صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ وَفِي الطَّوَافِ الأَوَّلِ فِي الْحَجِّ: باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ ، خَبَّ ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کندھے ہلا ہلا کر تیز چلتے ہوئے لگاتے اور چار چکر چل کر لگاتے اور جب صفا مروہ کے چکر لگاتے تو وادی کی ترائی میں دوڑتے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ يَمْشِي أَرْبَعَةً ، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ " .موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آنے (قدوم) کے بعد سب سے پہلے حج و عمرہ کا جو طواف کرتے اس میں آپ بیت اللہ کے تین چکر وں میں تیز رفتاری سے چلتے پھر (باقی) چار میں (عام رفتار سے) چلتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ ، إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ ، حِينَ يَقْدَمُ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ " .سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب مکہ آتے طواف فرماتے اس کے سات چکر وں میں سے پہلے تین میں چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیز چلتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(پور ے طواف میں اضطباع کرے گا، جس کی تفصیل گزر چکی ہے)
۔
اب حاجیوں کی شناخت کے لئے دوڑنے کے مقام میں دوسبز منارے بنا دیئے گئے ہیں۔
(1)
سعی دوڑنے اور مَشی معمول کے مطابق چلنے کو کہتے ہیں۔
صفا و مروہ کی سعی کا یہ مطلب نہیں کہ صفا سے لے کر مروہ تک دوڑ کر چکر لگانا ہے بلکہ مذکورہ حدیث کے مطابق صرف بطن مسیل میں رسول اللہ ﷺ دوڑتے تھے۔
اس سے مراد نالےے کا نشیبی علاقہ ہے۔
صرف اس علاقے میں معمول سے ذرا تیز چلتے تھے۔
یہ وہی علاقہ ہے جسے گزشتہ معلق روایت میں بنو عباد کے گھروں سے بنو ابی الحسین کی گلی تک کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
آج کل وہاں کچھ بھی نہیں بلکہ سبز رنگ کی بتیاں (Tube Lights)
لگی ہوئی ہیں۔
ان کے درمیان دوڑنا مسنون ہے، پھر عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کے دوڑنے سے ان کی نسوانیت مجروح اور پردہ داری متاثر ہوتی ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے عنوان میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا موقوف عمل پیش کر کے بطن مسیل کی تحدید یا نشاندہی کی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف اس مقام پر دوڑنا مقصود ہے باقی علاقے میں معمول کے مطابق چلنا چاہیے۔
اگرچہ سعی کے ظاہری الفاظ سے دوڑنا ہی معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے۔
(فتح الباري: 635/3)
(1)
مکہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے جو طواف کیا جاتا ہے اسے طواف قدوم کہتے ہیں۔
رمل صرف اسی طواف میں ہے، خواہ یہ طواف حج کے لیے ہو یا عمرے کے لیے، نیز یہ رمل پہلے تین چکروں میں ہے۔
جو شخص رمل کرنا بھول جائے اس پر کوئی اعادہ یا قضا یا دم وغیرہ نہیں ہے۔
(2)
عورتوں پر رمل نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی پردہ داری متاثر ہوتی ہے۔
(3)
طواف قدوم کے علاوہ کسی قسم کے طواف میں رمل نہیں ہے، خواہ وہ طواف زیارت ہو یا طواف وداع یا عام نفلی طواف۔
طواف عمرہ میں بھی رمل کا حکم ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ قضا میں رمل کا حکم دیا تھا جس کی پہلے وضاحت ہو چکی ہے۔
حدیبیہ میں تو آپ ﷺ کعبہ تک پہنچ ہی نہ سکے تھے اور جعرانہ میں ابن عمر ؓ آپ کے ساتھ نہ تھے۔
(1)
جمہور کا موقف ہے کہ حج اور عمرے میں طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل مشروع ہے لیکن ابن عباس ؓ اسے مسنون قرار نہیں دیتے۔
وہ کہتے ہیں کہ انسان کو اختیار ہے کرے یا نہ کرے، البتہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور دیگر خلفاء ؓ حج اور عمرہ کرتے وقت رمل کرتے تھے۔
(مسندأحمد: 225/1)
بہرحال رمل مسنون ہے واجب نہیں۔
(2)
حضرت لیث کی متابعت کو امام نسائی نے متصل سند سے بیان کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرنے کے لیے مکہ آتے تو طواف کے پہلے تین چکروں میں ذرا تیز چلتے اور باقی چار پھیروں میں اپنے معمول کی چال چلتے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
(سنن النسائي، مناسك الحج،حدیث: 2946)
(1)
بطن مسیل سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے بارش یا سیلاب کا پانی گزرتا تھا۔
اس نشیبی علاقے سے صفا و مروہ کی سعی کرتے وقت ذرا تیز دوڑنا چاہیے۔
امام بخاری ؒ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ان دونوں روایات سے بھی ثابت کیا ہے کہ عمرے میں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے سے عمرہ مکمل نہیں ہوتا جب تک صفا و مروہ کی سعی نہ کر لی جائے اگرچہ حضرت ابن عباس ؓ کا موقف اس کے خلاف ہے۔
(2)
بعض شارحین نے حضرت ابن عباس ؓ کا موقف بیان کیا ہے کہ جو کوئی حج اِفراد کی نیت کرے وہ جب بیت اللہ میں داخل ہو تو طواف نہ کرے جب تک وہ عرفات سے لوٹ کر نہ آئے۔
اگر اس نے طواف کر لیا تو حج کا احرام ختم ہو جائے گا، اس لیے وہ طواف کرنے ہی سے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے گا۔
یہ قول بھی جمہور کے خلاف ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ عمرے کی تکمیل بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی سے ہو گی۔
اس کے بغیر عمرہ مکمل نہیں۔
واللہ أعلم
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1891]
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے تین پھیروں میں رمل ۱؎ کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2943]
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2981]