صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ: باب: سر منڈانا، بال کٹوانے سے بہتر ہے، اور بال کٹوانے کا جواز۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : " حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِينَ " .لیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔“ ایک یا دو مرتبہ (دعا کی) پھر فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ (ان کے لیے صرف ایک بار دعا کی۔)
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پھر عرض کی: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر (بھی رحم فرما)۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " ،ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پھر عرض کی: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ ، قَالَ : وَالْمُقَصِّرِينَ .ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انہوں نے (اپنی) حدیث میں کہا: جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارکان حج سے فراغت کے بعد اپنے سر مبارک کے بال منڈوائے اور جن اصحاب نے بال منڈوائے تھے ان کے لیے تین مرتبہ رحم وکرم کی دعا فرمائی اور جنھوں نے بال کٹوائے تھے ان کے لیے صرف ایک مر تبہ دعا کی۔
رسول اللہ ﷺ سے حج وعمرہ کے علاوہ کبھی سرکے بال منڈوانے کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ آپ نے اپنے بالوں کو نہایت اعزاز و احترام سے رکھا۔
آپ کے بال کبھی کانوں تک اور کبھی گردن کے برابر ہوتے۔
جب دیر ہوجاتی تو آپ کے بال مینڈھوں کی صورت اختیار کرلیتے۔
چونکہ ان احادیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں ذکر کیا ہے۔
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سال حج کا ارادہ کیا جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے خلاف لشکر کشی کی تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے احرام باندھا، یہاں تک کہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے حج کے موقع پر ایسے ہی کیا تھا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2992(1230) (2)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے احرام کھولتے وقت سر منڈوانا ثابت کیا ہے جبکہ عنوان میں بال کتروانے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے سر منڈوائے تھے اور کچھ حضرات نے بال کتروائے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4411)
لیکن عورتوں کے لیے بال منڈوانا جائز نہیں بلکہ وہ اپنی چٹیا کے چند ایک بال لے لیں، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عورتوں کے لیے بال منڈوانا نہیں بلکہ صرف ترشوانا ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1984)
بہرحال حج یا عمرے کے اختتام پر مردوں کے لیے بال منڈوانا افضل اور کتروانا جائز ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے معلوم ہو گا۔
ائمہ اربعہ کا صحیح قول یہی ہے احرام کھولنے کے لیے حلق یا تقصیر واجب ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے نزدیک اگراحرام کھولنے کے بعد حلق یا تقصیر کرے گا، تو اس کو ایک جانور کی قربانی کرنا ہو گی۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اورابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قربانی کے آخری دن تک تحلیق یا تقصیر کر سکتا ہے اگر اس سے بھی تاخیر کرے گا تو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم پڑے گا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا سر منڈوانا فرض ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک چوتھائی سرمنڈوانا فرض ہے۔
اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تین بال منڈوانا فرض ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی ہمارے لیے اسوہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا سر منڈوایا تھا اور عمرہ میں بال بھی مکمل کٹوائے تھے اور عورتوں کے لیے سرمنڈوا ناجائز ہے۔
لیکن چند بالوں کو کٹوا لینا درست ہے اور حلق میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوا باقی ائمہ کے نزدیک سر کے دائیں حصہ کو پہلے منڈوانا مستحب ہے اگر کسی کے سر کے بال نہ ہوں تو اس کے سر پر استرا پھیر دیا جائے گا۔