صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذِّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ: باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ ، مِنَّا الْمُلَبِّي ، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ " .ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفات گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کوئی تکبیریں کہنے والا۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ : مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ .عمر بن حسین نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کوئی تکبیریں کہنے والا تھا اور کوئی «لا اله الا الله» کہنے والا تھا۔ البتہ ہم تکبیریں کہہ رہے تھے۔ (عبداللہ بن ابی سلمہ نے) کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہوئے دیکھا تھا؟
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1816]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3002]