صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ: باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 1271
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ : قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا " ،سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا، اور اس کے ساتھ چمٹ گئے، اور فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ تجھے بہت اہمیت دیتے تھے، تجھ سے محبت کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا ، وَلَمْ يَقُلْ : وَالْتَزَمَهُ .عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور کہا: ”لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔“ انہوں نے ”وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اس سے چمٹ گئے“ کے الفاظ نہیں کہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا، اور اس کے ساتھ چمٹ گئے، اور فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ تجھے بہت اہمیت دیتے تھے، تجھ سے محبت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3071]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
حَفِيَ بِه: کا معنی ہوتا ہے، کسی پر لطف وکرم اور مہربانی کرنا اس پر توجہ دینا۔
فوائد ومسائل: اکثر ائمہ کے نزدیک حجر اسود پر پیشانی رکھنا یا رخسار رکھنا جائز ہے اما م مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حجراسود پر سجدہ کرنا اوررخسار رکھنا بدعت ہے لیکن قاضی عیاض مالکی نے ان کی رائے کو شاذ اور منفرد قرار دیا ہے۔
حَفِيَ بِه: کا معنی ہوتا ہے، کسی پر لطف وکرم اور مہربانی کرنا اس پر توجہ دینا۔
فوائد ومسائل: اکثر ائمہ کے نزدیک حجر اسود پر پیشانی رکھنا یا رخسار رکھنا جائز ہے اما م مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حجراسود پر سجدہ کرنا اوررخسار رکھنا بدعت ہے لیکن قاضی عیاض مالکی نے ان کی رائے کو شاذ اور منفرد قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3071 سے ماخوذ ہے۔