صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلاَةِ بِهِ: باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " .یونس نے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ (وادی محصب) میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے باہم کفر پر (قائم رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى : " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ، وَذَلِكَ إِنَّ قُرَيْشًا ، وَبَنِي كِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ، أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، يَعْنِي بِذَلِكَ : الْمُحَصَّبَ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، منیٰ میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم خیف بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انہوں نے آپس میں کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں۔‘‘ اس کی صورت یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف، آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں کہ ہم ان سے اس وقت تک شادی و بیاہ اور خرید و فروخت نہیں کریں گے، جب تک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ نہیں کرتے، خیف بنی کنانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وادی محصب تھی۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْزِلُنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری قیام گاہ ان شاءاللہ، جب اللہ تعالیٰ نے فتح دی ہے، خیف ہو گی، جہاں انہوں نے آپس میں کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے اہم ترین تاریخی مقامات کو یاد رکھنا بھی ثابت ہوا۔
1۔
خیف کے معنی پہاڑ کی ڈھلوان ہیں، یعنی بڑے پہاڑ سے اترنے کی جگہ۔
اس سے مراد وادی محصب ہے جو خیف بنوکنانہ کے نام سے مشہور تھی۔
وہاں قریش اور کنانہ نے بنوہاشم سے بائیکاٹ کے لیے آپس میں عہدوپیمان کیا تھا کہ جب تک یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے ہم ان سے خریدوفروخت اور رشتہ ناتانہیں کریں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے وہاں، یعنی خیف بنوکنانہ میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے قیام فرمایا کہ مکہ فتح ہوا، اسلام کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عنایت فرمایا، وہ کفر جس کے لیے کفار نے اس قدر اہتمام کیا تھا وہ باطل ثابت ہوا۔
(فتح الباري: 20/8۔
)
رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ کس سفر میں کہے تھے؟ اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔
مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کا واقعہ ہے جبکہ اس سے پہلے ایک روایت میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کے اگلے دن منی میں یہ الفاظ کہے تھے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1590۔
)
ممکن ہے کہ دونوں مرتبہ آپ نے ایسا کہا ہو۔
(فتح الباري: 20/8۔
)
واللہ اعلم۔
1۔
وادی محصب مکہ مکرمہ اور منیٰ کے درمیان واقع ہے۔
وہاں قریش نے بنوہاشم اور بنو مطلب سے بائیکاٹ کرنے کے متعلق قسمیں اٹھائی تھیں۔
ان کا باہمی معاہدہ ہوا تھا کہ ہم ان سے خریدوفروخت، شادی بیاہ، رہن سہن اور لین دین نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالے کر دیں۔
انھوں نے اس بائیکاٹ کا معاہدہ لکھ کی بیت اللہ مین لٹکا دیا تھا۔
اس کی وضاحت کتاب الحج میں ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1590)
2۔
اس حدیث میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحجہ کی بارہ تاریخ کو منیٰ میں قیام کے دوران میں فرمایا تھا۔
ایک روایت میں ہے: فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ عزم کا اظہار کیا تھا۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3882)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع اور فتح مکہ دونوں موقعوں پر اس کا اظہار کیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عزم کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسباب وذرائع مہیا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ممکن اور آسان کام کو غیر ممکن اور مشکل کر دے کیونکہ کائنات کا نظام اس کی مشیت سے وابستہ ہے۔
واللہ أعلم۔
مسجد خیف اسی جگہ واقع ہے۔
کسی وقت کفار مکہ نے اسلام دشمنی پر یہیں قسم کھائی تھی۔
اللہ نے ان کا غرور خاک میں ملا یا اور اسلام کو عظمت عطا فرمائی، قریش نے قسمیں کھائی تھیں کہ وہ رسول کریم ﷺ کو آپ کے پورے خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کو مکہ سے نکال کر ہی دم لیں گے آخر وہ دن آیا کہ وہ خود ہی نیست ونابود ہو گئے اور اسلام کا جھنڈا مکہ پر لہرایا۔
سچ ہے ﴿ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ (بني إسرائیل: 81)
مسلمان اگر آ ج بھی سچے مسلمان بن جائیں تو نصرت خدا وندی ان کی مدد کے لیے حاضر ہے۔
1۔
اس مقام پر یہ روایت مختصر طور پر بیان ہوئی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ مکہ مکرمہ آتے ہوئے کہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1589)
اس لیے احتمال ہے کہ فتح مکہ کے سال آپ نے ارشاد فرمایا ہو۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کے اگلے دن یہ الفاظ فرمائے کہ ہم کل خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ کریں گے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1590)
اس سے معلوم ہوتا ہےکہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ الفاظ فرمائے تھے جبکہ طواف وداع کے لیے مکہ جانے کا پرو گرام بنایا تھا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع دونوں وقت ایسا کہا تھا۔
(فتح الباري: 242/7)
2۔
امام بخاری ؒ کے نزدیک بنو ہاشم سے ترک موالات کا واقعہ شرائط کے مطابق نہ تھا اس لیے آپ نے مذکورہ حدیث ذکر کرنے پر اکتفاء کیا ہے کیونکہ یہ حدیث واقعے کی بنیاد پر دلالت کرتی ہے گویا اہل مغازی نے جو واقعہ نقل کیا ہے وہ اس حدیث کی تشریح ہے کہ مشرکین نے اپنے کفر پرجمے رہنے کی قسمیں اٹھائیں تھیں۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو ان کٹھن حالات سے نجات دی جو کفارقریش نے پیدا کر رکھے تھے۔
اس کو منصور بن عکرمہ نے لکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ شل کردیا۔
جب یہ معاہدہ بنی ہاشم اور بنی مطلب نے سنا تو وہ گھبرائے مگر اللہ کی قدرت کہ اس معاہدہ کے کاغذ کو دیمک نے کھالیا۔
جو کعبہ شریف میں لٹکا ہوا تھا۔
کاغذ میں فقط وہ مقام رہ گیا جہاں اللہ کا نام تھا۔
آنحضرت ﷺ نے اس کی خبر ابوطالب کو دی۔
ابو طالب نے ان کافروں کو کہا میرا بھتیجا یہ کہتا ہے کہ جاکر اس کاغذ کو دیکھو اگر اس کا بیان صحیح نکلے تو اس کی ایذا دہی سے باز آؤ، اگر جھوٹ نکلے تو میں اسے تمہارے حوالے کردوں گا پھر تم کو اختیار ہے۔
قریش نے جاکر دیکھا تو جیسا آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا تھا کہ ساری تحریر کو دیمک چاٹ گئی تھی، صرف اللہ کا نام رہ گیا تھا۔
تب وہ بہت شرمندہ ہوئے۔
آنحضرت ﷺ جو اس مقام پر جاکر اترے تو آپ نے اللہ کا شکر کیا اور یاد کیا کہ ایک دن تو وہ تھا۔
ایک آج مکہ پر اسلام کی حکومت ہے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے حج سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے خیف بنو کنانہ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ اسی جگہ کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے عزائم خاک میں ملا کر اپنے رسول ﷺ کو کامیاب فرمایا۔
آپ پر وہ وقت بھی آیا کہ آپ انتہائی مجبور تھے، رات کے وقت چھپ کر مکہ سے نکلے تھے، آج اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ مکرمہ کی حکومت عطا فرمائی تھی۔
(2)
جب کفار قریش کو یہ اطلاع ملی کہ حبشہ کے بادشاہ نے مکہ سے ہجرت کرنے والوں کی بہت عزت افزائی کی ہے تو انہیں سخت تکلیف ہوئی۔
رد عمل کے طور پر بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا ایک معاہدہ تحریر کیا کہ وہ ان سے میل جول، خرید وفروخت اور بیاہ شادی نہیں کریں گے جب تک وہ نبی ﷺ کو ہمارے حوالے نہ کر دیں، پھر انہوں نے اس دستاویز کو کعبہ کے اندر لٹکا دیا اور نبوت کے ساتویں سال اس بائیکاٹ کے نتیجے میں بنو ہاشم شعب ابی طالب میں بند ہو کر رہ گئے۔
بنو مطلب بھی ابو طالب کے پاس اس وادی میں چلے گئے۔
تین سال تک ان کے ہاں تاجروں کا آنا جانا بند رہا حتی کہ وہ سخت مشقت میں پڑ گئے۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی خبر دی کہ صحیفے کی ظلم و ستم پر مشتمل باتوں کو دیمک چاٹ گئی ہے، صرف اللہ کا نام باقی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے اس کا تذکرہ کیا تو اس نے کفار قریش سے کہا کہ تم اپنے معاہدے کو دیکھو۔
اگر وہ صحیح سالم ہے تو میں اپنے بھتیجے کو تمہارے حوالے کر دوں گا، چنانچہ جب صحیفہ دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کی بات صحیح نکلی۔
اللہ کے نام کے سوا تمام تحریر کو دیمک نے کھا لیا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر کفار قریش بہت نادم ہوئے اور بائیکاٹ ختم کرنے پر مجبور ہو گئے، چنانچہ نبوت کے دسویں سال بنو ہاشم وغیرہ شعب ابی طالب سے باہر آئے۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 365/6) (3)
امام بخاری ؒ نے بنو عبدالمطلب کے بجائے بنو المطلب کو حقیقت سے زیادہ قریب بتایا ہے کیونکہ عبدالمطلب ہاشم کے بیٹے ہیں اور مطلب ہاشم کے بھائی ہیں اور یہ دونوں عبد مناف کے بیٹے ہیں، الغرض کفار قریش نے بنو عبد مناف کے متعلق معاشی بائیکاٹ کرنے کی قسم اٹھائی تھی اور وہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں نہ کہ بنو عبدالمطلب۔
واللہ أعلم۔
(4)
واضح رہے کہ اس دستاویز کو لکھنے والا منصور بن عکرمہ عبدری تھا جس کا ہاتھ شل ہو گیا تھا۔