حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284 ، قَالَ : فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ ، فَقَالُوا : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ ، الصَّلَاةُ ، وَالصِّيَامُ ، وَالْجِهَادُ ، وَالصَّدَقَةُ ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ : سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ، بَلْ قُولُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ، قَالُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285 ، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ، نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: ”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری۔ کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! (پہلے) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں: نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ اور اب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی: ہم نے سنا اور نافرمانی کی! بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (ہدایت) پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی۔ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، (اور کہا:) ہم (ایمان لانے میں) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔“ چنانچہ جب انہوں نے یہ (مان کر اس پر عمل) کیا تو اللہ عزوجل نے اس آیت (کے ابتدائی معنی) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی: ”اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس نے جو (نیکی) کمائی اور جو (برائی) کمائی (اس کا وبال) اسی پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں۔ (انہوں نے کہا:) ”اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے (گزر چکے) ہیں۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں! (پھر کہا:) ”اے ہمارے رب! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں! (پھر کہا:) ”اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14014)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آیت اتری: ’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے اور تمھارے نفسوں (دلوں) میں جو کچھ ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس پر تمھارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔‘‘ (بقرة: 284) تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں پر شاق گزری تو وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو زانو بیٹھ گئےاور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:329]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: نَسْخٌ: کا لغوی معنی ہے ازالہ کرنا، ہٹا دینا، کہتے ہیں: "نَسَخَتِ الشَّمْسُ الظِّلَّ" ’’دھوپ نے سایہ زائل کر دیا۔
‘‘ دوسرا معنی ہے: نقل کرنا، کہتے ہیں: "نَسَخْتُ الْكِتَابَ" ’’میں نے کتاب نقل کی۔
‘‘ فوائد ومسائل:
صحابہ کرامؓ ﴿مَا فِي أَنفُسِكُمْ﴾ کے (ما)
کو عام سمجھا، کہ دل کے اندر جو وساوس آتے ہیں، یا جن خیالات کا خطور ہوتا ہے، یا دل کے اندر جو عقائد وافکار جم جاتے ہیں، سب اس میں داخل ہوتے ہیں۔
جب کہ دل کے اندر پیدا ہونے والے خیالات یا وساوس جو آتے اور گزرجاتے ہیں، وہ انسان کے بس میں نہیں ہیں۔
اگر ان پر بھی مواخذہ ہو تو کوئی انسان مواخذہ سے بچ نہیں سکے گا، اس لیے یہ آیت ان کے لیے انتہائی پریشانی اور اضطراب کا باعث بنی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جبکہ یہ ظاہری معنی مراد نہیں تھا۔
مواخذہ تو انہی افکار ونظریات یا دل میں جم جانے والے عقائد وتصورات پر ہے جن کو انسان شعوری طور پر دل میں جگہ دیتا ہے، اس لیے آپ نے جواب دیا: اہل کتاب والا طرز عمل اختیار نہ کرو، کہ جو کام ان کے بس میں ہوتے تھے، وہاں بھی ان کا عمل سَمِعْنَا اور عَصَیْنَا تھا کہ (سن لیا لیکن عمل نہیں کریں گے)
۔
صحابہ کرامؓ نے سر تسلیم ختم کر دیا، تو اگلی آیت میں ظاہری معنی لینے کی تردید کر دی گئی اور پہلی آیت کا مفہوم واضح ہوگیا۔
ظاہری معنی کی تبدیلی وتغییر یا ازالہ کو نسخ سے تعبیر کیا گیا ہے، رفع حکم والا معنی مراد نہیں ہے کہ پہلے تو یہی حکم کہ وساوس وخطرات پر بھی مواخذہ ہوگا، جو انسان کے بس میں نہیں ہیں اور پھر ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا﴾ سے اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا ہو، بلکہ اللہ کا مقصد پہلے ہی سے دل میں جم جانے عقائد واعمال تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 125 سے ماخوذ ہے۔