہیں ان میں بھینس شامل نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان جانوروں کے علاوہ کی قربانی منقول نہیں۔ البتہ حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ بھینس کی قربانی کرنا جائز ہے۔ ان لوگوں نے بھینس کو گائے پر قیاس کیا ہے۔ لیکن سب لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ بھینس اوصاف کے اعتبار سے گائے سے بالکل مختلف جنس ہے۔ اس بناء پر فقہائے کرام نے اس بات کی صراحت کی ہے۔ کہ اگر کسی نے قسم کھا لی کہ وہ گائے کا گوشت نہیں کھائے گا لیکن اس نے بھینس کا گوشت کھا لیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اور جن لغویوں نے اس کو گائے کی قسم قرار دیا ہے بظاہر تساہل معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللّٰهُ تَعَالٰي اَعْلَمُ»
اور کوئی کہے جب بھینس کی قربانی دینی درست نہیں، پھر تو اس کی زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہونی چاہیے؟ اس اعتراض کا جواب شیخی المکرم محدث روپڑی رحمہ اللہ کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔
یاد رہے کہ بعض مسائل احتیاط کے لحاظ سے دو جہتوں والے ہوتے ہیں اور عمل احتیاط پر کرنا پڑتا ہے۔
ام المومنین سودۃ رضی اللہ عنہ کے والد زمعہ کی لونڈی سے زمانہ جاہلیت میں عتبہ بن ابی وقاص نے زنا کیا۔ لڑکا پیدا ہوا۔ جو اپنی والدہ کے پاس پرورش پاتا رہا۔ زانی مر گیا اور اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کر گیا کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے اس کو اپنے قبضہ میں کر لینا۔ فتح مکہ کے موقعہ پر سعد بن ابی وقاص نے اس لڑکے کو پکڑ لیا۔ اور کہا یہ میرا بھتیجا ہے۔ زمعہ کے بیٹے نے کہا یہ میرے باپ کا بیٹا ہے۔ لہٰذا میرا بھائی ہے اس کو میں لوں گا۔ مقدمہ دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الحَجَرُ» [مشكوة باب اللعان، فصل اول، صحيح البخاري، بَابٌ: لِلْعَاهِرِ الحَجَرُ، رقم: 6817]
یعنی "اولاد بیوی والے کی ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔"
یعنی وہ ناکام ہے اور اس کا حکم سنگسار کیا جانا ہے۔ بچہ سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے حوالہ کردیا۔ جو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا بھی بھائی بن گیا۔ لیکن سودہ رضی اللہ عنہا کو حکم فرمایا کہ اس سے پردہ کرے، کیوں کہ اس کی شکل و صورت زانی سے ملتی جلتی تھی۔ جس سے شبہ ہوتا تھا کہ یہ زانی کے نطفہ سے ہے۔ اس مسئلہ میں شکل و صورت کے لحاظ سے تو پردہ کا حکم ہوا۔ اور جس کے گھر میں پیدا ہوا، اُس کے لحاظ سے اس کا بیٹا بنا دیا گویا احتیاط کی جانب کو ملحوظ رکھا۔ ایسا ہی بھینس کا معاملہ ہے۔ اس میں بھی دونوں جہتوں میں احتیاط پر عمل ہو گا۔ زکوٰۃ ادا کرنے میں احتیاط ہے اور قربانی نہ کرنے میں احتیاط ہے۔ اس بناء پر بھینسے کی قربانی جائز نہیں اور بعض نے جو یہ لکھا ہے کہ «اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِنَ الْبَقَرِ» یعنی بھینس گائے کی قسم ہے۔ یہ بھی اسی زکوٰۃ کے لحاظ سے صحیح ہو سکتا ہے ورنہ ظاہر ہے کہ بھینس دوسری جنس ہے۔ [فتاويٰ اهل حديث، ج: 2، ص: 426۔ 427]
یہ وہ عظیم مسئلہ ہے جس کی بنا پر محقق شہیر مولانا عبدالقادر حصاری رحمہ اللہ نے شیخی المکرم کو مجتہد کے لقب سے نوازا تھا۔ الاعتصام: مولانا عبدالقادر عارف حصاری مرحوم نے ابتدائً بھینس کی قربانی کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا تھا لیکن بعد میں رجوع کر کے جواز کا فتویٰ دے دیا تھا۔ جو الاعتصام میں چھپا ہوا موجود ہے۔ علاوہ ازیں صاحب ’’مرعاۃ‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی نے بھی اس کے جواز سے انکار نہیں کیا ہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ’’الاعتصام‘‘ 2-اکتوبر، 1981ء (ص۔ ی) «رحمهما الله رحمة واسعة»
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں اس احتیاطی پہلو کو خوب واضح کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: [باب تفسير المشبهات كتاب البيوع]
یاد رہے گائے اور بھینس تیس رأس میں سے ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی، بچہ یا بچی زکوٰۃ میں واجب ہے بشرطیکہ وہ باہر چرتی ہوں۔ ان کا چارہ قیمتاً نہ ہو۔ [مؤطا امام مالك باب ما جاء فى صدقة البقرة، رقم: 24]
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی
جلد: 3، کتاب الصوم: صفحہ: 414
محدث فتویٰ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2809]
1۔
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گائے بیل اونٹ۔
اور اونٹنی کی قربانی رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے۔
تو ان کا گوشت بھی حلال اور طیب ہے۔
لہذا ان جانوروں کا گوشت کھانا درست ہے۔
2۔
اونٹنی اور گائے کا دودھ بھی طیب اور حلال ہے۔
اس لئے ان جانوروں کا دودھ پینا بھی درست ہے۔
3۔
مذکورہ احادیث میں قربانی کے موقع پر گائے اور اونٹ میں سات سات افراد کے شریک ہونے کا ذکر ہے۔
جبکہ جامع الترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایات میں گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہونے کا ذکر موجود ہے۔
لیکن دونوں قسم کی روایات میں باہم کوئی تعارض نہیں۔
کیونکہ اونٹ میں دس افراد کی شرکت کا واقعہ قربانی کے موقع کا ہے۔
جب کہ سات افراد کی شرکت کا تعلق حج وعمرہ سے ہے۔
بنا بریں حج وعمرہ میں گائے اور اونٹ میں صرف سات سات افراد ہی شریک ہوں گے۔
جبکہ عام قربانی میں گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہوسکتے ہیں۔
یہ فرق احادیث سے ثابت ہے۔
بعض لوگ عقیقوں کے حصے بنا کر ایک گائے میں کئ کئی عقیقے کرلیتے ہیں۔
لیکن یہ طریقہ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
علاوہ ازیں ایسا کرنا نص کے بھی خلاف ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3132]
فوائد و مسائل:
پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔
اور دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔
امام مسلم ؒ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج میں بھی اور عمرے میں بھی سات آدمیوں کو ایک اونٹ میں شریک کیا۔ (صحيح مسلم، الحج، باب جوازالاشتراك في الهدي وإجزاء البدنة والبقرة كل واحدة منهما عن سبعة، حديث: 1318)
لیکن ان احادیث میں باہم کوئی تعارض نہیں کیونکہ اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کا واقعہ عام قربانی کے موقع کا ہے جب کہ سات آدمیوں کی شرکت کا تعلق حج وعمرہ سے ہے۔
بنابریں حج وعمرہ میں گائے اور اونٹ دونوں میں صرف سات سات افراد ہی شریک ہونگے جب کہ عام قربانی میں گائے میں سات اور اونٹ میں دس (10)
افراد شریک ہوسکتے ہیں۔
یہ فرق حدیث سے ثابت ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج) تمتع کر رہے تھے تو ہم سات لوگوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کرتے اور اس میں شریک ہوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4398]
«. . . عن جابر بن عبد الله انه قال: نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة . . .»
". . . سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "ہم نے حدیبیہ والے سال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کے طرف سے اونٹ اور سات آدمیوں کی طرف سے گائے (بطور قربانی) ذبح کی . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 347]
[وأخرجه مسلم 1318/350، من حديث ما لك به وصرح ابوالزبير بالسماع عند احمد 378/3 ح 15043]
تفقه
➊ گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور دوسری حدیث کی رو سے اونٹ کی قربانی میں دس افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ ديكهئے: [سنن الترمذي: 1501، وسند حسن، سنن النسائي:4397، سنن ابن ماجه: 3131]
➋ حدیبیہ والا سال 6 ہجری ہے۔ دیکھئے: [التمهيد 147/12]
➌ اگر قربانی کے حصہ داروں میں سے ایک شخص ذمی (غیرمسلم) ہو تو علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے۔ راجح یہی ہے کہ ذمی کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔
➍ اگر قربانی کے حصہ داروں میں سے کوئی شخص بدعتی ہے جس کی بدعت بدعت مکفرہ نہیں تو قربانی جائز ہے اور بہتر یہی ہے کہ ذبح کرنے والا صحیح العقیدہ ہو اور کسی بدعتی کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔
➎ ساری قربانی ایک شخص کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔
➏ اگر گائے یا اونٹ میں مثلاً چھ آدمی شریک ہوں تو ایک آدمی کو دو حصے لینے چاہیئں اور یہ نہ کیا جائے کہ ساتویں حصے کو چھ آدمیوں پر تقسیم کر دیا جائے کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
➐ اگر کسی عذر کی وجہ سے آدمی حرم نہ جا سکے تو اس کی طرف سے قربانی خارج حرم بھی جائز ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ حدود حرم میں یہ قربانی کی جائے۔
➑ سارے گھرو کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کافی ہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 1505، وسنده حسن وقال: "حسن صحيح"]
● سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم سارے گھر کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے تھے۔ [الموطأ 486/2 ح 1069، وسنده صحيح، والسنن الكبريٰ للبيهقي 268/9]
● اس پر قیاس کرتے ہوئے سارے گھر کی طرف سے گائے کا ایک حصہ کافی ہے۔ «والله اعلم»
➒ حج کے علاوہ قربانی کرنا سنت ہے، واجب نہیں ہے۔ دیکھئے: [الموطأ 487/2 قال مالك: الضحية سنة وليست بواجبة ولا أحب لأحد ممن قوي على ثمنها أن يتركها]
➓ اس پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے یعنی گائے کی ہی ایک قسم ہے۔ دیکھئے کتاب [الاجماع لا بن المنذر 91]
لیکن دیگر دلائل اور احتیاط کی رو سے بہتر یہی ہے کہ اس کی قربانی نہ کی جائے۔ «والله أعلم»