صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب إِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1250
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " ، فَقَالَ : أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ " ،حضرت انس رضی تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے احرام کس مقصد سے باندھا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا احرام باندھا، آپ صلی الله عليہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔‘‘
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ بَهْزٍ " لَحَلَلْتُ " .مصنف صاحب یہی روایت دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، جس میں بہز اَحْلَلْتُ
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4354 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4354. بکر بن عبداللہ بصری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ذکر کیا تھا کہ حضرت انس ؓ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: نبی ﷺ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ حج کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے فرمای: ’’جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں تبدیل کر لے۔‘‘ چونکہ نبی ﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ بھی یمن سے حج کے ارادے سے آئے تھے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا: ’’احرام باندھتے وقت تم نے کیا نیت کی تھی؟ تمہاری بیوی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے احرام کے مطابق اپنے احرام کی نیت کی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر تم اس احرام پر قائم رہو کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4354]
حدیث حاشیہ: ان جملہ روایات میں کسی نہ کسی پہلوسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یمن جانا مذکور ہے۔
باب سے یہی وجہ مطابقت ہے اور اسی لیے ان روایات کو یہاں لایا گیا ہے۔
باقی حج کے دیگر مسائل بھی ان سے ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ کتاب الحج میں گذرچکا ہے۔
باب سے یہی وجہ مطابقت ہے اور اسی لیے ان روایات کو یہاں لایا گیا ہے۔
باقی حج کے دیگر مسائل بھی ان سے ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ کتاب الحج میں گذرچکا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4354 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4354 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4354. بکر بن عبداللہ بصری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ذکر کیا تھا کہ حضرت انس ؓ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: نبی ﷺ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ حج کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے فرمای: ’’جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں تبدیل کر لے۔‘‘ چونکہ نبی ﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ بھی یمن سے حج کے ارادے سے آئے تھے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا: ’’احرام باندھتے وقت تم نے کیا نیت کی تھی؟ تمہاری بیوی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے احرام کے مطابق اپنے احرام کی نیت کی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر تم اس احرام پر قائم رہو کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4354]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ بھی یمن سے بغرض حج آئے تھے لیکن ان کے ساتھ قربانی کے جانورنہیں تھے، اس لیے انھیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ تم عمرہ کرکے احرام کھول دو لیکن حضرت علی ؓ جب یمن سے آئے تو ان کے ساتھ قربانی کے جانور تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے احرام پرباقی رہنے کا حکم دیا۔
2۔
ان احادیث میں حضرت علی ؓ کے یمن جانے کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے ان روایات کو بیان کیا ہے۔
اس کے علاوہ حج کے مسائل بھی ان سے ثابت ہوئے ہیں جو کتاب الحج میں بیان ہوچکے ہیں۔
1۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ بھی یمن سے بغرض حج آئے تھے لیکن ان کے ساتھ قربانی کے جانورنہیں تھے، اس لیے انھیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ تم عمرہ کرکے احرام کھول دو لیکن حضرت علی ؓ جب یمن سے آئے تو ان کے ساتھ قربانی کے جانور تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے احرام پرباقی رہنے کا حکم دیا۔
2۔
ان احادیث میں حضرت علی ؓ کے یمن جانے کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے ان روایات کو بیان کیا ہے۔
اس کے علاوہ حج کے مسائل بھی ان سے ثابت ہوئے ہیں جو کتاب الحج میں بیان ہوچکے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4354 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1558 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1558. حضرت انس بن مالک ؓ سےروایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ حضرت علی ؓ یمن سے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ’’تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی کریم ﷺ کا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول دیتا۔‘‘ محمد بن ابی بکر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اے علی! تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ جس چیز کا نبی کریم ﷺ نے احرام باندھا ہے رسول اللہ ﷺ نے حضر ت علی ؓ کوحکم دیا: ’’اپنی قربانی کو قابو میں رکھو اور جیسے اس کا وقت ہو اسی حالت میں محرم رہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1558]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے جمہور ائمہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مبہم احرام باندھنا جائز ہے، پھر اسے موقع و محل کی مناسبت سے جدھر چاہے پھیر سکتا ہے، جیسا کہ حضرت علی ؓ نے احرام باندھا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے احرام کے مثل قرار دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کا انکار نہیں کیا۔
چونکہ حضرت علی ؓ احرام کی کیفیت نہ جانتے تھے، اس لیے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے احرام کی مثل نیت کر لی۔
(2)
امام بخاری ؒ کے عنوان سے ان کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا زمانہ نبوت کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ زمانہ وحی تھا اور احکام کا نزول ہوتا رہتا تھا، اب چونکہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے، اس لیے اب احرام کے وقت نیت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
اب احرام کو کسی بزرگ کے احرام کی مثل قرار دینا صحیح نہیں، (فتح الباري: 525/3)
اس لیے بھی کہ احرام کی تمام صورتیں معلوم ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ تھیں۔
(1)
اس حدیث سے جمہور ائمہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مبہم احرام باندھنا جائز ہے، پھر اسے موقع و محل کی مناسبت سے جدھر چاہے پھیر سکتا ہے، جیسا کہ حضرت علی ؓ نے احرام باندھا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے احرام کے مثل قرار دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کا انکار نہیں کیا۔
چونکہ حضرت علی ؓ احرام کی کیفیت نہ جانتے تھے، اس لیے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے احرام کی مثل نیت کر لی۔
(2)
امام بخاری ؒ کے عنوان سے ان کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا زمانہ نبوت کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ زمانہ وحی تھا اور احکام کا نزول ہوتا رہتا تھا، اب چونکہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے، اس لیے اب احرام کے وقت نیت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
اب احرام کو کسی بزرگ کے احرام کی مثل قرار دینا صحیح نہیں، (فتح الباري: 525/3)
اس لیے بھی کہ احرام کی تمام صورتیں معلوم ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ تھیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1558 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 956 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حج سے متعلق ایک اور باب۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: ” تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟ “ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ” اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا “ ۲؎، [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 956]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: ” تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟ “ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ” اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا “ ۲؎، [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 956]
اردو حاشہ: 1؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے احرام کو دوسرے کے احرام پر معلق کرناجائزہے۔ 2؎: یعنی: عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا، پھر 8؍ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھتا، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا، ورنہ تمتع کرتے، اس لیے تمتع افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 956 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1796 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حج قران کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ (مکہ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے (یعنی انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1796]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ (مکہ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے (یعنی انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1796]
1796. اردو حاشیہ: ان احادیث کے بیانات میں تعارض نہیں بلکہ تنوع ہے۔ حضرات صحابہ سامعین وناظرین کو جو جو معلوم ہوا انہوں نے وہی بیان کر دیا۔گزشتہ احادیث میں ہے کہ آپ نے نماز ظہر کے بعد اپنے مصلے ہی پر تلبیہ کہا پھر سواری پر بیٹھ کر کہا پھر بیداء کی بلندی پر چڑھنے ہوئے کہا اور یہ سب برحق ہیں اور اس اثنا میں تسبیح وتکبیر بلاشبہ جائز بلکہ مطلوب عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1796 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2934 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھنے والے کے پاس ہدی نہ ہو تو وہ کیسے کرے؟`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے، اور ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2934]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے، اور ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2934]
اردو حاشہ: پیچھے کئی مقامات پر یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا احرام ایک جیسا نہ تھا۔ کسی کا احرام صرف عمرے کا تھا، کسی کا صرف حج کا۔ مکہ مکرمہ کے قریب رسول اللہﷺ نے سب کو عمرہ کرنے کا حکم دیا۔ جن کا حج کا احرام تھا، انھیں احرام کو عمرے میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ لوگ عمرہ کر کے حلال ہوگئے۔ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، انھوں نے حج کے احرام میں عمرہ بھی داخل کر لیا۔ وہ عمرہ کرنے کے باوجود حلال نہ ہوئے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2934 سے ماخوذ ہے۔