صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذِّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ: باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا ، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا ، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ " .یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا: آپ اس (عرفہ کے) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے (ذکر و عبادت) کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے تہلیل کہنے والا «لا اله الا الله» کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور تکبیریں کہنے والا کہتا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہ کی جاتی تھی۔
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ ؟ قَالَ : " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ " .موسیٰ بن عقبہ نے کہا: مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنے والے تھے اور کچھ «لا اله الا الله» کہنے والے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی (کے عمل) پر عیب نہیں لگاتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعنی لفظ منا میم کے زیر کے ساتھ اگر اس سے منا موضع مراد لیا جائے تو یہ مذکر ہے اور منصرف ہے اور یہ الف کے ساتھ (منا)
لکھا جائے گا اور اگر اس سے مراد بقعہ (مقام خاص)
لیا جائے تو پھر یہ مؤنث ہے اور لفظ یاءکے ساتھ منی لکھا جائے گا مگر مختار یہی ہے کہ یہ مذکر ہے اور منا کے ساتھ اس کی کتابت بہتر ہے۔
پھر فرماتے ہیں: وسمي منی لما یمنی فیي أي یراق من الدماء۔
یعنی یہ مقام لفظ منی سے اس لیے موسوم ہوا کہ یہاں خون بہانے کا قصد ہوتا ہے۔
(1)
عیدین کی روح یہی ہے کہ ان میں بآواز بلند اللہ کی کبریائی اور اس کی عظمت کا اظہار کیا جائے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان (ذوالحجہ کے)
دنوں تلبیہ ترک کر دی جائے بلکہ تلبیہ کے ساتھ تکبیرات بھی بآواز بلند کہی جائیں۔
ان دنوں تکبیرات نویں ذوالحجہ سے شروع کر کے تیرہ ذوالحجہ تک ہیں۔
ہاں! اگر کوئی بارہ ذوالحجہ کو واپس آنا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایام منیٰ میں تکبیرات ہر وقت کہی جائیں، نمازوں کے بعد، خواہ وہ نفل ہوں یا فرض۔
اسی طرح مردوزن، مقیم و مسافر، الغرض ہر آدمی ہر حالت میں تکبیرات کہے۔
امام بخاری ؒ نے اس کے لیے کوئی استثناء نہیں کیا بلکہ اس حکم کو عام رکھا ہے جیسا کہ آپ کے پیش کردہ آثار سے بھی واضح ہے۔
(3)
یہ تکبیرات تشریق کہلاتی ہیں، البتہ یوم عرفہ کے دن منیٰ سے عرفات جاتے وقت تلبیہ کہنا بھی درست ہے، چنانچہ امام بخاری ؒ نے کتاب الحج میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: (باب التلبية والتكبير إذا غدا من منى إلى عرفة)
’’منیٰ سے عرفہ جاتے وقت تلبیہ و تکبیر کہنے کا بیان۔
‘‘
(1)
امام بخاری ؒ نے یہ حدیث کتاب العیدین میں بھی ذکر کی ہے اور وہاں بایں الفاظ عنوان قائم کیا تھا: (باب التكبير أيام منى و إذا غدا إلی عرفة)
’’منیٰ میں قیام کے وقت اور عرفہ جاتے ہوئے اللہ أکبر کہنا۔
‘‘ (2)
ایک روایت میں ہے کہ راوی حدیث عبداللہ بن ابو سلمہ نے عبیداللہ سے کہا: مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے متعلق دریافت نہیں کرتے۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ مذکورہ حدیث سے اختیار معلوم ہوتا ہے افضل کی نشاندہی نہیں ہوتی، رسول اللہ ﷺ کے عمل سے افضل عمل معلوم ہو گا۔
بہرحال اس وقت تکبیر اور تلبیہ دونوں ہی ثابت ہیں، انسان جسے چاہے اختیار کرے یا دونوں کو عمل میں لے آئے۔
(فتح الباري: 644/3) (3)
دراصل امام بخاری ؒ اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ان حضرات کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کا موقف ہے کہ حجاج کرام کو میدان عرفات روانگی کے وقت تلبیہ بند کر دینا چاہیے جبکہ یہ موقف حدیث کے خلاف ہے۔
کہنا درست ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3008]
فوائد و مسائل:
(1)
منی سے عرفات جاتے وقت لبیک پکارنا بھی جائز ہے اور تکبیرات کہنا بھی۔
(2)
یہ بھی درست ہے کہ آدمی کچھ دیر لبیک پڑھے اور کچھ دیر تکبیرات کہے۔
«. . . مالك عن محمد بن ابى بكر الثقفي: انه سال انس بن مالك وهما غاديان من منى إلى عرفة: كيف كنتم تصنعون فى مثل هذا اليوم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: كان يهل المهل منا فلا ينكر عليه، ويكبر المكبر فلا ينكر عليه . . .»
”. . . محمد بن ابی بکر الثقفی رحمہ اللہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس وقت پوچھا: جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفات جا رہے تھے: آپ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا؛ ہم میں سے بعض لوگ لبیک کہتے تھے تو اس کا انکار نہیں کیا جاتا تھا اور بعض لوگ تکبیر کہتے تھے تو اس کا انکار نہیں کیا جاتا تھا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 322]
[وأخرجه البخاري 1659، ومسلم 1285، من حديث مالك به]
تفقه
➊ حاجی آٹھ (8) ذوالحجہ کو حج کی ادائیگی کے لئے منٰی (مکہ کی ایک وادی) میں پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اگلے دن نو (9) ذوالحجہ کو منٰی سے عرفات جاتے ہیں۔
➋ منٰی سے عرفات جاتے وقت لبیک کہنا اور تکبیریں پڑھنا دونوں طرح جائز ہے۔
➌ جائز امور میں دوسرے بھائیوں کا رد نہیں کرنا چاہئے۔
➍ جو مسئلہ معلوم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لینا چاہئے۔
➎ علماء کو چاہئے کہ جواب قرآن و حدیث اور ادلۂ شرعیہ سے دیں۔
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام کے عمل سے استدلال کرنا جائز ہے بشرطیکہ یہ عمل کسی واضح وصحیح نص (دلیل) کے خلاف نہ ہو۔
➐ حج و عمرہ میں تلبیہ و تکبیر بلند آواز سے ہونی چاہئے۔
➑ آثار سلف صالحین سے استدلال جائز ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ «لا إله إلا الله» کہتے تھے، اسے بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور بعض ہم میں سے تکبیریں کہتے تھے ان کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 619]
اس حدیث میں منیٰ سے عرفات جانے کی کیفیت کا بیان ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس مقام پر تلبیہ کی جگہ تکبیر کہنا بھی صحیح اور درست ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منٰی سے عرفہ کی طرف صبح کے وقت جانا چاہیے، اور منٰی سے عرفہ جاتے وقت تکبیر اور تلبیہ دونوں میں سے کوئی بھی چیز پڑھ سکتا ہے، اور جو کوئی اچھا کام کرے اس پر عیب نہیں لگانا چاہیے۔