صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الإِحْرَامِ: باب: احرام کے وقت قربانی کے اونٹ میں اشعار کرنے اور اسے قلاوہ ڈالنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ ؟ ، فَقَالَ : " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ " .شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا، انہوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ کیا فتویٰ ہے۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے) وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہاری مرضی نہ ہو۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ ، مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ " ، فَقَالَ : " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغَمْتُمْ " .ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوحسان سے حدیث بیان کی، کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ اس معاملے (فتوے) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طواف (عمرہ) کر کے وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فرمایا: (ہاں) یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہیں نہ چاہتے ہوئے قبول کرنی پڑے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
تَشَغَّفَتْ: دلوں میں جاگزیں ہو گیا ہے۔
(2)
تَشَغَّبَتْ: پریشان کر دیا ہے۔
(3)
تَشَعَّبَتْ: انتشاروافتراق پیدا کردیا ہے۔
1۔
اس حدیث میں بھی حجۃ الوداع کا ذکر ہے۔
اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں پیش فرمایا۔
2۔
حضرت ابن عباس ؓ کاموقف ہے کہ صرف بیت اللہ کاطواف کرلینے سے انسان حلال ہوجاتاہے، اس کے لیے صفاومروہ کی سعی اور حلق یا تقصیر ضروری نہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: محض طواف کرنے سے انسان حلال ہوجاتاہے، خواہ حج کاارادہ ہو یا عمرے کا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3020(1245)
بلکہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا: یہ کیا فتویٰ ہے جو آپ نے لوگوں میں جاری کررکھا ہے کہ جو آدمی طواف کرے اس پر احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ایسا کرنا تمہارے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، خواہ تمھیں بُرا محسوس ہو۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3018۔
(1244)
بہرحال ابن عباس ؓ کایہ موقف جمہور اہل علم کے خلاف ہے۔
چند لوگوں نے اس کا اتباع کیا ہے، مثلاً امام اسحاق بن راہویہ اس کے قائل ہیں۔
اس کی مکمل تفصیل کتاب الحج میں گزر چکی ہے۔
واللہ المستعان۔
تَفَشَّعَ: پھیل گیا، عام ہو گیا۔