صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيَالِي قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ: باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ ، أَوَ قَالَ : فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ " .حماد بن زید نے ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے (اونٹوں پر لدے) بوجھ۔۔۔ یا کہا: کمزور افراد۔۔۔ کے ساتھ رات ہی روانہ کر دیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ " .ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ " .عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1941]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1939]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے ان کمزور لوگوں میں سے تھا جنہیں آپ نے مزدلفہ کی رات پہلے ہی (منیٰ) بھیج دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3036]
(2) مزدلفہ سے منیٰ کو روانگی صبح کی نماز کی ادائیگی کے بعد کچھ ذکر اذکار کر کے سورج طلوع ہونے سے کچھ قبل ہونی چاہیے مگر ضعیف عورتیں اور بچے چونکہ رش میں تکلیف محسوس کریں گے، اس لیے انھیں طلوع فجر سے پہلے آدھی رات کے بعد کسی وقت بھی بھیجا جا سکتا ہے مگر وہ رمی سورج طلوع ہونے کے بعد ہی کریں گے، البتہ باقی لوگوں سے پہلے کر لیں گے۔
(3) دین کے معاملات میں ہر ایک کو اس کی بساط کے مطابق مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ دینی اعمال سے مقصود لوگوں کو مشقت وتکلیف میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ اطاعت وفرمانبرداری ہے۔ اور وہ ہر کوئی اپنی طاقت کے مطابق بجا لائے گا۔ شریعت نے معذورین کے اعذار کا لحاظ رکھا ہے۔ یہ شریعت محمدیہ کا امتیاز ہے۔ وللہ الحمد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ (رات ہی میں) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی، اور جمرہ کی رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3051]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافروں کے سامان کے ساتھ (یا فرمایا) کہ کمزوروں کے ساتھ رات ہی کو مزدلفہ سے (منیٰ کی جانب) بھیج دیا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 620]
«الضعفة» ”ضاد“، عین اور ”فا“، پر فتحہ ہے۔ ضعیف کی جمع ہے۔ اس سے مراد خواتین، بچے اور خادم وغیرہ ہیں۔
«من جمع» مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے کے لیے۔
«بليل» رات کے وقت۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کمزور حضرات کے لئے مزدلفہ میں پوری رات گزارے بغیر ہی منیٰ کی جانب روانگی کی رخصت ہے اور باقی لوگوں کے لئے مزدلفہ سے نماز فجر سے پہلے واپس روانہ ہونا جائز نہیں۔
➋ طیبی کی رائے یہ ہے کہ کمزور ضعیف حضرات کو ہجوم کی زحمت اور تکلیف سے بچنے کی غرض سے پہلے بھیج دینا مستحب ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کمزور و ناتواں لوگ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف پہلے، رات ہی کے وقت جا سکتے ہیں، ہر معاملے میں کمزور لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استاذ چھوٹے لڑکوں کو بیٹا کہہ سکتا ہے، جمرات کو جمرات ہی بولنا چاہیے، کچھ لوگ ان کو شیطان کہتے ہیں، اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، سورج طلوع ہونے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارنی چاہئیں کسی پڑھے لکھے عالم کو حج میں اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔