صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلاَلِهَا: باب: قربانی کے گوشت، کھال اور جھول کو صدقہ کرنے کا حکم، اور قصائی کو ان میں سے کوئی چیز نہ دینے کا حکم، اور قربانی کی نگرانی کے لیے اپنا نائب مقرر کرنے کا جواز۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا ، وَجُلُودِهَا ، وَأَجِلَّتِهَا ، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا ، قَالَ : نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عَنْدِنَا " ،حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور یہ کہ ان کا گوشت، چمڑے اور جھل صدقہ کر دوں، اور قصاب کی اجرت میں اس سے کچھ نہ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے۔‘‘
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حدثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ،یہی روایت امام محمد اپنے تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا : أَجْرُ الْجَازِرِ .سفیان اور ہشام دونوں نے ابن ابی نجیحسے انہوں نے مجاہد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ان دونوں کی حدیث میں قصاب کی اجرت کا ذکر نہیں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مُجَاهِدًا ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا ، وَجُلُودَهَا ، وَجِلَالَهَا ، فِي الْمَسَاكِينِ ، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا " ،حسن بن مسلم نے خبر دی کہ انھیں مجا ہد نے خبر دی انھیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبردی انھیں علی بن ابی طا لب رضی اللہ عنہ نے خبردی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ آپ کی قر بانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور انھیں حکم دیا کہ آپ کی پو ری قربانیوں کو (یعنی) ان کے گو شت کھالوں اور (ان کی پشت پر ڈالی ہو ئی) جھولوں کو مسکینوں میں تقسیم کر دیں اور ان میں سے کچھ بھی ذبح کی اجرت کے طور پر نہ دیں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مُجَاهِدًا ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِمِثْلِهِ .عبدالکریم بن ما لک جزری نے مجا ہد سے (باقی ماندہ) اسی سابقہ سند کے ساتھ خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا۔۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس میں صاف یوں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو قربانی میں شریک کر لیا تھا۔
گویا آنحضرت ﷺ نے ان امور کے لیے حضرت علی ؓ کو وکیل بنایا۔
اسی سے وکالت کا جواز ثابت ہوا جو باب کا مقصد ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریک کو وکیل بنانا جائز ہے جیسا کہ وکیل کو کسی کام میں شریک بنانا جائز ہے۔
(2)
اگرچہ اس حدیث میں شریک بنانے کا ذکر نہیں ہے، تاہم دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے حضرت علی ؓ کو اپنی قربانیوں میں شریک کرلیا، پھر انھیں تقسیم کرنے پر مامور فرمایا، یعنی قربانیوں کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سو اونٹوں کی قربانی دی تھی، ان میں سے تریسٹھ اونٹ خود ذبح کیے اور باقی اونٹوں کو ذبح کرنے کے متعلق حضرت علی ؓ کو حکم دیا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950(1218)
، و فتح الباري: 604/4)
(وحیدی)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں ثم أعطی علیا فنحر ما عبرو أشرکه في هدیه ثم أمر من کل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت فأکلا من لحمها و شربا من مرقها۔
یعنی آپ ﷺ نے بقایا اونٹ حضرت علی ؓ کے حوالہ کر دئیے اور انہوں نے ان کو نحر کیا اور آپ ﷺ نے ان کو اپنی ہدی میں شریک کیا پھر ہر ہر اونٹ سے ایک ایک بوٹی لے کر ہانڈی میں اسے پکایا گیا پس آپ دونوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
یہ کل سو اونٹ تھے جن میں سے آنحضرت ﷺ نے تریسٹھ اونٹ نحر فرمائے باقی حضرت على ﷺ نے نحر کئے۔
قال البغوي في شرح السنة و أما إذا أعطی أجرته کاملة ثم تصدق علیه إذا کان فقیراً کما تصدق علی الفقراء فلا بأس بذلك (فتح)
یعنی امام بغوی نے شرح السنہ میں کہا کہ قصائی کو پوری اجرت دینے کے بعد اگر وہ فقیر ہے تو بطور صدقہ قربانی کا گوشت دے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
و قد اتفقوا علی أن لحمها لا یباع فکذلك الجلود و الجلال و أجازہ الأوزاعي و أحمد و إسحاق و أبوثور (فتح)
یعنی اس پر اتفاق ہے کہ قربانی کا گوشت بیچا نہیں جاسکتا اس کے چمڑے اور جھول کا بھی یہی حکم ہے مگر ان چیزوں کو امام اوزاعی اور احمد و اسحق اور ابوثور نے جائز کہا ہے کہ چمڑا اور جھول بیچ کر قربانی کے مستحقین میں خرچ کردیا جائے۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ قربانی کے اونٹوں کی تعداد سو تھی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1718)
ابوداود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیس اونٹ خود ذبح کیے اور باقی حضرت علی ؓ کے سپرد کر دیے کہ وہ انہیں نحر کریں۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1764)
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ قربان گاہ تشریف لے گئے، وہاں جا کر تریسٹھ اونٹ خود ذبح کیے اور باقی اونٹ حضرت علی ؓ نے نحر کیے اور آپ نے انہیں اپنی قربانیوں میں شریک کیا۔
پھر ہر اونٹ سے ایک ایک بوٹی لے کر ہنڈیا میں پکایا گیا۔
پھر آپ دونوں نے گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950(1218)
ابوداود کی روایت کو شیخ البانی ؒ وغیرہ نے منکر اور صحیح مسلم کی روایت کو راجح قرار دیا ہے، تاہم اگر ابوداود کی روایت صحیح ثابت ہو جائے تو پھر ان روایات میں تطبیق اس طرح ہے کہ پہلے آپ نے تیس اونٹ ذبح کیے، پھر حضرت علی ؓ نے سینتیس اونٹ نحر کیے، اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے تینتیس اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے۔
(2)
قربانی کی کھالیں غرباء و مساکین میں تقسیم کر دینی چاہئیں۔
انہیں فروخت کر کے ان کی رقم بھی دی جا سکتی ہے۔
قربانی کی کھال کو ڈول یا مصلے کی شکل میں خود بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قربانی اور ہدی کے گوشت کو مت فروخت کرو، خود کھاؤ اور اپنے تصرف میں لاؤ، اسی طرح ان کی کھالیں خود استعمال کرو، انہیں مت فروخت کرو، ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔
‘‘ (مسندأحمد: 15/4)
بہرحال قصاب کو بطور اجرت دینا منع ہے، ہاں اسے گوشت بطور صدقہ ہدیہ دینا جائز ہے مگر احتیاط اسی میں ہے کہ اسے گوشت نہ دیا جائے کیونکہ اس طرح مزدودی میں وہ کچھ نہ کچھ لحاظ کرے گا۔
(فتح الباري: 703/3)
آج کل مدارس اسلامیہ کے غریب طلباءبھی اس مد سے امداد کئے جانے کے مستحق ہیں جو اپنا وطن اور متعلقین کو چھوڑ کر دور دراز مدارس اسلامیہ میں خالص دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے ہیں اور جن میں اکثریت غرباءکی ہوتی ہے، ایسے مدرسے ان کی امداد بہت بڑا کار ثواب ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت، جھولیں اور کھالیں تقسیم کر دینا مسنون عمل ہے اور اس کارخیر کے لیے کسی کو وکیل بھی بنایا جا سکتا ہے۔
دینی مدارس کے غریب طلباء بھی اس کے حقدار ہیں، قربانی کی کھالیں انہیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
(2)
ہمارے ہاں دیہاتوں میں کھالیں وغیرہ ائمہ مساجد کو دے دی جاتی ہیں جس طرح قصاب کو بطور اجرت کھال نہیں دی جا سکتی اسی طرح امام مسجد کو بھی بطور حق الخدمت قربانی کی کھال دینا درست نہیں۔
اگر وہ غریب یا مسکین ہے تو اسے بقدر حصہ دیا جا سکتا ہے، تاہم تمام کھالوں پر قبضہ جما لینا کسی صورت میں جائز نہیں کیونکہ یہ غرباء اور مساکین کا حق ہے اور ان کو یہ حق ملنا چاہیے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث میں اختصار ہے۔
درحقیقت رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹ قربانی کے طور پر ذبح کیے تھے۔
حضرت علی ؓ کو ان کا گوشت، کھالیں اور جھولیں تقسیم کرنے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1718) (2)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانوروں کو جھول اور قلادے پہنائے جائیں۔
ان سے تو عمل کا اظہار ہوتا ہے جبکہ ہمیں حکم ہے کہ اپنے اعمال لوگوں سے چھپائیں تاکہ ریاکاری نہ ہو جائے؟ حافظ ابن حجر ؒ نے اس کا جواب دیا ہے کہ حج کے تمام اعمال اظہار پر مبنی ہی، مثلا: احرام، طواف، وقوف، اسی طرح اشعار و تقلید میں بھی اظہار ہے۔
(فتح الباري: 694/3)
دراصل یہ انسان کی نیت پر موقوف ہے۔
اگر نیت میں نمودونمائش مقصود نہیں تو ان اعمال کے اظہار سے عنداللہ مؤاخذہ نہیں ہو گا، اور اگر نیت میں ریاکاری اور نمودونمائش ہے تو اس کی موجودگی میں کوئی عمل بھی شرف قبولیت سے ہمکنار نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
(وحیدی)
صحیح مسلم میں حدیث جابر میں ہے کہ اس دن رسول کریم ﷺ نے تریسٹھ اونٹ نحر فرمائے پھر باقی پر حضرت علی ؓ کو مامور فرمادیا تھا۔
(1)
جزار اس مزدوری کو کہتے ہیں جو قصاب کو اونٹ ذبح کرنے، کھال اتارنے اور اس کا گوشت بنانے کے عوض دی جاتی ہے۔
چونکہ عرب میں اونٹ کی سری اور پائے مزدوری میں دینے کا رواج تھا اور یہ دونوں قربانی کا حصہ ہیں جو محتاج لوگوں کو فی سبیل اللہ دینے چاہئیں، اس لیے اونٹ کے سری پائے یا کھال بطور مزدوری دینا منع ہے۔
(2)
پہلی حدیث میں قربانی کی جھولیں اور کھال تک خیرات کرنے کا بیان ہے۔
دوسری حدیث میں صراحت کے ساتھ قربانی کا کوئی حصہ قصاب کو بطور اجرت دینے کی ممانعت ہے بلکہ اسے معاوضہ اپنی طرف سے دینا چاہیے، تاہم خیرات کے طور پر گوشت وغیرہ قصاب کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔
جس طرح قربانی کا گوشت فروخت کرنا منع ہے اسی طرح اس کا کوئی حصہ بطور معاوضہ دینا بھی جائز نہیں۔
واللہ أعلم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں (غریبوں اور محتاجوں میں) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ” ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3099]
فوئاد و مسائل: (1)
جانوروں کوسردی وغیرہ سے بچانے کے لیے ان پر جھول ڈالنی درست ہے۔
(2)
قربانی کے جانوروں کی کھالیں اور جھولیں صدقہ کردینی چاہیئں۔
(3)
قربانی کے جانور کا گوشت قصاب کو اجرت کے طور پر دینا جائز نہیں۔
(4)
قربانی کا جانور قصاب سے اجرت دے کر ذبح کروانا جائز ہےجبکہ خود اپنے ہاتھ سےذبح کرنا افضل ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3157]
قربانی کا گوشت کھانا اور کھالیں اپنے استعمال میں لانا اگرچہ جائز ہےتاہم بہتر یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ غریبوں اور مسکینوں کو دیا جائے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ میں ’’ قربانی کے اونٹوں کی نگرانی و حفاظت کروں۔ “ یہ حکم دیا کہ میں ’’ ان کا گوشت اور چمڑا اور جھول کو مساکین و غرباء پر تقسیم کر دوں اور قصاب کو اس سے کچھ بھی نہ دوں۔“ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1166»
«أخرجه البخاري، الحج، باب لا يعطي الجزار من الهدي شيئًا، حديث:1716، 1717، ومسلم، الحج، باب الصدقة بلحوم الهدايا، وجلودها وجلالها...، حديث:1317.»
تشریح: 1. اس حدیث میں قربانی کے اونٹوں سے مراد حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربان کردہ وہ اونٹ ہیں جنھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے۔
ان کی تعداد ایک سو تھی۔
2.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت‘ اس کا چمڑا اور اس سے متعلق سامان‘ پالان اور رسی وغیرہ سب کچھ خیرات کر دینا چاہیے اور قصاب کو اجرت اس گوشت میں سے نہیں دی جا سکتی۔
اجرت و معاوضہ الگ سے دینا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کے جانوروں کا جھول نکیل اور رسی بھی تقسیم کر دینی چاہیے بعض لوگ صرف چمڑا تقسیم کرتے ہیں، دیگر مذکورہ چیزیں تقسیم نہیں کرتے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جانوروں کو سردی سے بچانے کے لیے یا اس پر سخت چیز لادنے کے لیے اس پر جھول ڈالنا درست ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور کا گوشت، جھول یا کھال اجرت میں قصاب کو دینا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی مزدوری اپنی جیب سے دینی چاہیے۔ جس چیز کو صدقہ کرنا ہے، وہ کسی اور کے سپر د بھی کی جاسکتی ہے۔صدقہ و خیرات والی چیز کو تقسیم کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔