حدیث نمبر: 1300
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ تَوٌّ ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ ، وَالطَّوَافُ تَوٌّ ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، استنجاء میں ڈھیلے طاق ہوں اور جمرات پر کنکریاں طاق ماری جائیں، صفا اور مروہ کے درمیان سعی طاق بار ہو اور طواف طاق بار ہو اور تم میں سے کوئی جب استنجاء کرے طاق ڈھیلے استعمال کرے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1300
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، استنجاء میں ڈھیلے طاق ہوں اور جمرات پر کنکریاں طاق ماری جائیں، صفا اور مروہ کے درمیان سعی طاق بار ہو اور طواف طاق بار ہو اور تم میں سے کوئی جب استنجاء کرے طاق ڈھیلے استعمال کرے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3143]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
تَو: کا معنی طاق ہے۔
فوائد ومسائل: ہر جمرہ پر کنکریاں سات مارنی ہوں گی اور ہرکنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہا جائے گا جمرہ عقبہ کے سوا، ہرجمرہ پر کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے گی اگر کنکریاں سات سے کم مارے گا تو اس کے بارے میں تفصیل (حدیث نمبر۔
271)
کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1300 سے ماخوذ ہے۔