صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لأَهْلِ السِّقَايَةِ: باب: ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہیں، اور پانی پلانے والوں کو اس کو چھوڑنے کی رخصت۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ " ،(محمد بن عبداللہ) بن نمیر اور ابواسامہ دو نوں نے کہا ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی اور ابن نمیر نے۔۔۔الفا ظ انھی کے ہیں۔۔۔ اپنے والد کے واسطے سے بھی عبید اللہ سے روایت کی کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بن المطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ (زمزم پر حاجیوں کو) پا نی پلانے کے لیے منیٰ کی را تیں مکہ میں گزار لیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت مرحمت فرما دی۔
وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .عیسیٰ بن یو نس اور ابن جریج دونوں نے عبید اللہ بن عمر (بن حفص) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت عباس ؓ کا عذر معقول تھا۔
حاجیوں کو زمزم سے پانی نکال کر پلانا ان کا قدیمی عہدہ تھا۔
اس لیے آنحضرت ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔
(وحیدی)
و في الحدیث دلیل علی وجوب المبیت بمنی و أنه من مناسك الحج لأن التعبیر بالرخصة یقتضي أن مقابلهاواجب وأن الإذن وقع للعلة المذکورة و إذا لم توجد أو ما في معناها لم یحصل الإذن و بالوجوب قال الجمهور۔
(فتح)
یعنی منی میں رات گزارنا واجب اور مناسک ِحج سے ہے، جمہور کا یہی قول ہے۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو علت مذکورہ کی وجہ سے مکہ میں رات گزارنے کی اجازت ہی دلیل ہے کہ جب ایسی کوئی علت نہ ہو تو منیٰ میں رات گزارنا واجب ہے اور جمہور کا یہی قول ہے۔
(1)
طواف افاضہ کے بعد ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنی چاہئیں اور ان دنوں زوال آفتاب کے بعد تین جمرات کو رمی کی جائے اور اللہ کا ذکر کیا جائے جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ طواف افاضہ کرنے کے بعد منیٰ کی طرف لوٹے اور ایام تشریق کی راتیں وہیں بسر کیں۔
اس دوران میں جب سورج ڈھل جاتا تو آپ جمرات کو کنکریاں مارتے۔
جمہور علماء کے نزدیک ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنا ضروری ہیں کیونکہ یہ عمل مناسک حج میں سے ہے اور مناسک حج پر عمل کرنا واجب ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں فرمایا تھا: ’’مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔
‘‘ (2)
امام بخاری ؒ نے صرف ضرورت مند حضرات کے لیے مکہ میں رات گزارنے کی اجازت کو ثابت کیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو منیٰ میں ایام تشریق کی راتیں گزارنا ضروری ہیں، اجازت طلب کرنے اور رخصت دینے کا مطلب بھی یہی ہے۔
یہ اجازت کسی ضرورت کے پیش نظر ہے جیسا کہ حضرت عباس ؓ نے حاجیوں کو پانی پلانے کا بندوبست کرنا تھا، اس لیے انہوں نے اجازت طلب کی اور رسول اللہ ﷺ نے رخصت دے دی، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی اجازت دی۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1975)
یہ ضرورت عام ہے، خواہ پانی پلانے کا بندوبست کرنا ہو یا بیماری وغیرہ لاحق ہو۔
اگر کوئی دو دن قیام کے بعد واپس لوٹ آئے تو اس کی بھی اجازت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاذْكُرُوا اللَّـهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ ’’اور ان گنتی کے دنوں میں اللہ کو یاد کرو پھر جس نے دو دنوں (منیٰ سے مکے کی طرف واپسی)
میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
‘‘ (البقرة: 203: 2) (3)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں تین روایات پیش کی ہیں۔
پہلی روایت کا متن علامہ اسماعیلی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس ؓ کو پانی پلانے کا بندوبست کرنے کی وجہ سے ایام تشریق کی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت دی۔
اسی طرح دوسری روایت کے متن کو امام احمد نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے۔
(مسندأحمد: 19/2)
ابو اسامہ کی متابعت کو امام مسلم نے، عقبہ بن خالد کى متابعت کو عثمان بن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں اور ابو ضمرہ انس بن عیاض کی متابعت کو خود امام بخاری ؒ نے باب سقایۃ الحاج، حدیث: 1634 کے تحت متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 730/3)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1959]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی، کیونکہ زمزم کے پلانے کا کام ان کے سپرد تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3065]
فوائد و مسائل:
(1)
مکہ مکرمہ میں قریش کی مختلف شاخوں کو مختلف مناصب حاصل تھے۔
رسول اللہﷺ کے اجداد میں سے قصی بن کلاب کو جو مناصب حاصل تھےوہ انھوں نے اپنے بیٹوں میں تقسیم کیےپھر وہ منصب ان کی اولاد میں تقسیم ہوئے تو سقایت (حاجیوں کو پانی پلانے کا منصب)
بنو عبد مناف کو اور حجابت (کعبہ کی خدمت اور کلید برادری)
بنو عبد الدار کو ملی۔
رسول اللہ ﷺ کے حج کے موقع پر سقایت کا یہ منصب حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا۔ (الرحيق المختومص: 53)
(2)
منی کے ایام سے مراد ذوالحجہ کی گیارہ بارہ اور تیرہ تاریخ ہے۔
جن میں حاجی منی میں رہتے ہیں۔
ان ایام کی راتیں بھی منی میں گزارنی چاہییںا لبتہ حاجیوں کی خدمت کے سلسلے میں خدام مکہ مکرمہ میں بھی رہ سکتے ہیں۔ (3)
حاجیوں کی خدمت ایک بڑا شرف ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ منٰی والی راتیں مکہ میں کاٹیں تاکہ وہ آب زمزم پلا سکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دیدے دی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 635]
«فاذن له» یہ اجازت اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ معذور نہ ہوں ان کے لیے منیٰ ہی میں یہ راتیں گزارنا واجب ہے اور جنہیں کوئی عذر پیش آ جائے، مثلاً: منیٰ میں خیمے میں آگ بھڑک اٹھے اور طویل رات گزارنا ناممکن و مشکل نظر آئے تو وہاں رات گزارنا ضروری نہیں اور اسی طرح تیسری رات بھی وہاں گزارنا واجب نہیں کیونکہ جو شخص جلدی کر کے دو دن ہی منیٰ میں رہ کر چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا ہے۔