صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلاَةِ بِهِ: باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 1310
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وادی أَبْطَحَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً ، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ " ، قَالَ نَافِعٌ : قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ .نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وادی محصب میں ٹھہرنا سنت سمجھتے تھے، اور وہ سفر کے دن ظہر کی نماز حصبه میں پڑھتے تھے، نافع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء محصب میں اترتے رہے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وادی أَبْطَحَ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3167]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (مُحَصَّب کو حَصْبَه، أَبْطَحَ، بُطْحَاء)
اور خِیْف بَنِی کِنَانَہ بھی کہتے ہیں۔
حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی کے بعد وادی مَحَصَّب میں قیام فرمایا تھا اور یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے لیے واپس ہوئے تھےآپ کی اقتداء میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور خلفائے راشدین یہاں قیام کرتے تھے اس لیے آئمہ اربعہ کے نزدیک یہاں قیام کرنا مسنون ہے لیکن بعض آئمہ کا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کے مطابق نظریہ، یہ ہے کہ یہاں قیام سنت نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محض اپنی سہولت اور آسانی کے لیے یہاں ٹھہرے تھے۔
اور خِیْف بَنِی کِنَانَہ بھی کہتے ہیں۔
حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی کے بعد وادی مَحَصَّب میں قیام فرمایا تھا اور یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے لیے واپس ہوئے تھےآپ کی اقتداء میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور خلفائے راشدین یہاں قیام کرتے تھے اس لیے آئمہ اربعہ کے نزدیک یہاں قیام کرنا مسنون ہے لیکن بعض آئمہ کا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کے مطابق نظریہ، یہ ہے کہ یہاں قیام سنت نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محض اپنی سہولت اور آسانی کے لیے یہاں ٹھہرے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1310 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 921 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´وادی ابطح میں قیام کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی الله عنہم ابطح ۱؎ میں قیام کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 921]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی الله عنہم ابطح ۱؎ میں قیام کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 921]
اردو حاشہ:
1؎:
ابطح، بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
1؎:
ابطح، بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 921 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3069 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´وادی محصب میں اترنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ابطح میں اترا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3069]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ابطح میں اترا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3069]
اردو حاشہ:
فائده:
مذکورہ بالا حضرات نے مستحب سمجھ کر یہاں قیام کیا تھا لازمی عمل کے طور پر نہیں۔ (فتح الباري: 3/ 746)
فائده:
مذکورہ بالا حضرات نے مستحب سمجھ کر یہاں قیام کیا تھا لازمی عمل کے طور پر نہیں۔ (فتح الباري: 3/ 746)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3069 سے ماخوذ ہے۔