صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ: باب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُنَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا : " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا ؟ " ، قَالَتْ : لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا ، وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ ، وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ ، قَالَ : " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً " .حضرت ابن عباس رضی اللہ تعلیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت کو (جس کا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نام بتایا تھا، راوی نام بھول گیا ہے) فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے میں کیا رکاوٹ پیش آئی؟‘‘ اس نے جواب دیا، ہمارے پاس پانی لانے والے دو ہی اونٹ تھے، ایک پر میرا خاوند اور بیٹا حج کرنے کے لیے چلے گئے اور ایک اونٹ ہمارے لیے پانی لانے کے لیے چھوڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے (ثواب کے) برابر ہے۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهَا : أُمُّ سِنَانٍ : " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا ؟ " ، قَالَتْ : نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا ، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا ، قَالَ : " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي " .حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت جسے ام سنان کہا جاتا تھا، پوچھا: ”تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟‘‘ اس نے جواب دیا، ابو فلاں (یعنی اس کا خاوند) کے پاس دو ہی پانی لانے والے اونٹ تھے، ان میں سے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کا ارادہ کیا، دوسرے پر ہمارا غلام (باغ کو) پانی پلاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے یا میرے ساتھ حج کے برابر ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حافظ نے کہا اگر یہ عورت ام سنان تھی تو اس کے بیٹے کا نام سنان ہوگا اور اگر ام سلیم تھی تو اس کا بیٹا ہی کوئی ایسا نہیں تھا جو حج کے قابل ہوتا۔
ایک انس تھے وہ چھوٹی عمر میں تھے اور شاید ان کے خاوند ابوطلحہ کا بیٹا مراد ہو وہ بھی گویا ام سلیم کا بیٹا ہوا کیوں کہ ابوطلحہ ام سلیم کے خاوند تھے۔
(1)
رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہے۔
(2)
اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ عمرہ کسی صورت میں حج کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، چنانچہ امام ابن خزیمہ ؒ لکھتے ہیں: ایک چیز کی کسی دوسری چیز سے بعض وجوہ میں مشابہت پائی جاتی ہے اس اعتبار سے اسے دوسری چیز کے مثل کہا جاتا ہے، لہذا رمضان کا عمرہ فرضی حج اور حج نذر سے کافی نہیں ہو گا۔
(صحیح ابن خزیمة: 360/4۔
361)
امام ترمذی نے امام اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے معنی ایسے ہی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے: ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ تہائی قرآن کے برابر ہے۔
(جامع الترمذي، الحج، بعدالحدیث: 939)
ابن عربی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی برکت سے عمرہ حج کا مقام پاتا ہے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم اور اس کی خاص عنایت ہے۔
ابن جوزی نے کہا ہے کہ حضور قلب سے جس طرح کسی عمل کا ثواب زیادہ ہو جاتا ہے، اسی طرح وقت کی شرافت سے بھی عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔
(3)
یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملنا اس عورت کی خصوصیت نہیں اگرچہ سعید بن جبیر نے اسے اس عورت کی خصوصیت قرار دیا ہے جیسا کہ ام معقل ؓ نے فرمایا: حج سے حج کا ثواب اور عمرہ کرنے سے عمرے کا ثواب ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے یہ ارشاد فرمایا۔
مجھے معلوم نہیں کہ ثواب کی بشارت میرے لیے خاص ہے یا تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1989) (4)
رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں عمرہ نہیں کیا، حالانکہ آپ نے اس کی فضیلت بیان کی ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے رمضان میں عمرہ کرنا باعث فضیلت ہے، البتہ آپ کے لیے وہی افضل ہے جس پر آپ خود عمل پیرا ہوئے ہیں۔
(فتح الباري: 763/3) (5)
امام بخاری ؒ نے ایک دوسرے مقام پر صراحت فرمائی ہے کہ اس عورت کا نام ام سنان ؓ ہے۔
(صحیح البخاري، جزاءالصید، حدیث: 1863)
اس قسم کا واقعہ حضرت ام معقل، ام سلیم، ام طلیق اور ام ہیثم ؓ کے ساتھ بھی پیش آیا جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
(عمدةالقاري: 415/7) (6)
اس سے معلوم ہوا جس شخص کو حج کی استطاعت نہ ہو اور سچی نیت رکھتا ہو تو رمضان میں عمرہ کرنے سے وہ حج کا مکمل ثواب حاصل کر سکتا ہے۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا۔“ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1990]
عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے کہا: ” جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لو، کیونکہ (ماہ رمضان میں) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2112]
(2) اجنبی عورت سے مخاطب ہونا جائز ہے کیونکہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں۔ لیکن گفتگو ضرورت کے تحت اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے۔ نرم ونازک انداز سے اجتناب ضروری ہے۔