صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لاَ يَصِحُّ الْحَجُّ إِلاَّ بِهِ: باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهَا : إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ ، قَالَتْ : لِمَ ؟ قُلْتُ : لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَتْ : مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ " ، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ؟ وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ ؟ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ ، يُقَالُ لَهُمَا : إِسَافٌ ، وَنَائِلَةُ ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا ، لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَتْ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، إِلَى آخِرِهَا ، قَالَتْ : فَطَافُوا " .ہمیں ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں (اس کا حج و عمرہ درست ہوگا۔) انہوں نے پوچھا: وہ کیوں؟ میں نے عرض کی: کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،“ آخر تک، ”(پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے۔)“ انہوں نے جواب دیا: وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (اللہ کا فرمان) یوں ہوتا: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس بارے میں (نازل ہوئی) تھی؟ بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے، جنہیں اساف اور نائلہ کہا جاتا تھا، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے، پھر سر منڈا کر (احرام کھول دیتے)، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان دونوں (صفا مروہ) کا طواف کرنا برا جانا، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیا کرتے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ فرمایا: تو لوگوں نے (پھر سے ان کا) طواف شروع کر دیا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، قَالَتْ : لِمَ ؟ قُلْتُ : لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ يَقُولُ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، الْآيَةَ ، فَقَالَتْ : " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ " .عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، میں سمجھتا ہوں، اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کروں تو کوئی گناہ نہیں ہے، انہوں نے پوچھا، کیوں؟ میں نے عرض کیا، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے، صفا اور مروہ اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو شخص حج اور عمرہ میں ان کا طواف کرے تو کوئی گناہ نہیں ہے، انہوں نے فرمایا: اگر بات وہ ہوتی جو تو کہتا ہے، تو آیت اس طرح ہوتی، اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں، یہ آیت کچھ انصاری لوگوں کے بارے میں اتری ہے، جب وہ احرام باندھتے، جاہلیت کے دور میں، مناۃ کے لیے احرام باندھتے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی جائز نہ سمجھتے، تو جب وہ حج کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، انہوں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، مجھے اپنی عمر کی قسم! جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرے گا، اللہ اس کا حج پورا نہیں کرے گا۔ (اس کا حج قبول نہیں ہو گا)۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا ، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا ، قَالَتْ : " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً ، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ ، لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ : إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ : إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ ، يَقُولُونَ : إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ .عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، میرے نزدیک اگر کوئی صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے، تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر میں ان کے درمیان طواف نہ کروں تو کوئی پرواہ نہیں ہو گی، انہوں نے فرمایا، تم نے بہت بری بات کہی ہے، اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طواف کیا، اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں) مسلمانوں نے ان کا طواف کیا، (اس لیے یہ) مسلمانوں کا طریقہ ہے، اصل بات یہ ہے جو لوگ مشلَّل پر واقعہ مناۃ بت کے لیے احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتے تھے، جب اسلام کا دور آیا تو ہم نے اس کے بارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، زہری کہتے ہیں، میں نے یہ بات ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کو بتائی، تو انہیں بات بہت پسند آئی، اور کہنے لگے، علم اس کا نام ہے، میں نے بہت سے اہل علم سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں، جو عرب صفا اور مروہ کے درمیان طواف سے گریز کرتے تھے، وہ کہتے تھے، ہمارا ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا جاہلیت کی رسم ہو گی، اور کچھ دوسرے انصار کہتے تھے، ہمیں بس بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے، اور ہمیں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (صفا اور مروہ اللہ کے دین کی امتیازی علامات میں سے ہیں) ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں، یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے میں اتری ہے۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا .عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اور (آگے) اسی (سفیان کی ابن شہاب سے) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو صفا مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا: کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے۔
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 " .یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لانے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکارا کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں۔ (درحقیقت) یہ طریقہ ان کے آباء و اجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرام باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لائے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جاننے والا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ۔
اور محدثین کے نزدیک صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج اور عمرہ کا رکن ہے جس کے بغیر نہ عمرہ ہو سکتا ہے اور نہ حج لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سعی حج اورعمرہ کے لیے واجب ہے فرض اور رکن نہیں ہے اس لیے دم (قربانی)
سے اس کی تلافی ہو جائے گی اور حج ہو جائے گا اورامام ابن قدامہ کے نزدیک امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہم اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نہ یہ رکن ہے اور نہ واجب سنت ہے۔
صحیح حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ یہ رکن ہے۔
اساف اور نائلہ نامی دو بت صفا اور مروہ پر تھے۔
الحمدللہ اسلام نے ان سب کو اجاڑ کر پرچم توحید عرب کے چپے چپے پر لہرا دیا۔
الحمد للہ الذي صدق وعدہ و نصر عبدہ۔
1۔
اس حدیث کی وضاحت ہم نے سورہ بقرہ آیت: 158 باب: 21 حدیث: 4495۔
کے فوائد میں کردی ہے قارئین کرام اسے ایک نظر دیکھ لیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے منات کے تعارف کے پیش نظر اس حدیث کو یہاں ذکر کیا ہے۔
(بِالْمُشَلَّلِ مِنْ قُدَيْدٍ)
میں منات کا آستانہ تھا۔
اساف اور نائلہ نامی دو بت صفا اور مروہ پر نصب تھے مسلمانوں نے انھیں نیست ونابود کر کے وہاں تو حید کا پرچم لہرادیا۔
3۔
قرون اولیٰ کے بعد ایک مرتبہ پھر عرب کی سر زمین میں شرکیہ مظاہر عام ہو گئے تھے اللہ تعالیٰ نے مجدد الدعوۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کو توفیق دی انھوں نے درعیہ کے حاکم کو ساتھ ملا کر ان کا مظاہر شرک کو ختم کیا اور اسی دعوت کی تجدید ایک مرتبہ پھر والی نجد و حجاز سلطان عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نےکی اور تمام پختہ قبروں اور آستانوں کا خاتمہ کیا۔
الحمد للہ! اب سعودی عرب میں اسلامی احکام کے مطابق نہ کوئی پختہ قبر ہے اور نہ کوئی مزار ہی نظر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ موجودہ سعودی عرب حکومت کو تا دیر قائم رکھے اور اس کے بد خواہوں کا خود محاسبہ کرے جو دن رات اس کے خلاف خبث باطن کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
1۔
صفاء مسجد حرام کے نزدیک ایک پہاڑی کا نام ہے، اسی طرح مروہ بھی اس کے شمالی جانب ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے۔
ان دونوں کے درمیان نشیب میں وادی تھی۔
حضرت ہاجرہ ؑ اپنے بچے اسماعیل ؑ کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی تلاش میں دونوں پہاڑیوں کے درمیان دوڑلگانے لگیں۔
صفا مروہ کے درمیان سعی اُسی دوڑ کی یاد گار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی سعی کو مناسک میں شامل فرمایا جو اس نے اپنے بندے ابراہیم ؑ کو سکھائے تھے۔
2۔
اہل مدینہ اوس اور خزرج اسلام سے پہلے منات طاغیہ کی پوجا کرتے تھے اور اس کا تلبیہ پڑھتے تھے، اسی طرح اہل مکہ نے صفا اور مروہ پر اساف اور نائلہ نام کے دو بت نصب کررکھے تھے۔
مشہور تھا کہ اہل مدینہ اوراہل مکہ کے بتوں کے درمیان عداوت تھی، اسی وجہ سے ان کے متعلقین کے تعلقات بھی کشیدہ تھے۔
دور جاہلیت میں صورت حال اس طرح تھی کہ اہل مدینہ منات سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے وہ حج کے موقع پر بیت اللہ کا طواف تو کرتے لیکن صفا اور مروہ پر نہیں جاتے تھے کیونکہ وہاں اہل مکہ کے بت اساف اور نائلہ نصب تھے اور اہل مکہ حج کے موقع پر بیت اللہ کاطواف بھی کرتے تھے۔
اوراپنے بتوں سے عقیدت کی بنا پر صفا اور مروہ کی سعی بھی کرتے۔
جب اہل مدینہ اور اہل مکہ مسلمان ہوئے تو اساف اور نائلہ کے متعلقین اہل مکہ کہنے لگے کہ ہم مسلمان ہیں، اس لیے حج کے موقع پر بیت اللہ کاطواف تو کریں گے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کریں گے کیونکہ یہ جاہلیت کاعمل ہے اور اہل مدینہ کو دوشبہات کی بناپر صفا اور مروہ کی سعی سے ہچکچاہٹ تھی: ایک تو طبعی نفرت تھی جو پہلے سے ان کے اندر موجود تھی، دوسرا یہ کہ دورجاہلیت کافعل تھا۔
اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں اہل مکہ اور اہل مدینہ دونوں کو نصیحت فرمائی ہے۔
3۔
حضرت عائشہ ؓ کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر ؓ کو شبہ لاحق ہوا کہ (لَاجُنَاحَ)
کامطلب ہے کہ صفا اور مروہ کی سعی ضروری نہیں کیونکہ (لَاجُنَاحَ)
کامصداق تومباحات کے دائرے میں ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ جو کچھ تم نے سمجھاہے وہ مبنی برحقیقت نہیں کیونکہ گناہ کی نفی توسعی کے کرنے میں ہے، یعنی اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس میں چار چیزیں آسکتی ہیں: ممکن ہے وہ فرض ہو، واجب ہو۔
سنت ہو یا مباح ہو، حضرت عروہ ؒ نے عدم طواف پر نفیِ جُنَاح خیال کیا، حالانکہ یہ انداز تو کسی چیز کے حرام اور مکروہ ہونے پر اختیار کیا جاتا ہے اور یہ بات تب ثابت ہوتی جب آیت اس طرح ہوتی: "اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔
" لیکن آپ کا اسلوب اس کے برعکس ہے۔
دراصل یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جنھیں طواف کرنے میں شبہ تھا، انھیں عدم طواف میں تو کوئی شبہ نہیں تھا۔
واللہ اعلم۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ” ہرگز نہیں، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ” تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں “ ہوتا، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری، وہ مناۃ (یعنی زمانہ جاہلیت کا بت) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1901]
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے متعلق پوچھا (میں نے کہا کہ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ) کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے، تو قسم اللہ کی اس پر کوئی حرج نہیں، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم نے نامناسب بات کہی ہے۔ اس آیت کا مطلب اگر وہی ہوتا جو تم نے نکالا ہے تو یہ آیت اس طرح اترتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ” اگر کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ لیکن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2971]