صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
بَابُ جَوَازِ تَقْصِيرِ الْمُعْتَمِرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَنَّهُ لَا يَجِبُ حَلْقُهُ ، وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ كَوْنُ حَلْقِهِ أَوْ تَقْصِيرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ باب: عمرہ کرنے والے کے لئے اپنے بالوں کے کٹوانے کا جواز، اور سر کا منڈانا واجب نہیں ہے، اور سر کے منڈوانے اور کٹوانے کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ : " أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ " ، فَقُلْتُ لَهُ : " لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ " .ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے؟ میں نے کہا: میں یہ تو نہیں جانتا مگر (یہ جانتا ہوں کہ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلاف دلیل ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ " .حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مروہ پر، تیر کے پیکان سے کاٹے تھے، یا میں نے آپ صلی الله عليہ وسلم کو دیکھا، مروہ پر آپ صلی الله عليہ وسلم کے بال تیر کے پیکان سے کاٹے جا رہے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اور حج میں بال منیٰ میں کٹوائے یا منڈوائے جاتے ہیں اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس واقعہ سے معلوم ہو ا یہ واقعہ عمرہ کا ہے جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع اور حج قران سے روکتے تھے حج افراد کا حکم دیتے تھے اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، یہ واقعہ تمہارے خلاف جاتا ہے۔
اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ عمرۃ القضاء یا عمرہ جعرانہ سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ وہ صلح حدیبیہ کے بعد دل سے مسلمان ہو چکے تھے۔
اگرچہ اسلام کا اظہار فتح مکہ کے وقت کیا ہے۔
اور حجۃ الوداع میں آپ صلی الله عليہ وسلم کے بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منیٰ میں تقسیم کیے تھے اور آپ صلی الله عليہ وسلم نے وہیں سر منڈوایا تھا۔
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2990]
(2) ”تیر کے ساتھ“ لمبے بال تیر کے ساتھ کاٹے جا سکتے ہیں۔ بالوں کو کسی چیز پر رکھ کر اوپر سے تیر پھیر دیا جائے۔ موجودہ دور میں اس کے لیے نت نئے طریقے رائج ہیں۔ غرض اصل مقصود بالوں کا کتروانا یا منڈوانا ہے۔
اس روایت میں حضرت معاویہ کا بیان وارد ہوتا ہے، اس کے وقت کی تعیین کرنے میں شارحین کے مختلف اقوال ہیں۔
یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے متعلق نہیں ہے ممکن ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہو کیوں کہ اصحاب سیر کے بیان کے مطابق آنحضرت ﷺ نے ہجرت سے پہلے بھی حج کئے ہیں۔
علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
وقد أخرج بن عساكر في تاريخ دمشق من ترجمة معاوية تصريح معاوية بأنه أسلم بين الحديبية والقضية وأنه كان يخفي إسلامه خوفا من أبويه وكان النبي صلى الله عليه وسلم لما دخل في عمرة القضية مكة خرج أكثر أهلها عنها حتى لا ينظرونه وأصحابه يطوفون بالبيت فلعل معاوية كان ممن تخلف بمكة لسبب اقتضاه ولا يعارضه أيضا قول سعد بن أبي وقاص فيما أخرجه مسلم وغيره فعلناها يعني العمرة في أشهر الحج وهذا يومئذ كافر بالعرش بضمتين يعني بيوت مكة يشير إلى معاوية لأنه يحمل على أنه أخبر بما استصحبه من حاله ولم يطلع على إسلامه لكونه كان يخفيه ويعكر على ما جوزوه أن تقصيره كان في عمرة الجعرانة أن النبي صلى الله عليه وسلم ركب من الجعرانة بعد أن أحرم بعمرة ولم يستصحب أحدا معه إلا بعض أصحابه المهاجرين فقدم مكة فطاف وسعى وحلق ورجع إلى الجعرانة فأصبح بها كبائت فخفيت عمرته على كثير من الناس كذا أخرجه الترمذي وغيره ولم يعد معاوية فيمن صحبه حينئذ ولا كان معاوية فيمن تخلف عنه بمكة في غزوة حنين حتى يقال لعله وجده بمكة بل كان مع القوم وأعطاه مثل ما أعطى أباه من الغنيمة مع جملة المؤلفة وأخرج الحاكم في الإكليل في آخر قصة غزوة حنين أن الذي حلق رأسه صلى الله عليه وسلم في عمرته التي اعتمرها من الجعرانة أبو هند عبد بني بياضة فإن ثبت هذا وثبت أن معاوية كان حينئذ معه أو كان بمكة فقصر عنه بالمروة أمكن الجمع بأن يكون معاوية قصر عنه أولا وكان الحلاق غائبا في بعض حاجته ثم حضر فأمره أن يكمل إزالة الشعر بالحلق لأنه أفضل ففعل وإن ثبت أن ذلك كان في عمرة القضية وثبت أنه صلى الله عليه وسلم حلق فيها جاء هذا الاحتمال بعينه وحصل التوفيق بين الأخبار كلها وهذا مما فتح الله علي به في هذا الفتح ولله الحمد ثم لله الحمد أبدا۔
(فتح الباري)
خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ حضرت معاویہ ؓ سال حدیبیہ اور سال عمرۃ القضاء کے درمیان اسلام لا چکے تھے، مگر وہ والدین کے ڈر سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کر رہے تھے، عمرۃ القضاء میں جب کہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب طواف کعبہ میں مشغول تھے تمام کفار مکہ شہر چھوڑ کر باہر چلے گئے تاکہ وہ اہل اسلام کو دیکھ نہ سکیں اس موقع پر شاید حضرت معاویہ ؓ مکہ شریف ہی میں رہ گئے ہوں (اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ بھی اسی وقت سے تعلق رکھتا ہو)
اور سعد بن وقاص ؓ کا وہ قول جسے مسلم نے روایت کیا ہے اس کے خلاف نہیں ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت معاویہ ؓ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ شریف کے کسی گھر میں چھت پر چھپے ہوئے تھے۔
یہ اس لیے کہ وہ اپنے اسلام کو اپنے رشتہ داروں سے ابھی تک پوشیدہ رکھے ہوئے تھے اور جس نے اس واقعہ کو عمرہ جعرانہ سے متعلق بتلایا ہے وہ درست نہیں معلوم ہوتا کیوں کہ اس موقع پر جو صحابہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے ان میں حضرت معاویہ ؓ کا شمار نہیں ہے اور غزوہ حنین کے موقع پر انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مال غنیمت سے مولفین میں شامل ہو کر حصہ لیا تھا۔
غزوہ حنین کے قصہ کے آخر میں حاکم نے نقل کیا ہے کہ اس موقع پر آپ ﷺ کا سر مونڈنے والا بنی بیاضہ کا ایک غلام تھا جس کا نام ابو ہند تھا، اگر یہ ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہو جائے کہ حضرت معاویہ ؓ اس دن آپ ﷺ کے ساتھ تھے یا مکہ میں موجود تھے تو یہ امکان ہے کہ انہوں نے پہلے آپ ﷺ کے بال قینچی سے کترے ہوں اور حلاق اس وقت غائب رہاہو پھر اس کے آجانے پر اس سے کرایا ہو کیوں کہ حلق افضل ہے اور اگر یہ عمرۃ القضیہ میں ثابت ہو جب کہ وہاں بھی آپ ﷺ کا حلق ثابت ہے تو یہ احتمال صحیح ہے کہ اس موقع پر انہوں نے یہ خدمت انجام دی ہو۔
مختلف روایات میں تطیبق کی یہ توفیق محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوئی ہے۔
و للہ الحمد۔
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر کے بال حجۃ الوداع کے موقع پر منڈوائے تھے اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں چھوٹا کرایا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4411)
حضرت امیر معاویہ ؓ نے عمرۂ جعرانه کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک قینچی سے چھوٹے کیے تھے کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے بال منڈوائے تھے۔
اور حضرت ابو طلحہ ؓ نے آپ کے بال مبارک لوگوں میں تقسیم کیے تھے۔
اور عمرۂ قضاء جو سات ہجری میں ہوا اس وقت حضرت معاویہ ؓ مسلمان نہیں ہوئے تھے، اس لیے عمرۂ جعرانه میں انہوں نے یہ خدمت سر انجام دی ہو گی۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ صلح حدیبیہ اور عمرۃ القضاء کے درمیان مسلمان ہو چکے تھے لیکن انہوں نے اپنے والدین سے ڈرتے ہوئے اپنا اسلام پوشیدہ رکھا اور جب رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اہل مکہ نے مکہ خالی کر دیا تھا تاکہ وہ اہل اسلام کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھ نہ سکیں، ممکن ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ اس وقت کسی وجہ سے مکہ مکرمہ ہی میں رہے ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے بال چھوٹے کرنے کا موقع انہی حالات میں پیش آیا ہو۔
اور جن حضرات نے اس واقعے کو عمرۂ جعرانه سے متعلق بیان کیا ہے وہ اس لیے صحیح نہیں کہ جو حضرات اس وقت آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ان میں حضرت معاویہ ؓ موجود نہیں تھے، پھر اس موقع پر آپ کا سر مونڈنے والا بنو بیاضہ کا ایک غلام تھا جس کا نام ابو ہند ہے۔
(فتح الباري: 713/3)
بہرحال امام بخاری ؒ نے ان روایات سے ثابت کیا ہے کہ احرام کھولتے وقت بالوں کا مونڈنا اور چھوٹے کرنا دونوں جائز ہیں۔
اور مونڈنا افضل ہے کیونکہ اس میں بالکل زینت ختم ہو جاتی ہے اور حاجی کو ترک زینت ہی کا حکم ہے جبکہ بال چھوٹے کرانے میں زینت کا کچھ نہ کچھ حصہ سر پر باقی رہ جاتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے۔ حسن کی روایت میں «لحجته» (آپ کے حج میں) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1803]
➋ عمرے میں صفا مروہ کی سعی کے بعد آدمی بال کتروا کر حلال ہوتا ہے۔ جبکہ عورتوں کو ایک پورا برابر بال کاٹنا کافی ہوتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ﴿ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ﴾ (الفتح: 27)
” تم لوگ مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے، ان شاء اللہ اس حال میں کہ تم سرمنڈوائے اور بال تراشے ہو گے کسی کا خوف نہیں ہوگا“
قربانی کرنے کے بعد بالوں کو منڈوانا چاہیے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا: «حلق رسول الله فى حجته» ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر اپنے سر کے بال منڈوائے “۔ [صحيح البخاري: 1726] تفصیل کے لیے بخاری (1726۔ 1730)
جانور ذبح کرنے سے پہلے اگر سرمنڈوالیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔ «في حجته» [صحيح البخاري: 721]
عمرے کے بعد سر کے بال منڈوانا صحيح ہے۔ [صحيح البخاري: 1731]
اگر کسی کے سر کے بال نہیں ہیں؟ امام ابن المنذر نیشا پوری رحمہ اللہ نے فرمایا: اجماع ہے کہ گنجا (حج میں) بال مونڈتے وقت اپنے سر پر استرا پھیرے گا۔ (کتاب الاجماع: 198) تا کہ سنت کا پورا اتباع ہو جائے۔