صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلْدَةٍ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرِ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا: باب: مکہ مکرمہ میں دخول بلند راستے سے اور خروج نشیب سے مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا 9 ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ ، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا ، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " ،محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہوتے تھے۔ اور جب مکہ میں داخل ہوتے تو ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ : الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ .زہیر بن حرب اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے عبید اللہ سے اسی مذکورہ بالا سند سے روایت کی، اور زہیر کی روایت میں ہے: وہ بالائی (گھاٹی) جو بطحاء کے قریب ہے۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَصَلَّى بِهَا " ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی کنکریلی زمین پر اپنا اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا ، وَيُصَلِّي بِهَا " .نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ذوالحلیفہ کی کنکریلی زمین پر اونٹ بٹھاتے تھے، جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اونٹ بٹھاتے تھے اور وہاں نماز پڑھتے۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ يُنِيخُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ سے واپس آتے، تو ذوالحلیفہ کے کنکروں والے حصہ پر اونٹ بٹھاتے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ بٹھایا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نسخہ مطبوعہ مصر میں یہاں اتنی عبارت زیادہ ہے۔
قال أبو عبداللہ کا ن یقال هو مسددا کاسمه قال أبو عبداللہ سمعت یحییٰ بن معین یقول سمعت یحییٰ بن سعید القطان یقول لو أن مسدد أتیته في بیته فحدثته لإسحٰق ذالك وما أبالي کتبي کانت عندي أو عند مسدد۔
یعنی امام بخاری رضی اللہ عنہ نے کہا مسدد اسم بامسمی تھے یعنی مسدد کے معنی عربی زبان میں مضبوط اور درست کے ہیں تووہ حدیث کی روایت میں مضبوط تھے اور میں نے یحییٰ بن معین سے سنا، وہ کہتے ہیں میں نے یحییٰ قطان سے سنا، وہ کہتے تھے اگر میں مسدد کے گھر جاکر ان کو حدیث سنایا کرتا تو وہ اس کے لائق تھے اور میری کتابیں حدیث کی میرے پاس رہیں یا مسدد کے پاس مجھے کچھ پرواہ نہیں۔
گو یا یحیٰ قطان نے مسدد کی بے حد تعریف کی۔
(1)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ مکرمہ سے چھپ کر نکلے تھے تو ثنیہ علیا کا راستہ اختیار کیا تھا، اس لیے اسی طرف سے مکہ مکرمہ میں علانیہ داخل ہونے کا ارادہ فرمایا۔
ہمارے نزدیک عید کی طرح راستہ بدلنے میں نیک فال ہے کہ انسان کا حال اس سے اعلیٰ حال کی طرف بدل جائے اور دونوں راستے گواہی دیں۔
واللہ أعلم۔
(2)
اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے حضرت مسدد بن مسرہد سے بیان کیا ہے۔
اس کی توثیق بیان کرتے ہوئے امام بخاری ؒ نے فرمایا: میرے شیخ حضرت مسدد اپنے نام کی طرح انتہائی مضبوط اور قابل اعتماد ہیں کیونکہ مسدد کے معنی محکم، یعنی مضبوط کے ہیں، پھر امام یحییٰ بن معین جو جرح و تعدیل کے امام ہیں، ان کے حوالے سے توثیق بیان کی ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس عبارت کے متعلق اپنی شرح میں کچھ نہیں لکھا۔
شاید ان کے نسخے میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
آنحضرت ﷺ اسی راستے سے آتے اور جاتے۔
اب وہاں ایک مسجد بن گئی ہے۔
آج کل اس جگہ کا نام بئرعلی ہے، یہ علی حضرت علی ؓ بن ابی طالب نہیں ہیں بلکہ کوئی اور علی ہیں جن کی طرف یہ جگہ اور یہاں کا کنواں منسوب ہے۔
معرس عربی میں اس مقام کو کہتے ہیں جہاں مسافر رات کو کو اتریں اور وہاں ڈیرہ لگائیں۔
یہ مذکورہ معرس ذوالحلیفہ کی مسجد تلے واقع ہے اور یہاں سے مدینہ بہت ہی قریب ہے۔
اللہ ہر مسلمان کو بار بار ان مقامات مقدسہ کی زیارت نصیب کرے۔
آمین۔
آپ دن کی روشنی میں مدینہ میں داخل ہوا کرتے تھے۔
پس سنت یہی ہے۔
(1)
شجرہ اور معرس دو مقام ہیں جو مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہیں، البتہ معرس کچھ قریب ہے۔
اسے بطحائے ذی الحلیفہ بھی کہتے ہیں۔
نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے جب روانہ ہوتے تو یہاں آرام فرماتے اور نماز پڑھتے۔
یہ نماز پڑھنا اتفاقی نہیں تھا بلکہ آپ دانستہ ایسا کرتے تھے کیونکہ آپ کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ وادی بابرکت ہے اور مکہ سے واپسی کے موقع پر بھی یہاں قیام کرتے تھے تاکہ رات کے وقت اچانک کوئی اپنے گھر نہ جائے، اس کی حدیث میں ممانعت ہے۔
(2)
ابن بطال نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک راستے سے نکلنا اور دوسرے سے داخل ہونا نماز عید کی طرح تھا، یعنی ایک راستے سے عیدگاہ جاتے تو دوسرے راستے سے عید گاہ سے واپس آتے تھے، اسی طرح حج کو روانگی اور فراغت کے بعد واپسی پر بھی ایسا کرتے تھے۔
(فتح الباري: 493/3)
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو تفصیل سے بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بلند گھاٹی کے مقام کداء سے جو بطحاء میں ہے، مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے۔
اس کے متعلق محدثین نے کئی ایک حکمتیں ذکر کی ہیں۔
ہمارے نزدیک بہتر توجیہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ حج کو جاتے ہوئے عید کی طرح ایک راستے سے داخل ہوئے اور فراغت کے بعد دوسرے راستے سے نکلے تاکہ دونوں راستے گواہی دیں۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ (جو ذی الحلیفہ میں تھا) کے راستے سے (مدینہ سے) نکلتے تھے اور معرس (مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے) کے راستہ سے (مدینہ میں) داخل ہوتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1867]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں «ثنية العليا» ” بلند گھاٹی “ سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو «ثنية السفلى» ” نشیبی گھاٹی “ سے نکلتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2940]
فوائد و مسائل:
(1)
ثنيه پہاڑوں کے درمیان گھاٹی یا راستے کو کہتے ہیں۔
(2)
ثنيه عليا (اوپر والی گھاٹی)
سے مراد وہ بلند گھاٹی ہے جو مکہ کی شمالی سمت جنت المعلی کی طرف ہے۔
اس کا نام كداء اورحجون ہے۔
(3)
ثنيه سفلى (نیچےوالی گھاٹی)
سے مراد وہ پہاڑی راستہ ہے جو جبل قعیقعان کی طرف ہے۔
اسے كدی بھی کہتے ہیں۔ (فتح الباري، الحج، باب: 41)
یہ باب بنی شیبہ کی طرف ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2868]