حدیث نمبر: 1270
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو . ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، الْحَجَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ " ، زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ : قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ .

مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، (کہا:) مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے عمرو سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں حدیث بیان کی، کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمہیں (کبھی) بوسہ نہ دیتا۔“ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ) اضافہ کیا، عمرو نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ ، وَقَالَ : " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ " .

نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: ”میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے۔ (اس لیے میں بھی بوسہ دیتا ہوں)“

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ " ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ ، وَأَبِي كَامِلٍ : رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ .

ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: ”اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) ”آگے سے چھوٹی سی گنج والے“ کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ " .

عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے، میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1270
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»