صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ الإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةُ وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ: باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا ، ثُمّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْ يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ وُفِّقَ ، أَوْ لَقَدْ هُدِي " ، قَالَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَأَعَادَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، دَعِ النَّاقَةَ " ،عمر بن عثمان نے کہا: ہمیں موسیٰ بن طلحہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی (دیہاتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار یا نکیل پکڑ لی، پھر کہا: اے اللہ کے رسول! (یا اے محمد!) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی، پھر فرمایا: ”اس کو توفیق ملی (یا ہدایت ملی)۔“ پھر بدوی نے پوچھا: ”تم نے کیا بات کی؟“ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْر ٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ .محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا، وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند بیان کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ " ، فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : " إِنْ تَمَسَّكَ بِهِ " .یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابواحوص نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس پر میں عمل کروں تو وہ مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کی بندگی کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز کی پابندی کرے، زکاۃ ادا کرے اور اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے ان چیزوں کی پابندی کی جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو جنت میں داخل ہو گا۔“ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: ”اگر اس نے اس کی پابندی کی (تو جنت میں داخل ہو گا)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی جنت میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مدد صلہ رحمی کرنے والے کے شامل حال رہتی ہے، چنانچہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے چند ایک رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ اس رشتے کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہوں لیکن وہ اس کا بدتمیزی کے ساتھ بدلہ دیتے ہیں۔
میں ان کی زیادتی کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تو صحیح کہتا ہے تو گویا ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے۔
جب تک تو اپنے عمل کو قائم رکھے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہوگا۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6525(2558) (2)
اللہ تعالیٰ کے ہاں صلہ رحمی کا مطلوبہ معیار حسب ذیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے: ’’کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں صلہ رحمی یہ ہے کہ جب اس سے رشتے داری توڑی جائے تو وہ اسے ملائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 5991)
رشتے داروں کے ساتھ معاملہ کرنے کے تین مراتب حسب ذیل ہیں: ٭ صلہ رحمی: رشتے دار تعلقات ختم کر دیں تو ان سے میل ملاپ رکھے۔
٭مکافات: رشتے دار اچھا سلوک کریں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
٭قطع رحمی، اپنے رشتے داروں سے قطع تعلق کرے۔
یہ آخری مرتبہ انتہائی بدترین درجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ وجوب زکاۃ کے لیے اس حدیث کی دلالت بہت الجھن کا باعث ہے، پھر خود ہی چند ایک جواب دیے ہیں، مثلا: اس حدیث سے فرضیت زکاۃ بایں طور ثابت ہوتی ہے کہ جنت میں جانا ادائیگی زکاۃ پر منحصر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو زکاۃ نہیں دے گا وہ جہنم میں جائے گا اور جہنم میں جانا ایک ایسی چیز کے ترک سے ہوتا ہے جو واجب ہو۔
اس طرح اس حدیث سے فرضیت زکاۃ ثابت ہوتی ہے۔
(2)
واقعاتی طور پر دو احادیث کے مضامین میں گہری مماثلت اور یکسانیت ہو تو امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ وہ ایک حدیث کے ذریعے سے دوسری حدیث کی تفسیر کرتے ہیں۔
اس مقام پر بھی حدیث ابو ایوب اور بعد میں آنے والی حدیث ابو ہریرہ میں بہت مماثلت ہے، اس لیے دوسری حدیث کو مذکورہ حدیث کے لیے تفسیر قرار دیا ہے۔
چونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ فرض زکاۃ ادا کرو، اس لیے حدیث مذکورہ میں بھی فرض زکاۃ ہی مراد ہے۔
(فتح الباري: 333/3)
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو “ گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
➋اس حدیث میں ارکانِ اسلام مذکور ہیں۔