صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ وَفِي الطَّوَافِ الأَوَّلِ فِي الْحَجِّ: باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَبْجَرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصِفْهُ لِي ، قَالَ : قُلْتُ : " رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ ، وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلَا يُكْرَهُونَ " .عبدالملک بن سعید بن ابجر نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ (انہوں نے) کہا: ان کی صفت (تمہیں کس طرح نظر آئی) بیان کرو۔ میں نے عرض کی: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر (سوار) دیکھا تھا، اور آپ (کو دیکھنے کے لیے) لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ہاں) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں کو آپ سے (دور ہٹانے کے لیے) دھکے دیے جاتے تھے نہ انہیں ڈانٹا جاتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
لَايُدَعُّوْنَ عَنْهُ: دور ہٹانے کے لیے دھکے دیئے جاتے تھے۔
(2)
لَايُكْھَرُ وْن: دور رہنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی جاتی تھی۔